سوال کا متن:

عثمان مروندي المعروف لال قلندر کوں تھے؟ کيا يہ شيعہ تھے اور تاريخ اسلام ميں ان کا کيا کردار تھا؟


وزیٹر کی تعداد: 292    گروپ کاری: شخصیت شناسی         
جواب:

بسم اللہ الرحمن الرحيم ۱۔ اس کي شخصيت کا مطالعہ مختلف پہلوؤں سے کيا جاسکتا ہے؛ جيسے اس کي ادبي شخصيت، اس کي معنوي اور عرفاني شخصيت، اس کا دين و مذہب، اس کے طرفدار اور وہ تمام کام اور امور جو اس کے مزار کے پاس انجام ديے جاتے ہيں۔ ۲۔ سيد عثمان مروندي، ملقب بہ لعل (لال اور لعل دونوں مترادف الفاظ ہيں اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ "لعل" لفظ "لال" کا عربي مترادف ہے۔ دہخدا، آنندراج کي کتاب سے نقل کرتے ہوئے جبکہ آنندراج رسالہ خواص الجوہر سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہيں: "پرانے زمانے ميں "لعل" کا لفظ نہيں تھا، پھر ايک زلزلہ آيا اور اس کے نتيجے ميں پہاڑ گرا اور اس کے اندر سے لعل ظاہر ہوئے جو سات مختلف رنگوں ميں موجود ہے اور ان ميں بہترين گوہر وہ ہے جس کا رنگ "رماني" (يعني انار کي طرح سرخ) ہے۔ لعل کو لال اسي لئے کہتے ہيں کيونکہ يہ سرخ رنگ کا ہوتا ہے۔ اسي طرح لالہ اور لالکا ہيں جس کي اصلي شکل لال لکا تھي يعني سرخ چمڑا۔ اسي طرح "لالس" (جو خاص قسم کا سرخ ريشمي کپڑا ہے) اصل ميں لال لاس جو مذکورہ "لال" اور "لاس" سے مل کر بنا ہے۔ لاس ايک خاص قسم کا ريشم ہے جو ريشم کي دوسري اقسام سے درجے ميں کمتر ہوتا ہے۔ (ا) شہباز قلندر سن ۵۸۳ ہجري ميں آذربائجان کے شہر مرند ميں پيدا ہوئے۔ ان کا تعلق سادات گھرانے سے ہے اور ان کا نسب "نو" پشتوں کے بعد اسماعيل بن امام صادق عليہ السلام سے جاملتا ہے (اگرچہ محققين کے درميان اس بارے ميں اختلاف ہے اور بعض محققين نے "بارہ پشتيں" لکھا ہے۔) (۲) بعض کے نزديک امام صادق عليہ السلام تک جاپہنچتا ہے۔ (۳) اس لئے سرور لاہوري انہيں حسيني سادات شمار کرتے ہيں۔ (۴) بعض محققين انہيں اصل ميں سندھ سے خيال کرتے ہيں۔ (۵) جبکہ بعض کا خيال يہ بھي ہے کہ ان کي ولادت مروند يا ميمند ميں ہوئي ہے جو ہرات ميں ايک علاقہ ہے۔ (۶) البتہ ان تمام اقوال ميں سے ايران کا مرند زيادہ مشہور ہے اور اس کي تصديق يوں بھي ہوتي ہے کہ انہوں نے نہ صرف فارسي بلکہ ترکي ميں بھي اشعار کہے ہيں جو ہم تک نہيں پہنچ سکے ہيں۔ (۷) ۳۔ اپنے وطن ميں ابتدائي تعليم حاصل کرنے اور صرف چھ سال کي عمر ميں عربي اور فارسي زبانوں پر مکمل دسترس پانے اور قرآن حفظ کرنے کے بعد اپني تعليم مکمل کرنے کي غرض سے انہوں نے نيشابور کا رخ کيا جہاں انہوں نے عظيم استاد سيد ابراہيم ولي کربلائي زانوئے تلمذ خم کيا۔ تعليم مکمل کرنے کے بعد آٹھويں امام عليہ السلام کي زيارت کي غرض سے مشہد تک پاپيادہ سفر کيا اور وہاں سے دوسرے ائمہ عليہم السلام کي زيارت کي غرض سے عراق چلے گئے۔ اس کے بعد وہ خانہ خدا اور پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي قبر مبارک کي زيارت کے لئے چلے گئے۔ واپسي پر عراق ميں ايک مختصر قيام کے بعد دوبارہ امام رضا عليہ السلام کي زيارت کے لئے مشہد چلے گئے۔ اس کے بعد بلوچستان اور سندھ سے ہوتے ہوئے ہندوستان پہنچ گئے۔ پورے سفر کے دوران انہوں نے سلسلہ تصوف کے بزرگوں سے ملاقاتيں کيں اور ان سے کسبِ فيض کيا۔ ہندوستان ميں اجمير شہر ميں تقريباً چاليس دن تک مسلسل رياضت کي اور ہر روز شام سے لے کر اگلي صبح تک خواجہ معين الدين چشتي (برصغير پاک و ہند ميں طريقہ چشتيہ کے سرخيل جو سن ۵۳۷ ہجري قمري ميں پيدا ہوئے اور سن ۶۳۲ ہجري قمري ميں وفات پائي) کي خدمت ميں حاضري ديتے اور ان سے تصوف کي تعليم پائي)۔ اس کے بعد واپس دہلي چلے گئے اور وہاں خواجہ قطب الدين بختيار کاکي (وفات: ۶۳۴ ہجري قمري۔ ان کا تعلق حسيني سادات سے تھا اور وہ معين الدين چشتي کے نائب تھے۔ ظاہري طور پر خواجہ بخيتار کاکي موت کے بعد بھي سالکين کي دستگيري ميں شہرہ آفاق تھے۔ (۷)) کے مزار پر حاضر ہوئے اور ان سے اجازت پائي کہ کرنال ميں پاني پت کا رخ کريں اور وہاں جاکر بو علي قلندر (متوفي: ۷۲۴ ہجري قمري) سے ملاقات کريں۔ بوعلي نے ان کي بہت آؤبھگت کي اور ان سے بے حد وابستہ ہوگئے۔ نتيجہ يہ برآمد ہوا کہ بوعلي بھي ان سے سلوک کے رمور سيکھيں۔ ايک دن بوعلي نے ان کي تائيد اور حوصلہ افزائي کے لئے انہيں حکم ديا کہ وہ سندھ جائيں اور راستے ميں ملتان ميں بھي کچھ توقف کريں کيونکہ وہاں کے لوگوں کو ان کے وجود کي ضرورت تھي۔ وہ اپنے سفر کے دوران ملتان چلے گئے اور صوفيان کے حلقے ميں داخل ہوگئے اور بڑے بڑے عارفوں جيسے شيخ بہاد الدين زکريا ملتاني (متوفي: ۶۶۶ ہجري قمري۔ جو ہندوستان ميں طريقہ سہرورديہ کے باني اور سہروردي کے شاگرد تھے)، شيخ فريدن الدين گنج شکر (متوفي: ۶۶۴ ہجري قمري)، شيخ جلال الدين بخاري اور شيخ صدر الدين عارف (بہاء الدين زکريا کے بيٹے) سے ملاقاتيں کيں۔ وہ ملتان ميں تقريبا تيرہ سال تک رہے اور يہاں کے بزرگوں سے کسبِ فيض کرتے رہے۔ اسي طرح وہ دس سال سے زيادہ عرصے تک سلسلہ تصوف کے بزرگوں سے بحث اور مباحثے کرتے رہے اور سلسلہ سہرورديہ کے بزرگ عرفا کے فيوض سے کسبِ فيض کرتے رہے۔ اس طرح آخرکار ملتان ميں کافي عرصہ گزارنے کے بعد سندھ کے لئے عزم سفر کيا (۶۴۹ ہجري قمري) (۹)۔ يقيناً ان کے کچھ اور اساتيد کا تذکرہ بھي ملتا ہے، جن کي طرف ہم آخر ميں اشارہ کريں گے۔ ۴۔ جيسا کہ آپ نے ان کي زندگي کے حالات کے حصے ميں ديکھا، انہوں نے مختلف عرفا اور مختلف سلسلوں سے استفادے کئے ہيں۔ ملتان ميں ان کے اساتيد کا تعلق فرقہ سہرورديہ سے تھا اس لئے کچھ لوگوں نے کوشش کي ہے کہ ان کے توسط سے فرقہ سہروريہ کو امام صادق عليہ السلام سے متصل کريں (۱۰)۔ يہاں تک کہ بعض لوگوں کے خيال ميں وہ سلسلہ سہرورديہ لعل شہبازيہ کے باني تھے (۱۱)۔ دوسري طرف ہم نے يہ بھي ديکھا کہ انہوں نے اجمير ميں معين الدين چشتي سے کسبِ فيض کيا۔ اس لئے بعض لوگ انہيں طريقہ چشتيہ ميں جلالي شاخ کا باني خيال کرتے اور انہيں سلسلہ چشتيہ کے عظيم عرفاء ميں شمار کرتے ہيں۔ حافظ محمد مطيع انہيں فرقہ شہبازيہ کا باني خيال کرتا ہے اور شہبازيہ کو بخاريہ سلسلے (يہ لوگ مخدوم جہانياں کے لقب سے مشہور قطب کبير سيد جلال الدين احمر حسين بن احمد حسين بخاري کے پيرو تھے) کي ايک ذيلي شاخ خيال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ بھي سندھ کے ايک گاؤں ميں مدفون سيد لال شہباز غريب نواز کے منسوبين ميں سے تھے۔ (۱۲) ۵۔ تمام تذکرہ نويسوں کو اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ وہ وادي عرفان کے بزرگوں ميں سے تھے اور روحاني طاقت کے اعتبار سے اس مقام پر پہنچ گئے تھے کہ لوگوں نے ان سے کرامات ديکھي ہيں۔ "شہباز" کا لقب (جو انہيں پيرو روشن ضمير بہاء الدين زکريا ملتاني (۱۳) نے انہيں ديا تھا (۱۴)) خود اس بات کي علامت ہے کہ وہ سير و سلوک کے اعتبار سے اس مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں وہ ايک شاہين کي طرح توحيد کے آسمانوں کي سير کرتے تھے، جبکہ "لعل" کي صفت کي وجہ بھي شايد يہ ہو کہ وہ ہميشہ سرخ لباس پہنتے تھے (اس سبز لباس کے برخلاف جو اہل روم پہنا کرتے تھے)۔ ساتھ ہي ساتھ يہ بات ان کي اہميت کو بھي ظاہر کرتي ہے (۱۵)۔ کچھ لوگ کہتے ہيں کہ وہ جو کچھ کہتے تھے، اس پر عمل کرتے تھے، اس لئے انہيں "سيف اللسان" کہا جاتا تھا (۱۶)۔ سہوان کے اطراف ميں ايسي بہت سي پہاڑياں ہيں جن کے بارے ميں مشہور ہے کہ لعل شہباز وہاں جاکر چلہ کاٹتے اور رياضت کرتے تھے (۱۷)۔ ۶۔ آخرکار اپنے متعدد سفروں اور مشايخ سے بہرہ منديوں کے بعد انہوں نے اپني زندگي کے آخري چہ سال سہوان ميں گزارے جس کا شمار صوبہ سندھ کے سب سے قديم علاقوں ميں ہوتا ہے۔ وہاں آپ نے علم و عرفان کي کلاسوں کا اجرا کيا۔ يہاں انہوں نے دين اسلام کي ترويج اور زبان فارسي کي تعليم دي اور علاقے کو ايک ثقافتي اور عرفاني مرکز ميں بدل ديا؛ يہاں تک کہ تمام لوگ يکساں طور پر ان کے کلام کي قوت سے سرمست ہوجاتے اور ان ميں ديني و اخلاقي اصولوں کي صحيح دريافت اور اس بارے ميں ان کي دانائي اور معلومات کو ديکھ کر بے حد متاثر ہوجاتے تھے۔ ان کا مسلک بھي اپنے عظيم اساتذہ کي طرح وحدت الوجوديت کا مسلک ہے، جو ان کے اشعار سے بھي پوري طرح ظاہر ہے: شهباز لامکانم، من در مکان نگنجم عنقاي بي‌نشانم، من در نشان نگنجم من آن دُرّم که در بحر جلال‌الله بودستم به کوه طور با موسي کليم‌الله بودستم گهي زنار مي‌بستم،‌گهي قرآن مي‌خواندم گهي در مذهب ترسا، گهي محنت کشيدستم دوصد جامه کهن کردم، لباس فقر پوشيدم بر آن برجي که من هستم، هزاران يک رسيدستم به اسماعيل پيغمبر، به ابراهيم بن‌آذر در آن سر وقت قرباني به قربانگاه بودستم ايا ملا مکن ظاهر سر اسرار مردان را ندانستي ندانستي که سرالله بودستم (ترجمہ: ميں شہباز لامکاں ہو اور عالم امکان ميں نہيں سما سکتا، ميں وہ بے نشاں عنقا ہوں جس عالم پيدائي ميں نہيں سما سکتا۔ ميں وہ گوہر ہوں جو اب تک جلال اللہ کے سمندر ميں پڑا ہوا تھا اور ميں کوہ طور پر موسي کليم اللہ کے ساتھ رہا ہوں۔ ميں کبھي زنار باندھتا تھا اور کبھي قرآن پڑھتا تھا۔ کبھي عيسائيوں کے مذہب پر تھا تو کبھي زحمتيں اٹھاتا تھا۔ ميں نے دو سو کپڑے بدلے ہيں اور فقر کا لباس زيب تن کيا ہے۔ جس برج پر ميں کھڑا ہوں، وہاں ہزاروں ميں صرف ايک پہنچ سکا ہے۔ مجھے اسماعيل پيغمبر (ع) کي قسم، مجھے ابراہيم بن آذر (ع) کي قسم کہ ان کي قرباني کے وقت ميں وہيں قربانگاہ ميں موجود تھا۔ اے ملا! مردوں کے اسرار کا راز مت ظاہر کر تو کبھي نہ جان سکا، تو کبھي نہ جان پايا کہ ميں اللہ کا راز تھا۔) اسلام کي روشني ان کي خانقاہ سے سندھ کے کونے کونے تک پہنچتي رہي اور لوگ اسلام ہر گرويدہ ہوتے چلے گئے۔ زندگي کے آخري دنوں ميں گوشہ نشيني اختيار کرلي اور اپنا سارا وقت عبادت اور ذکر خدا ميں گزارنے لگے۔ اسي عالم ميں ۲۱ شعبان ۶۷۳ ہجري کو دنيا سے کوچ کيا (بعض لوگوں کے خيال ميں ان کي تاريخ وفات ۶۵۰ ہجري قمري ہے (۱۸)) اور اپنے ہي حجرے ميں دفن ہوئے۔ وفات سے قبل بيہوشي کے عالم ميں تھے۔ پھر اچانک ہوش ميں آئے اور کہا: "کوئي ميرا دوست نہيں ہے۔ دونوں عالم بھي ميرے دوست نہيں بن سکتے۔ ميري اميد صرف خدا، پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اہلبيت عليہم السلام سے ہے۔" اس کے بعد انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہا: "اے خدا! ميں تيرا گنہگار بندہ ہوں اور تيري طلب کا طلبگار بھي۔ ميں نے تيرا پسنديدہ دين اسلام قبول کيا اور اس پر سختي سے کاربند رہا۔ اے اللہ! اگر اس راہ ميں مجھ سے کوئي کوتاہي ہوئي ہو تو اس کے لئے ميں تيري بخشش کا طلبگار ہوں۔ ميري کوتاہيوں سے درگذر کر اور ميري دعا قبول فرما۔" پھر انہوں نے اپني آخري سانس لي اور ان کي روح ملکوت اعلي کي طرف پرواز کرگئي (۱۹)۔ ہر سال جشن قلندر ۱۶ سے ۲۰ شعبان کو ان کے مزار کے پاس منايا جاتا ہے اور ان کے ارادتمندوں کا ايک ريلا ان کے مزار کي طرف بہا چلا آتا ہے (۲۰)۔ ۷۔ بطور ادبي شخصيت: لال شہباز قلندر نے توحيد کے بارے ميں بے حد خوبصورت اشعار کہے ہيں۔ شاعري ميں ائمہ عليہم السلام کي تعريف و تمجيد کرنا بھي قلندروں کے درميان رائج ايک عام روش ہے جس سے لعل شہباز بھي کسي طرح مستثني نہيں ہيں۔ امام علي عليہ السلام کي تعريف ميں انہوں نے اشعار کہہ رکھے ہيں۔ کتاب "عشقيہ" اشعار ان سے منسوب ہے (۲۱)۔ ۸۔ ان کا مذہب: اگرچہ صوفيا عام طور پر کلامي اور فقہي بحثوں سے دور رہتے ہيں اور ہر ايک اپنے حال اور ماحول کے مطابق، جہاں اس کي پرورش ہوئي ہوتي ہے، کسي خاص مذہب کي طرف تمائل رکھتے ہيں۔ چونکہ برصغير ميں سہرورديہ فرقے کے پيروکاروں، فقہي حوالے سے چشتيہ فرقے کے پيروکاروں کي طرح زيادہ تر حنفي مذہب سے تعلق رکھتے تھے، اس لئے ممکن ہے لعل شہباز بھي حنفي مسلک سے تعلق رکھتے ہوں (۲۲) ليکن يہ بات بھي ذہن ميں رکھني چاہيے کہ اس زمانے ميں شيعہ مذہب کي طرف ميلان کا رواج پيدا ہوچکا تھا۔ چنانچہ اوچ (جہاں مخدوم جہانياں رہتے تھے) ميں بھي ايسے ميلانات پيدا ہوچکے تھے، يہاں تک کہ صديوں بعد تک بھي اٹھارويں صدي کے اختتام ( = بارھويں صدي ہجري قمري) پر مخدوم جہانياں کي خانقاہ کے بانيوں نے اچ ميں اعلان کيا کہ انہوں نے اثنا عشري مذہب قبول کرليا ہے (۲۳)۔ ۹۔ اس معروف عارف کي زندگي کے بارے ميں جنجالي ترين بحثوں ميں سے ايک بحث يہ ہے کہ کچھ لوگ انہيں ملامتيہ اور قلندريہ صوفي (۲۴) گردانتے ہيں۔ يہ لوگ کہتے ہيں کہ وہ ظاہري طور پر زيادہ مذہب کا پابند نہيں تھا اور اس کي وجہ ان لوگوں کے خيال ميں يہ ہے کہ اس طرح وہ اپنے نفس کو مہار کرنا چاہتے تھے تاکہ اس طرح لوگوں کے درميان انہيں کوئي خاص مقام حاصل نہ ہوپائے۔ اس لئے يہ نقل کيا جاتا ہے کہ وہ عام طور پر سرخ لبا پہنتے تھے اور بعض لوگوں نے تو يہاں تک کہہ ديا ہے کہ وہ منشيات استعمال کرتے تھے (۲۵) اگر يہ قول صحيح ہو تو صوفيوں کے سربراہوں کي نظر ميں انہوں نے ايک قبيح عمل انجام ديا ہے۔ اس ميں کوئي شک و شبہ نہيں کہ جاہل صوفيا ميں سے ايک گروہ ايسا تھا جو شرع مقدس کي بالکل بھي پابندي نہيں تھا۔ خواجہ عبداللہ انصاري نے حمدون قصار (جو ايک بڑے صوفي اور ملامتيہ فرقے کے باني تھے) کے مذہب اور مذہبي امور کي پابندي کے بارے ميں ايک قصہ بيان کرنے کے بعد کہتے ہيں: "ان کي سيرت اور روش ہميشہ سے ايسي ہي رہي ہے۔ اب ايک گروہ نے مذہبي دستورات سے بے اعتنائي اور اباحہ گري اور خداوند عالم کے احکام سے متعلق بے ادبي اختيار کرلي ہے اور اس کا نام "ملامت گري" رکھا ہے، حالانکہ ملامت کا اصل مفہوم يہ ہے کہ خدا کے امور کے بارے ميں کوئي بندوں سے خوف نہ کھائے اور نڈر ہو (۲۶)۔ وہ بات جس کا سمجھنا بے حد دشوار ہے، يہ ہے کہ لعل جيسے شخص، جن کے بارے ميں اتنے کمالات اور کرامات نقل ہوئے ہيں اور جو اتنے بڑے مشائخ کي صحبت ميں رہے ہيں، کس طرح شريعت مقدس کے دستورات سے متعلق بے اعتنائي برت سکتے ہيں۔ يہاں دو سوالات جنم ليتے ہيں: يہ کہ ان ميں يہ قلندري اور لا ابالي پن کي يہ کيفيت کہاں سے اس ميں رسوخ کرگئي ہے؟ کيا يہ انہيں ان کے اساتيد سے ميراث کے طور پر ملي ہے؟ يا خود ان کي شخصيت اور ذات کي پيداوار ہے؟ دوسري بات يہ کہ ان کي کرامات اور ان کے بارے ميں ہونے والي نادر تعريفوں (جن ميں سے بعض کي طرف ہم پہلے ہي اشارہ کرچکے ہيں) کو نظر ميں رکھتے ہوئے کيا يہ بات ممکن نظر آتي ہے کہ حضرت حق کا شہودي عراان، شرعي احکامات سے بے مبالاتي کے ساتھ سازگاري رکھتا ہو؟! پہلے سوال کے جواب ميں کہنا چاہيے کہ انہوں نے يہ روحيہ چشتي اور سہروردي مشايخ سے اخذ نہيں کيا کيونکہ عام طور پر چشتي او سہروردي صوفيا پوري طرح شريعت کے پابند تھے اور ان کا تصوف خانقاہي نوع کا تھا جسے آج کي اصطلاح ميں کلاسيکي تصوف کہا جاتا ہے۔ (مثال کے طور پر معين الدين نے اپنے بيانات ميں شريعت اور اس کے جزئيات اور دقائق کي رعايت پر تاکيد کي ہے۔) (۲۷) چشتيہ اور سہرورديہ صوفي (جو برصغير پاک و ہند ميں اپنے زمانے کے اہم ترين مشائخ ميں شمار ہوتے تھے) اپني خانقاہوں ميں شہاب الدين سہروردي کي "عوارف المعارف" پڑھاتے تھے اور سہروردي نے اس کتاب ميں مذہب اور شريعت کي پيروي اور اس پر کاربند رہنے پر بے حد تاکيد کي ہے۔ ہرچند ان کے بے شمار سفر اور گمنام مشائخ سے ملاقاتوں کو ذہن ميں رکھتے ہوئے ان کے بارے ميں يقين سے کچھ کہا نہيں جاسکتا ہے ليکن چوکہ ان کے دو اساتيد (يعني علي قلندر پاني پتي (۲۸) اور جمال مجرد ساوجي (۲۹) قلندري ميلانات رکھتے تھے، جس کي روشني ميں يہ اندازہ لگانا زيادہ مشکل نہيں رہتا کہ ان کے قلندري ميلانات کا سرچشمہ کہاں سے پھوٹا تھا، خاص طور پر يہ ديکھنے کے بعد کہ لعل شہباز نے ايام شباب ميں ہي (جس ميں انسان چيزوں سے فورا متاثر ہوجاتا ہے) جمال مجرد سے ملاقات کي تھي (۳۰)، اس لئے انہوں نے اپنے استاد بہاء الدين ملتاني کي طريقت (يعني سہرورديہ طريقت) کو قلندري سے بھي مخلوط کرديا (۳۱)۔ بہرحال وہ اور ان کے ہم عصر فخر الدين عراقي اور راجو قتال (جلال الدين بخاري کا بھائي) اپنے دور کے مشہور و معروف سہرورديہ قلندروں ميں شمار ہوتے تھے (۳۲)۔ ليکن دوسرے سوال کا جواب ديتے ہوئے ممکن ہے کہ ہم اس دعوے کا انکار کرديں اور اس طرح خزينۃ الاصفيا کي روايت پر سواليہ نشان لگائيں اور کہيں کہ يہ مخصوص اور نادر روايت تاريخي شواہد سے ہم آہنگي نہيں رکھتي، کيونکہ ان سے صادر ہونے والي بيشمار کرامات کي وجہ سے لوگ جوق در جوق ان کے مريد بنتے چلے گئے۔ يہاں تک کہ موت کے بعد بھي بے شمار لوگ ان کے مريد بنے (۳۳)۔ اس کے علاوہ، بعض اقوال کي روشني ميں اہل فحشا ميں سے بے شمار لوگوں نے ان کے ذريعے اپنے گناہوں سے توبہ کي ہے اور خداوند عالم کي بندگي کرنے لگے۔ يہ امر بھي اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ احکام شرعي پر پوري طرح کاربند اور پابند تھے (۳۴)۔ يہ بھي ممکن ہے اگر ہم کہيں کہ ذکر خدا ميں ڈوبے رہنے اور اس سے حاصل ہونے والي سرمستي کي وجہ سے وہ شرعي دستورات کي طرف زيادہ توجہ نہ دے پاتے ہوں (۳۵)۔ اگرچہ يہ جواب کچھ زيادہ قانع کنندہ نہيں ہے۔ ايک اور جواب يہ ہے کہ فقہ حنفي ميں "خمر" وہ واحد چيز ہے جس کي حرمت مسلمہ طور پر ثابت شدہ ہے۔ ابو حنيفہ اور اس کا شاگرد ابو يوسف نے "خمر" اور ديگر نشہ آور چيزوں کے درميان مختلف حوالوں جيسے لہو و لعب کا قصد کئے بغير ان ميں سے بعض چيزوں کے استعمال کے درميان روا رکھا ہے، اگرچہ حنفيوں کے درميان قابل قبول ان کا وہي مشہور فتوي ہے (۳۶)۔ دوسروں کے برخلاف، ابو حنيفہ نے "خمر" کي تعريف ميں بھي گيرائي (= اشتداد)، مست کرنا (= اسکار) اور جھاگ پيدا ہونا (= ازياد) کے شرائط کا ذکر کيا ہے (۳۷) اور ہم پہلے ہي اشارہ کرچکے ہيں کہ سہرورديہ اور چشتيہ ہندوستان ميں عام طور پر (اپنے فقہي مسائل ميں) ابو حنيفہ کے پيروکاروں ميں سے تھے۔ اس لئے کچھ بعيد نہيں ہے کہ وہ ابو حنيفہ کے فتوا کے مطابق اور اس کے معين کردہ شرائط کي پابندي کرتے ہوئے مسکرات سے استفادہ کرتے ہوں اور اس سے ذکر خدا ميں ڈوبے رہنے ميں مدد ليتے ہوں۔ ۱۰۔ ليکن ضروري ہے کہ انہيں اس قلندريہ گروہ سے (جو اپنے آپ کو ان سے منسوب خيال کرتے ہيں اور شرعي احکامات کي بالکل پرواہ نہيں کرتے) الگ سمجھا جائے۔ اسي طرح اگر ان کے عرس پر شريعت مخالف اعمال انجام ديے جائيں، ان کے بارے ميں نامعلوم افسانے (جن کا کوئي حقيقي اور مضبوط سند نہيں) سنائے جائيں اور ان کي زندگي سے متعلق ايسے ايسے کام کئے جائيں جن کي کوئي تاريخي حيثيت نہيں، تو ان ميں سے کوئي ايک بھي لعل شہباز کي شخصيت کو منفي ثابت کرنے کا جواز نہيں بن سکتا ہے۔ سلامت رہيں۔


منابع اور مآخذ:

۱۔ دہخدا، علي اکبر، لغتنامہ دہخدا (دہخدا ڈکشنري)، کلمہ "لال" کے ذيل ميں۔ ۲۔ رجوع کريں: محمد موسي سومرو؛ حضرت شہباز قلندر۔ ترجمہ: شگفتہ، صغري بانو؛ ميگزين: ہلال، مردادماہ ۱۳۵۱ - نمبر ۱۲۵) ۳۔ رجوع کريں: مقام لعل شہباز قلندر، عارف و سخنور فارسي در سند (سندھ ميں عارف اور فارسي شاعر لعل شہباز قلندر کي اہميت)، قاسم صافي، پژوہشنامہ زبان و ادب فارسي (گوہر گويا)،۱۳۸۷، شمارہ نمبر ۱ (تسلسل ۵) ۴۔ سرور لاہور، غلام سرور بن غلام محمد؛ خزينہ الاصفيا، ہرات: انصاري کتب خانہ، [تاريخ اشاعت نامعلوم]، جلد دوم، چاپ سنگي، ص ۴۶ ۵۔ ايضا ۶۔ رجوع کريں: حضرت شہباز قلندر، ايضا ۷۔ ايضا ۸۔ رجوع کريں: آريا غلام علي، دانشنامہ بزرگ اسلامي (اسلامي عظيم انسائکلوپيڈيا)؛ مرکز دائرہ المعارف بزرگ اسلامي (ادارہ برائے اسلامي عظيم انسائکلوپيڈيا)؛ گيارھويں جلد، مقالہ نمبر ۴۶۲۸: بندر الدين غزنوي دہلوي کي حالات زندگي ۹۔ رجوع کريں: مقام لعل شہباز قلندر، عارف و سخنور فارسي در سند (سندھ ميں عارف اور فارسي شاعر لعل شہباز قلندر کي اہميت)۔ ايضا ۱۰۔ خزينۃ الاصفيا، ايضا ۱۱۔ رجوع کريں: اختر چيمہ، محمد، روابط مشايخ سہرورديہ ايران و شبہ قارہ ہند (ايران اور برصغير پاک و ہند کے سہرورديہ مشائخ کے روابط)۔ ميگزين: نامہ پارسي (بہار 1377، نمبر 8، صص 28 تا 35؛ فريدد نور احمد خان سے منقول؛ تذکرہ حضرت بہاء الدين زکريا ملتاني، علما اکادمي اوقاف لاہور، 1980ء، ص 111؛ لعل شہباز قلندر، نبي بخش قاضي، توسعہ فرہنگي - منطقہ اي تہران (تہران ثقافتي اور علاقائي ترقي)، 1352 ۱۲۔ الطرق الصوفيہ في العالم الاسلامي في القرن الثالث عشر الہجري الحافظ، محمد مطيع، علوم قرآن و حديث، المعارج، العدد 48، 49؛ 198 سے 212 تک ۱۳۔ رجوع کريں: کدکني، محمد رضا؛ قلندريہ در تاريخ دگرديسيہاي يک ايدئولوژي (قلندريہ؛ ايک آئڈيالوجي کے تغيرات کي تاريخ کي روشني ميں)، انتشارات سخن (سخن پبليکيشنز)، تہران، تيسرا ايڈيشن، 1387، ص 255۔ ۱۴۔ خزينۃ الاصفياء؛ ايضا ۱۵۔ ايضا ۱۶۔ حضرت شہباز قلندر، ايضا ۱۷۔ ايضا ۱۸۔ رجوع کريں: آريا غلامعلي، دانشنامہ بزرگ اسلامي (اسلامي عظيم انسائکلوپيڈيا)؛ مرکز دائرہ المعارف بزرگ اسلامي (ادارہ برائے اسلامي عظيم انسائکلوپيڈيا)، جلد نمبر ۱۵، مقالہ نمبر ۵۹۵۷ ۱۹۔ صافي قاسم؛ دربارہ سيد عثمان مروندي ۳ - لعل شہباز اور ان کا ديوان؛ باريچو سے منقول، مشتاق مسرور (1991ء)۔ لعل شہباز قلندر، حيدر آباد: شمع بک ڈپو، ص 71 ۲۰۔ حضرت شہباز قلندر، ايضا ۲۱۔ ديکھيں: چوہدري شاہد؛ برصغير پاک و ہند و بنگلہ ديش ميں سہرورديہ سلسلہ۔ ۲۲۔ رجوع کريں: آريا غلامعلي، دانشنامہ بزرگ اسلامي (اسلامي عظيم انسائکلوپيڈيا)؛ مرکز دائرہ المعارف بزرگ اسلامي (ادارہ برائے اسلامي عظيم انسائکلوپيڈيا)، جلد نمبر ۱۵، مقالہ نمبر ۵۹۵۷ ۲۳۔ رجوع کريں: ضابط حيدر رضا؛ تشيع در شبہ قارہ ہند (برصغير ميں تشيع)؛ پژوہش ہاي اجتماعي اسلامي (اسلامي معاشرتي تحقيقات)؛ بہار 1377، نمبر 12۔ ۲۴۔ قلندريہ اور ملامتيہ دونوں ايک چيز ميں مشترک ہيں اور يہ دونوں فرقے بظاہر شرع کي پابندي نہيں کرتے تھے، اس فرق کے ساتھ کہ ملامتيہ فرقہ (جس طرح جامي کہتے ہيں) تمام نوافل اور فضائل کي پابندي کرتے تھے ليکن اپنے اعمال اور حالات لوگوں سے چھپائے رکھتے تھے جبکہ قلندروں کے لئے يہ بات کوئي اہميت نہيں رکھتي تھي کہ کوئي ان کے حالات سے آگاہ ہو يا نہ ہو۔ دوسرے لفظوں ميں وہ اپنے حالات چھپانے کي کوشش نہيں کرتے تھے۔ رجوع کريں: بيات، محمد حسين؛ نگاہي بہ کتاب ملامت اور ملامتيان (ملامت اور ملامتيوں کي کتاب پر ايک نگاہ)؛ ميگزين: کتاب ماہ دين؛ آذرماہ 1378، نمبر 26۔ ۲۵۔ خزينۃ الاصفياء، ايضا؛ اور رجوع کريں: شفيعي کدکني، محمد رضا؛ قلندريہ در تاريخ دگرديسيہاي يک ايدئولوژي (قلندريہ؛ ايک آئڈيالوجي کے تغيرات کي تاريخ کي روشني ميں)، انتشارات سخن (سخن پبليکيشنز)، تہران، تيسرا ايڈيشن، 1387، ص 255۔ ۲۶۔ ديکھيں: جامي، عبدالرحمان؛ نفحات الانس من حضرات القدس؛ نمبر 49 حمدون قصار کے ذيل ميں۔ ۲۷۔ رجوع کريں: معين الدين چشتي، دليل العارفين، ترتيب و تبويب خواجہ قطب الدين بختيار کاکي اوشي، چاپ حافظ محمد عبدالاحد، چاپ سنگي دہلي، 1311۔ ۲۸۔ وہ کئي سال تک مولانا جلال الدين بلخي سے ملاقات کرتا رہا۔ رجوع کريں: رضا قلي خان محمد ہادي (تخلص: ہدايت)؛ تذکرہ رياض العارفين؛ بہ کوشش سيد رضي واحدي و سہراب زارع؛ ص 114۔ ۲۹۔ موسس طريقت قلندريہ (قلندريہ فرقے کا باني)۔ ديکھيں: عبدالحسين زرين کوب، جستجو در تصوف ايران (ايران ميں تصوف کے بارے ميں ايک تحقيق)، ص 364 کے بعد۔ شايد بعض قلندرانہ شعائر (جيسے اون کا لباس پہننا، رياضت کرنا، فقر اور ان جيسے ديگر شعائر) بھي ساوجي کے ظہور کے بعد تائيد اور تحکيم ہوئے ہيں (ديکھيں: زرين کوب، ص 366)۔ کہا جاتا ہے کہ جمال الدين کے دور ميں قلندروں کي بنيادي تعليمات کا تعلق عام عادات و آداب کي تخريب کرنا تھا (رجوع کريں: فاطمہ رحيمي؛ دانشنامہ جہان اسلام (اسلامي دنيا کا انسائکلو پيڈيا)، موسسہ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامي (ادارہ برائے فقہ اسلامي انسائکلو پيڈيا)۔ ۳۰۔ تصوف در شبہ قارہ ہند (برصغير پاک و ہند ميں تصوف) عالم اسلام انسائکلو پيڈيا۔ ۳۱۔ زرين کوب، ايضا ۳۲۔ انسائکلوپيڈيا، ايضا؛ اور زرين کوب عبدالحسين، جستجو در تصوف ايران (ايران ميں تصوف کے بارے ميں ايک تحقيق)، امير کبير پبليکيشنز، آٹھواں ايڈيشن، ص 371۔ ۳۳۔ خزينۃ الاصفياء؛ ايضا (قانع، غلام علي شيرين عزت اللہ، تحفۃ الکرام، مير علي شير) قانع تتوي؛ [بمبئي]، 1265 (1304) [چاپ سنگي، ج 3، ص 135) ۳۴۔ رجوع کريں: مقام لعل شہباز قلندر، ايضا ۳۷۔ خزينۃ الاصفيا، ايضا ۳۸۔ رجوع کريں: وہبہ مصطفي زحيلي، الفقہ الاسلامي و ادلتہ، دمشق، 1404 ہجري، ج 6، صص 148 تا 166 اور ص 152۔ ۳۹۔ رجوع کريں: طوسي، محمد بن حسين، الخلاف؛ ناشر: موسسہ النشر الاسلامي؛ قم: 1407؛ ج 5، ص 474 -------------------------------- www.abp-miftah.com گروه پاسخ‏گويي سايت پرسش و پاسخ پورتال اهل‏بيت (عليهم‏السلام)


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے