سوال کا متن:

وہابيوں نے اوليائے الٰہي سے استعانت کي حرمت اور استغاثہ کے شرک ہونے پر چند دلائل سے تمسک کيا ہے، مثال کے طورپر کہتے ہيں: جو شخص اوليائے الٰہي سے استغاثہ کرتا ہے وہ ان کے علم غيب کا معتقد ہوتا ہے جبکہ علم غيب خداوندعالم سے مخصوص ہے۔ ان کے جواب کو بيان کيجئے۔


وزیٹر کی تعداد: 178    گروپ کاری: غیب کا مسئلہ اور انبیاء         
جواب:

علم غيب اوليائے الٰہي (چاہے رسول ہو يا امام) کے لئے نہ صرف ممکن ہے بلکہ علم غيب ان کے لئے ضروري ہے، جس کے بارے ميں ہم نے ايک مستقل کتاب لکھي ہے، اسي طرح مردوں کي برزخي حيات اور ان کا دنيا سے رابطہ خصوصاً اوليائے الٰہي کے بارے ميں ثابت ہے۔ حافظ ہيثمي نے مجمع الزوائد ميں صحيح سند کے ساتھ انس بن مالک سے نقل کيا ہے کہ رسول اکرم نے فرمايا: انبياء اپني قبروں ميں زندہ ہوتے ہيں اور نماز پڑھتے ہيں(1)۔ اسي طرح پيغمبر اکرم(ص)نے فرمايا: ميرا علم، ميري وفات کے بعد بھي ميري زندگي کي طرح ہے(2)۔ دارمي نے اپني سند کے ساتھ سعيد بن عبد العزيز سے نقل کيا ہے کہ وہ نماز کے وقت قبر پيغمبر سے نکلنے والي تسبيح و تہليل کي آواز کو سنتے اور پہچانتے تھے(3)۔


منابع اور مآخذ:

1) مجمع الزوائد، ج ۸، صفحہ ۲۱۱۔ 2) کنزالعمال، ج۱، صفحہ ۵۰۷ رقم حديث۲۱۸۱۔ 3) سنن دارمي، ج۱، صفحہ۵۴، رقم ۹۳۔ ------------------------------ ماخذ: www.sadeqin.com


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے