سوال کا متن:

اس عقيدہ کے بارے ميں شارع مقدس کي رائے کيا ہے؟ قرآني آيات کا ظاہر،نبي اور معصومين کے ليے علم ذاتي کي حتيٰ تبعيت اور پيروي کي شکل ميں بھي نفي کرتا ہے۔ اس معنيٰ ميں کہ خداوندعالم نے اپني قدرت سے پيغمبر کي ذات ميں،علم غيب کو قرار ديا ہو،جس طرح سے دوسرے تمام ملکات اور کمالات انہيں عطا فرمائے ہيں۔بلکہ پيغمبر کے علم غيب رکھنے سے مراد يہ ہے کہ انہي خاص موارد اور مواقع پر علم غيب رکھنا ہے کہ جہاں پيغمبر کو اس کي ضرورت ہو اور وحي کےذريعہ اسے عطا کيا جائے۔


وزیٹر کی تعداد: 192    گروپ کاری: غیب کا مسئلہ اور انبیاء         
جواب:

ظاہرِ آيات يہ ہے کہ علمِ غيب خداوند تبارک و تعاليٰ سے مخصوص ہے ليکن کسي بھي رسول اور امام کے ليے جب خدا کي مرضي ہو تو اس علم کو ظاہر کرديتا ہے۔ لہٰذا جس طرح سے خداوند عالم ذاتاً يا بالذات،عالم غيب ہے پيغمبر اور آئمّہ بالعرض،غيب سے آگاہي حاصل کرتے ہيں،ليکن يہ کہ کيا تمام علوم غيبي کو جانتے ہيں،ثابت نہيں ہے،بلکہ اس کا برعکس سمجھ ميں آتا ہے کيوں کہ روايات سے يہ ظاہر ہوتا ہے کہ خداوندعالم نے ان علوم ميں سے بعض کو اپنے آپ سے مخصوص قرار ديا ہے اور کسي کو بھي اس سے مطلع نہيں کرتا۔ ليکن کيوں کہ پيغمبر اور آئمہ اشرف المخلوقات ہيں اس فضيلت اور ان حضرات کے عالي مرتبہ کي وجہ سے،خداوندعالم اکثر علوم غيبي کو ان کے اختيار ميں قرار ديتا ہے:﴿قُلْ کَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً بَيْنِي وَ بَيْنَکُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ‌﴾﴿الرعد، 43﴾۔"کہہ ديجئے: ميرے اور تمہارے درميان گواہي کے ليے اللہ اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے کافي ہيں"۔ صحيح تفاسيرِ اور رواياتِ متضافر کي مطابق جس کے پاس کتاب کا علم ہے،اس سے مراد حضرت امير المؤمنين (عليہ السلام) ہيں۔ آپ کي عظمت اور وسيع علم اس وقت پوري طرح سے ظاہر ہوتا ہے جب اس کا موازنہ آصف ابن برخيا سے کيا جائے۔آصف نے صرف علم الکتاب ميں سے کچھ حصّہ سے فائدہ اٹھايا تھا تو وہ اس سے ايک حيرت انگيز کام يعني تخت بلقيس کو حضرت سليمان (عليہ السلام) کي خدمت ميں حاضر کرنے ميں کامياب ہوسکے ۔ جبکہ اميرالمؤمنين (عليہ السلام)،اس آيت کي تعبير کي بنياد پر،تمام علم الکتاب کو رکھتے ہيں۔ آئمّہ (عليہم السلام) کا علم غيب رکھنا صرف ان مقامات تک محدود نہيں ہے جب انہيں اس کي ضرورت ہو يا وہ کسي مشکل ميں مبتلا ہوں اور کس طرح سے محدود ہوسکتا ہے جبکہ اميرالمؤمنين(عليہ السلام)نے لوگوں کے درميان يہ اعلان کيا:"سلوني قبل ان تفقدوني "۔ "جو بھي چاہتے ہو مجھ سے پوچھو،اس سے پہلے کہ ميں تمہارے درميان نہ رہوں"۔ آپ کا يہ جملہ کيا بے انتہا علم جو اس سمندر کي طرح ہے جس ميں مسلسل جوش ہو اور اس ميں ٹھہراؤ نہ آئے، اس پر دلالت نہيں کر رہا؟


منابع اور مآخذ:

ماخذ: www.shahroudi.com


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے