سوال کا متن:

''بدائ'' کيا ہے اور آپ اس کا عقيدہ کيوں رکھتے ہيں؟


وزیٹر کی تعداد: 345    گروپ کاری: علم اﻟﮩﻰ         
جواب:

عربي زبان ميں لفظ ''بدائ'' کے معني آشکار اور ظاہر ہونے کے ہيں، اسي طرح شيعہ علماء کي اصطلاح ميں ايک انسان کے نيک اور پسنديدہ اعمال کي وجہ سے اس کي تقدير و سرنوشت ميں تبديلي کو ''بدائ'' کہا جاتا ہے۔ عقيدہ بداء شيعيت کي آفاقي تعليمات کے عظيم عقائد ميں سے ايک ہے جس کي اساس وحي الہي اور عقلي استدلال پر استوار ہے۔ قرآن کريم کي نگاہ ميں ايسا نہيں ہے کہ انسان کے ہاتھ اس کے مقدرات کے سامنے ہميشہ کے لئے باندھ دئيے گئے ہوں، بلکہ سعادت کي راہ اس کے لئے کھلي ہوئي ہے، اور وہ راہ حق کي طرف پلٹ کر اپنے اچھے اعمال کے ذريعہ اپني زندگي کے انجام کو بدل سکتا ہے، اس حقيقت کو اس کتاب الہي نے ايک عمومي اور مستحکم اصل کے عنوان سے يوں بيان کيا ہے:﴿إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾(١)۔ "اور خداوند کسي قوم کے حالات کو اس وقت تک نہيں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبديل نہ کرلے۔" اور ايک جگہ فرماتا ہے:﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ﴾(٢)۔ "اور اگر اہل قريہ ايمان لے آتے اور تقوي اختيار کرليتے تو ہم ان کے لئے زمين اور آسمان سے برکتوں کے راستے کھول ديتے۔" اسي طرح حضرت يونس کي سرنوشت کي تبديلي کے بارے ميں فرماتا ہے:﴿فَلَوْلَا أَنَّهُ کَانَ مِنْ الْمُسَبِّحِينَ۔ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾(٣)۔"پھر اگر وہ تسبيح کرنے والوں ميں سے نہ ہوتے تو روز قيامت تک اسي (مچھلي) کے شکم ميں رہ جاتے۔" اس آخري آيت سے يہ بات سمجھ ميں آتي ہے کہ ظاہري اعتبار سے حضرت يونس نبي کا قيامت تک اس خاص زندان ميں باقي رہنا قطعي تھا، ليکن ان کے نيک اعمال(تسبيح پروردگار) نے ان کي سرنوشت کو بدل ديا اور انہيں اس سے نجات دلائي۔ يہ حقيقت اسلامي روايات ميں بھي بيان ہوئي ہے پيغمبر گرامي(ص)اس بارے ميں فرماتے ہيں: ''اِن الرجل ليُحرم الرزق بالذنب يصيبه ولا يرد القدر اِلا الدعاء ولا يزيد في العمر اِلا البرّ''(4)۔ "بے شک انسان گناہ کي وجہ سے اپني روزي سے محروم ہوجاتا ہے، ايسے موقع پر دعا کے علاوہ کوئي اور چيز اس کي تقدير کو تبديل نہيں کرسکتي، اور نيکي کے علاوہ کوئي اور چيز اس کي عمر کو نہيں بڑھا سکتي۔" يہ اور اس قسم کي دوسري روايتوں سے يہ بات اچھي طرح سمجھ ميں آتي ہے کہ انسان گناہ کي بدولت روزي سے محروم ہو جاتا ہے؛ ليکن اپنے نيک اعمال (جيسے دعا مانگنے) کے ذريعہ اپني سرنوشت کو بدل سکتا ہے اور نيکي کر کے اپني عمر بڑھا سکتا ہے۔ نتيجہ: قرآني آيات اور سنت پيغمبر(ص) سے استفادہ ہوتا ہے کہ اکثر اوقات ايسا ہوتا ہے کہ اس مادي دنيا کے اسباب و مسببات، اور کاموں کے ردعمل سے بھي تقدير بدل جاتي ہے،يا اوليائے خدا (جيسے نبي يا امام) انسان کو خبر دے کہ اگر اس کا طرز عمل اسي طرح رہا تو اس کا مقدر يہ ہوگا، ليکن اگر وہ يکبارگي کسي وجہ سے اپنے کردار کو سنوار لے تو اپني عاقبت کو تبديل کرسکتا ہے۔ اس حقيقت کو خدا کي وحي،پيغمبراسلام(ص) کي سنت اور عقل سليم کے فيصلوں سے درس لے کر حاصل کيا گيا ہے،اور اسے شيعہ علماء "بداء" کے نام سے ياد کرتے ہيں۔ يہاں پر اس بات کا واضح کردينا مناسب ہوگا کہ ''بدائ'' کي تعبير عالم تشيع سے مخصوص نہيں ہے، بلکہ يہ تعبير پيغمبراکرم(ص) کي احاديث اور اہل سنت کي تحريروں ميں بھي دکھائي ديتي ہے۔ نمونے کے طور پر ذيل کي حديث ملاحظہ ہو جس ميں پيغمبر اکرم(ص) نے اس کلمہ کو استعمال فرمايا ہے: ''وبداللّه عزّ وجلّ ان يبتليھم''(5)۔ اس نکتے کا تذکرہ بھي ضروري ہے کہ بداء کے يہ معني نہيں ہيں کہ خداوند کريم کے لامتناہي علم ميں کسي قسم کي تبديلي رونما ہوتي ہے، کيونکہ خداوندکريم ابتداء ہي سے انساني افعال کے فطري نتائج، اور بدا کا موجب بننے والے عوامل سے بخوبي آگاہ ہے۔ اس بات کي قرآن مجيد نے بھي خبر دي ہے:﴿يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْکِتَابِ﴾(6)۔ "اللہ جس چيز کو چاہتا ہے مٹا ديتا ہے يا برقرار رکھتا ہے کہ اصل کتاب اسي کے پاس ہے۔" لہذا خداوند کريم ظہور بداء کے وقت اس حقيقت کو ہمارے لئے آشکار کرتا ہے جو ازل ہي سے اس کے علم ميں تھي۔ اسي وجہ سے امام صادق ـ فرماتے ہيں: ''مابدا اللہ في شيء اِلا کان في علمه قبل ان يبدوله''(7)۔ "خدا وندعالم کو کسي چيز ميں بداء نہيں ہوتا ہے مگر يہ کہ ازل سے اس کو اس کا علم تھا۔" بداء کا فلسفہ: اس ميں شک نہيں کہ اگر انسان يہ جان لے کہ تقدير کو بدلنا اس کے اختيار ميں ہے تو وہ ہميشہ اپنے مستقبل کو سنوارنے کے درپے رہے گا، اور زيادہ سے زيادہ ہمت اور کوشش کے ساتھ اپني زندگي کو بہتر بنانے کي کوشش کرے گا ۔ دوسرے لفظوں ميں يہ کہا جائے کہ جس طرح توبہ اور شفاعت انسان کو نااميدي اور مايوسي سے نجات دلاتي ہے اسي طرح بداء کا عقيدہ بھي انسان کے اندر نشاط اور شادابي پيدا کرتا ہے، اور انسان کو روشن مستقبل کا اميدوار بناتا ہے،کيونکہ اس عقيدے کي روشني ميں انسان يہ جان ليتا ہے کہ پروردگار عالم کے حکم سے وہ اپني تقدير کو بدل سکتا ہے، اور ايک بہتر مستقبل حاصل کر کے اپني عاقبت سنوار سکتا ہے۔


منابع اور مآخذ:

١) سورہ رعد، آيت ١١ ٢) سورہ اعراف، آيت ٩٦ ٣) سورہ صافات، آيت ١٤٣اور ١٤٤ 4) مسند احمد، جلد ٥ ص ٢٧٧ اور مستدرک حاکم، جلد ١ ص ٤٩٣ اور اسي کي مثل ''التاج الجامع للاصول '' جلد ٥ ص ١١١ ميں ہے۔ 5) النہايہ في غريب الحديث والاثر، مؤلف مجدالدين مبارک بن محمد جزري، جلد١ ص ١٠٩ 6) سورہ رعد، آيت ٣٩ 7) اصول کافي، جلد ١ کتاب التوحيد باب البداء حديث نمبر٩ ------------------------------ ماخذ: شيعہ جواب ديتے ہيں، سيد رضا حسيني نسب، مترجم: عمران مہدي، ناشر: عالمي اہل بيت اسمبلي


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے