سوال کا متن:

کيا زيارت عاشورا ميں 100 بار لعن اور سلام کي تکرار کي بجائے 1 بار لعن کے بعد أَللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ جَميعاً تِسْعاً وَتِسْعينَ مَرَّةً اور 1 بار سلام کے بعد اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَيْنِ وَعَلى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَعَلى أَوْلادِ الْحُسَيْنِ وَعَلى أَصْحابِ الْحُسَيْنِ تِسْعاً وَتِسْعينَ مَرَّةً کہنا کافي ہے؟


وزیٹر کی تعداد: 313    گروپ کاری: زیارت عاشورا         
جواب:

بسم اللہ الرحمن الرحيم 1۔ ہم جانتے ہيں کہ مستحبات ميں عام قاعدہ "تعدد مطلوب" کا ہے، جس کا مطلب يہ ہے کہ خود عمل (مثلا زيارت عاشورا پڑھنا) شارع مقدس کے لئے ايک مطلوب عمل ہے اور اس کي کيفيت اور ادائيگي (مثلا بعض حصوں کو سو بار دہرانا يا انہيں خاص اوقات اور جگہ انجام دينا وغيرہ) دوسرا مطلوب ہے۔ اس لئے (جيسا کہ آپ نے خود لکھا ہے) آپ ايک بار لعنت بھيج کر يا ايک بار سلام کرکے اس کے بعد "مآۃ مرۃ" کي عبارت پڑھ سکتے ہيں يا حتي کہ يہ جملہ کہنے کي بھي ضرورت نہيں ہے؛ خاص طور پر اس جگہ جب اس کو سو مرتبہ تکرار کرنے کے لئے آپ دلي رغبت محسوس نہ کررہے ہوں اور جب آپ کو يہ محسوس ہورہا ہو کہ اسے بار بار دہرانا قساوت قلب کا باعث بن سکتا ہے اور اس کے الٹے اثرات مرتب ہوسکتے ہيں۔ 2۔ اس کے علاوہ روز عاشورا کے بارے ميں وارد ہونے والي بعض زيارات ميں تکرار پر مشتمل جملے موجود نہيں ہيں: (ا) اس لئے مفاتيح الجنان ميں غير معروف زيارت عاشورا کا ذکر کرنے کے بعد محدث قمي فرماتے ہيں: 'يہ ذيارت بھي اجر و ثواب ميں زيارت عاشورائے معروف اور متداول کے ساتھ شريک ہے۔ بغير کسي تکليف کا سبب بنے سو بار لعنت اور سو بار درود بھيجنا اور اس ميں ان لوگوں کے لئے جو اہم کام رکھتے ہيں، عظيم کاميابي پوشيدہ ہے۔(۲) 3۔ زيارت عاشوراء سے متعلق بعض روايات کے شروع ميں يوں آيا ہے: " أومأ إليه بالسلام واجتهد في الدعاء علي قاتله...": امام عليہ سلام پر درود بھيجے اور ان کے قاتلوں پر نفرين کرنے کي سعي کرے۔۔۔ (۳) بعض لوگوں نے اس روايت سے يہ استفادہ کرنے کي کوشش کي ہے کہ تين يا چار مرتبہ لعنت بھيجنا کافي ہے ليکن ايک يا دوبار لعنت بھيجنے پر لفظ "اجتہاد يا تلاش" کا اطلاق نہيں ہوتا۔ يقيناً مکمل اجتہاد وہي ہے جو اکثر نسخوں ميں مذکور ہے يعني "سو بار"۔ ۴۔ ايک اور اہم نکتہ يہ ہے کہ: پہلے حصہ کے مطابق زيارت عاشورا ميں مذکور لعنت ارو درود کو ايک ہي جگہ اور ايک ہي مجلس ميں سو بار دہرانا ضرور نہيں ہے بلکہ اسے وقفے وقفے سے پورے دن کے دوران ادا کيا جاسکتا ہے يعني صبح جب ہم زيارت عاشورا شروع کريں تو جس وقت "لعنت" والے حصے ميں پہنچيں، پورے دن کے دوران اسے وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا کرکے پڑھتے رہيں، يہاں تک کہ سلام و درود کي نوبت آئے، اسے بھي وقفے وقفے سے پڑھيں اور پھر زيارت کا بقيہ حصہ پڑھ کر آخر ميں زيارت کي دو رکعات نماز ادا کريں۔ (۴) 5- مرحوم علامہ اميني (رحمۃ اللہ عليہ) کتاب "الصدف" ميں مولا شريف شيرواني سے اور شيرواني اپنے جليل القدر مشائخ سے امام علي بن محمد الہادي عليہ السلام کي سند کے ساتھ روايت کرتے ہيں کہ امام عليہ السلام نے فرمايا: "جو شخص بھي زيارت عاشورائے مشہورہ ميں مذکور "لعنت" ايک بار پڑھے اور پھر ننانوے بار کہے: " اللّهم العَنهُم جَميعاً"، اس کي مثال اس شخص کي ہے جس نے اسے سوبار دہرايا ہو اور جو کوئي (سلام و درود) کو ايک بار پڑھے اور ننانوے بار کہے: "السّلام علي الحسين و علي عليّ بن الحسين و علي اولاد الحسين و علي اصحاب الحسين"، اس شخص کے مانند ہے جس نے اسے شروع سے لے کر آخر تک سو بار پڑھا ہو۔" (۵)


منابع اور مآخذ:

1۔ رجوع کريں: ابن طاووس علي بن موسي؛ مصباح الزائر؛ موسسہ آل البيت لاحياء التراث؛ قم، ايران، صفحہ نمبر ۲۷۸ 2۔ رجوع کريں: مفاتيح الجنان، باب زيارات، ساتواں باب؛ عاشورا کے دن امام حسين عليہ السلام کي زيارت 3۔ العراقي عبدالنبي؛ الکنز المخفي؛ دار الصديقہ الشہيدہ؛ الطيعۃ الاولي، صفحہ نمبر ۱۴۷؛ نيز ديکھيں: الطوسي محمد بن حسن؛ مصباح المتہجد؛ موسسہ فقہ الشيعہ، بيروت ۱۴۱۱ہجري، صفحہ نمبر ۷۷۲ ۴۔ ہرچند بعض فقہا کا ماننا ہے کہ اگر اس سے عرفي موالات اور تسلسل ميں خلل پڑے تو ضرور ي ہے کہ اسے شروع سے پڑھا جائے۔ رجوع کريں: الکلباسي ابي المعالي محمد بن محمد ابراہيم؛ شرح زيارت عاشوراء؛ تحقيق: يوسف احمد الاحسائي؛ دار الصديقہ الشہيدہ، الطبعۃ الاولي، صفحہ نمبر ۱۶۱ ۵۔ اميني عبدالحسين؛ ادب الزائر لمن يمم الحائر؛ ترجمہ، تحقيق و تعليق: محسن رجبي (آداب کوئے جاناں)؛ ف: زيارت عاشوراء؛ نيز ديکھيں: شريف شيرواني حاج مولي محمد الصدف المشحون بانواع العلوم و الفنون"، ج ۲، صفحہ نمبر ۱۹۹؛ الذريعۃ، جلد نمبر ۱۵، صفحہ نمبر ۲۹ جو اسي کتاب سے منقول ہے؛ "شفاء الصدور في شرح زيارۃ العاشور"، صص ۱۱۰ اور ۱۱۱۔ -------------------------------- گروه پاسخ‏گويي سايت پرسش و پاسخ پورتال اهل‏بيت (عليهم‏السلام) www.abp-miftah.com


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے