سوال کا متن:

اسسوالکامدلل جوابجانچاچاہتاہوںکہحضرت عليؑنےاپنےبيٹوںکےنام عمر،ابوبکر اور عثمان کيوںرکھے؟ کيايہنامانفراديحثيترکھتےہيںياخلفہثلاثہکےنامپررکھےگئے؟ کياکسيکےنامپرنامرکھنااسسےمحبتکيدليلہے؟ برائےمہربانيتفصيلياورمدللجوابعنائيتفرمائيں۔


وزیٹر کی تعداد: 337    گروپ کاری: امام علی (ع)         
جواب:

سوال کرنے والے کي سلام عرض ہے۔ آپ کا سوال موصول ہوا۔ اس سوال کا جواب دينے کے لئے درج ذيل نکات کي طرف توجہ ضروري ہے: ۱۔ کوئي بھي نام (خداوند عالم کے اسماء مبارکہ کے علاوہ) انحصاري نوعيت کا نہيں ہوتا کہ اسے کسي خاص شخص سے مخصوص کرديا جائے بلکہ کبھي کبھار ايک نام کئي کئي لوگوں پر رکھا جاتا تھا جس سے وہ تمام لوگ جانے اور پکارے جاتے تھے اور قوموں اور ملتوں کے درميان اس بارے ميں کوئي حدبندي اور محدوديت نہيں ملتي، اس لئے ابوبکر، عمر اور عڈمان اور ان جيسے ديگر نام عام تھے اور پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے دور ميں يہ ان کے کئي صحابيوں اور ساتھيوں کے نام تھے۔ اسي طرح ائمہ عليہم السلام کے ساتھيوں اور اصحاب ميں سے بھي کئي لوگ انہيں ناموں سے جانے جاتے تھے۔ ۲۔ اس ميں قطعي طور پر شک و شبے کي گنجائش نہيں ہے کہ شيعوں کو يزيد بن معاويہ اور اس کے برے اعمال سے ہميشہ سے شديد نفرت تھي اور ہے ليکن اس کے باوجود ہم ديکھتے ہيں کہ خود شيعوں ميں اور ائمہ عليہم السلام کے صحابيوں ميں يزيد نام کے کئي لوگ تھے، جيسے يزدي بن حاتم جو امام سجاد عليہ السلام کے صحابي تھے، يزيد بن عبدالملک، يزيد صائغ، يزيد کناسي وغيرہ جو امام باقر عليہ السلام کے صحابي تھے۔ اسي طرح امام صادق عليہ السلام کے کچھ صحابي جيسے يزيد بن خليفہ، يزيد بن خليل، يزيد بن عمر بن طلحہ، يزيد بن فرقد، يزيد بن مولي حکم کے نام شامل ہيں۔ يہاں تک کہ امام صادق عليہ السلام کے ايک صحابي اور پيروکار کا نام شمر بن يزيد تھا۔ (۱) تو کيا ان ناموں سے يہ ثابت ہوتا ہے کہ يزيد بن معاويہ ائمہ عليہم السلام اور شيعوں کے نزديک ايک محبوب شخصيت تھے؟! شيخ مفيد نے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام حسن مجتبي عليہ السلام کے ايک بيٹے کا نام عمرو تھا۔ (۲) تو کيا يہ کہا جائے کہ يہ نام عمر بن عبدود يا عمر بن ہشام (ابوجہل) کے نام پر رکھا گيا تھا؟ ۳۔ اس ميں قطعي شک کي گنجائش نہيں ہے کہ تمام مسلمان رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے بے حد محبت کرتے ہيں ليکن کيا تمام مسلمان اپنے بچوں کے نام رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک "محمد" پر رکھتے ہيں؟ بالفاظ ديگر جو مسلمان اپنے بچوں کے نام محمد نہيں رکھتے کيا وہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے محبت نہيں کرتے؟! ۴۔ اہل سنت دعوي کرتے ہيں کہ ان ناموں سے امام علي عليہ السلام کے خلفاء سے اچھے تعلقات ثابت ہوتے ہيں۔ اگر ايسا ہے تو خلفاء نے اپنے بچوں کے نام حسن اور حسين کيوں نہيں رکھے؟ جبکہ يہ نام تو رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے نواسوں کے نام بھي تھے؟! کيا يکطرفہ دوستي ممکن ہے؟! ۵۔ اب ہم درج بالا مطالب کي روشني ميں کہيں گے: ابوبکر نام رکھنے کي وجہ: پہلي بات تو يہ ہے کہ اگر امام علي عليہ السلام کو اپنے بيٹے کا نام ابوبکر کے نام پر رکھنا ہوتا تو وہ اس کے اصلي نام پر رکھتے (جو عبدالکعبہ، عتيق، عبداللہ وغيرہ اگرچہ اس نام ميں اختلاف ہے)، اس کي کنيت پر نہيں۔ دوسري بات يہ ہے کہ ابوبکر امام علي عليہ السلام کے بيٹے کا اصلي نام نہيں تھا، بلکہ اس کي کنيت تھي۔ اور کنيت کے انتخاب کے لئے ضروري نہيں کہ يہ باپ کي طرف سے ہي منتخب کيا جائے بلکہ خود بيٹا بھي اپني زندگي ميں رونما ہونے والے واقعات کے پيش نظر اپنے لئے کوئي بھي کنيت منتخب کرسکتا تھا۔ تيسرا نکتہ يہ کہ ايک قول کي بنا پر امام علي عليہ السلام نے اپنے اس بيٹے کا نام عبداللہ رکھا جن کي عمر ميدان کربلا ميں پچيس سال تھي۔ ابوالفرج اصفہاني لکھتے ہيں: "عبداللہ بن علي (ع) کي عمر پچيس سال تھي جب وہ کربلا ميں شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔" (۳) عمر نام رکھنے کي وجہ: پہلي بات تو يہ ہے کہ عمر کي عادتوں ميں سے ايک عادت يہ تھي کہ وہ افراد کے نام تبديل کيا کرتا تھا اور مورخين کے مطابق خود عمر نے يہ نام امام علي عليہ السلام کے يبٹے پر رکھا جو بعد ميں اسي نام سے معروف ہوئے۔ بلاذري اپني کتاب انساب الاشراف ميں لکھتے ہيں: "عمر بن خطاب نے علي [عليہ السلام] کا نام اپنے نام پر رکھا۔" (۴) ذہبي نے سير اعلام النبلاء ميں لکھا ہے: "يہ بچہ عمر کے زمانے ميں پيدا ہوا اور عمر نے اس کا نام اپنے نام پر منتخب کيا۔" (۵) عمر بن خطاب نے اور بھي کئي لوگوں کے نام تبديل کئے۔ ہم يہاں صرف تين ناموں کے ذکر پر اکتفاء کررہے ہيں: الف: ابراہيم بن الحارث سے عبدالرحمن: اس کے باپ نے اس کا نام ابراہيم رکھا تھا جسے عمر نے تبديل کرکے عبدالرحمن کرديا۔ (۶) ب: الاجع ابي مسروق سے عبدالرحمن: عمر بن خطاب نے اجدع بن مالک کا نام تبديل کرکے عبدالرحمن رکھ ديا۔ (۷) ج: ثعلبہ بن سعد سے معلي: معلي کا نام پہلے ثعلبہ تھا جسے عمر نے ثعلبہ سے بدل ديا۔ (۸) دوسري بات يہ کہ ابن حجر نے اپني کتاب الاصابہ، باب "ذکر من اسمہ عمر" ميں اکيس صحابيوں کے نام تحرير کئے ہيں جن کے نام عمر تھے۔ (۹) کيا يہ تمام نام اس لئے رکھے گئے کہ انہيں خليفہ دوم سے عقيدت اور محبت تھي؟! عثمان نام رکھنے کي وجہ: ۱۔ ابن حجر عسقلاني نے چھبيس صحابيوں کا ذکر کيا ہے جن کے نام عثمان تھے جيسے عثمان بن ابوجہم الاسلميٹ عثمان بن حکيم بن ابوالاوقص، عثمان بن حميد بن زہير بن الحارث، عثمان بن عمر الانصاري، عثمان بن حنيف بن المہملہٹ عثمان بن طلحہ بن ابوطلحہ، عثمان بن عمرو بن الجموح، عثمان بن مظعون، عثمان بن وہب المخزومي، عثمان بن عفان وغيرہ۔ (۱۰) کيا ہم کہہ سکتے ہيں کہ يہ سارے نام، چاہے اس سے پہلے يا بعد ميں، تيسرے خليفے سے محبت اور عقيدت کي وجہ سے رکھے گئے تھے؟! ۲۔ امير المؤمنين علي عليہ السلام کے ايک دوست کا نام "عثمان بن مظعون" تھا جو رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے خاص اور نزديکي صحابيوں ميں سے تھے۔ جب عثمان بن مظعون دنيا سے رخصت ہوئے تو رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے جھک کر ان کے چہرے پر بوسہ ديا۔ منقول ہے کہ جب پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھايا تو آپ کے چہرہ مبارک پر اشکوں کے آثار نماياں تھے۔ (۱۱) علي عليہ السلام انہيں بے حد چاہتے تھے۔ بعض شيعي منابع ميں آيا ہے کہ امير المؤمنين عليہ السلام نے فرمايا: "ميں نے اپنے بيٹے کا نام اپنے بھائي عثمان بن مظعون کے نام پر عثمان رکھا ہے۔" (۱۲) اس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ شايد امام علي عليہ السلام نے اپنے بيٹے کا نام عثمان اس لئے رکھا کہ انہيں عثمان بن مظعون سے بے حد محبت تھي۔ ۶۔ آخري بات يہ ہے امام علي عليہ السلام کي زندگي ميں شيعہ يا سني تاريخ ميں تينوں خلفاء کے لئے کسي قسمت کي محبت يا ہمدردي کا اثبات نہيں ہوا ہے تاکہ يہ کہا جاسکے کہ امام علي عليہ السلام نے اپنے بيٹوں کے نام ان کے ناموں کي رعايت سے رکھا ہو، بلکہ شيعہ اور سني منابع کے مطابق امام علي عليہ السلام نے ہميشہ ہي تينوں خلفاء کي سيرت اور روش کے بارے ميں سخت سے سخت رويے کا اظہار کيا ہے۔ اسي طرح مشہور ہے کہ جب دوسرا خليفہ مرنے والا تھا تو اس نے اپني موت سے پيشتر چھ افراد پر مشتمل ايک کميٹي تشکيل دي جن کے ارکان ميں امام علي عليہ السلام، عبدالرحمن بن عوف، عثمان، طلحہ، زبير اور سعيد بن ابي وقاص شامل تھے۔ کميٹي ممبران اور عمر کي وصيت سے صاف ظاہر تھا کہ انہي تين شرکاء کي رائے مان لي جاتي جن ميں عبدالرحمن جن تھا اور يہ بات بھي مسلم تھي کہ عبدالرحمن اپنے داماد عثمان کو دوسروں پر فوقيت ديتا اور چونکہ سب کو معلوم تھا کہ اگر امام علي عليہ السلام کو خلافت مل جاتي تو پہلے دو خلفاء کے تمام قوانين اور اصولوں کا سرے سے خاتمہ ہوجاتا، اس لئے عبدالرحمن بن عوف نے امام علي عليہ السلام کے لئے يہ شرط رکھي کہ اگر وہ شيخين کي سيرت پر عمل کريں تو انہيں خليفہ منتخب کيا جائے گا، ليکن امام علي عليہ السلام نے اس شرط کو ٹھکرا ديا اور فرمايا: "ميں شيخين کي سيرت اور روش اپنانے کي بجائے صرف خدا کي کتاب اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي سيرت مبارکہ اور اپني رائے کے مطابق عمل کروں گا۔" (۱۳)


منابع اور مآخذ:

۱۔ اردبيلي غروي حائري، محمد بن علي، جامع الرواۃ و ازاحہ الاشتباہات علي الطرق والاسناد، پبليشرز: مکتبہ المحمدي، ص ۴۰۲ ۲۔ محمد بن محمد بن النعمان، معروف بہ شيخ مفيد، الارشاد في معرفہ حجج اللہ علي العباد، دوسري جلد، ص ۲۰، (باب ذکر ولد الحسن بن علي عليہ اللسلام)، تحقيق: موسسہ آل البيت عليہم السلام، بيروت، دار المفيد للطباعہ والنشر و التوازيع، الطبعہ: المشقيہ، ۱۴۱۴ ہجري، ۱۹۹۳ء۔ ۳۔ ابوالفرج اصفہاني، علي بن الحسين، مقاتل الطالبيين، تحقيق: کاظم المظفر، پبليشر: موسسہ دار الکتاب، قم، دوسرا ايڈيشن، ۱۳۸۵ ہجري شمسي، ص ۵۴ ۴۔ بلاذري، احمد بن يحيي بن جابر، انساب الاشراف، تحقيق: شيخ محمد باقر محمودي، پبليشر: موسسہ الاعلمي، بيروت، پہلا ايڈيشن، ۱۳۹۴ ہجري قمري، ص ۱۹۲ ۵۔ ذہبي، شمس الدين محمد بن احمد بن عثمان، سير اعلام النبلاء، تحقيق: شعيب الارنؤوط، مامون صاغرجي، ناشر: بيروت ايڈيشن، موسسہ الرسالہ، نواں ايڈيشن، سن ۱۴۱۳ہجري قمري، جلد نمبر ۴، صفحہ نمبر ۱۳۴ ۶۔ عسقلاني شافعي، احمد بن علي بن حجر، الاصابہ في تمييز الصحابہ، تحقيق: شيخ عادل احمد عبد الموجود، بيروت ايڈيشن، پبليشر: دار الکتب العلميہ، پہلا ايڈيشن، سن ۱۴۱۵ ہجري قمري، جلد نمبر ۵، ص ۲۳ ۷۔ الاصابہ في تمييز الصحابہ، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۳۳۰ ۸۔ الصحاري العوتبي، ابو المنذر سلمہ بن مسلم بن ابراہيم، الانساب للصحاري، مدرسہ فقاہت ڈيجيٹل لائبريري، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۲۵۰ ۹۔ عسقلاني شافعي، احمد بن علي بن حجر، الاصابہ في تمييز الصحابہ، جلد نمبر ۴، صفحات نمبر 587 تا 597، تحقيق: علي محمد البجاوي، پبليشرز: دار الجيل، بيروت، پہلا ايڈيشن، سن 1412 ہجري قمري، 1992ء ۱۰۔ عسقلاني شافعي، احمد بن علي بن حجر، الاصابہ في تمييز الصحابہ، جلد نمبر ۴، صفحات نمبر 447 تا 463، تحقيق: علي محمد البجاوي، پبليشرز: دار الجيل، بيروت، پہلا ايڈيشن، سن 1412 ہجري قمري، 1992ء ۱۱۔ امام احمد بن حنبل، مسند احمد، بيروت ايڈيشن، دار صادر، جلد نمبر ۶، صفحہ نمبر 43؛ حاکم نيشاپوري، المستدرک علي الصحيحين، تحقيق و نگراني: يوسف عبدالرحمن مرعشلي، جلد نبمر 3، صفحہ نمبر 189 ۱۲۔ ابوالفرج اصفہاني، علي بن الحسين، مقاتل الطالبيين، تحقيق: کاظم المظفر، پبليشر: موسسہ دار الکتاب، قم، دوسرا ايڈيشن، ۱۳۸۵ ہجري شمسي، ص 55 ۱۳۔ رجوع کيجئے: محمد بن اسماعيل ابو عبداللہ معروف بہ بخاري، صحيح بخاري، بيروت ايڈيشن، پبليشرز: دارالفکر، جلد نمبر ۵، صفحہ نمبر ۸۳، کتاب المغازي، نيشاپوري مسلم بن حجاج، ابوالحسين القشيري، الجامع الصحيح (صحيح مسلم)، بيروت ايڈيشن، پبليشرز: دار الفکر، جلد نمبر ۵، صفحہ نمبر ۱۵۳؛ ابن ابي الحديد، عبدالحميد بن ہبہ اللہ، شرح نہج البلاغہ لابن ابي الحديد، تحقيق: ابراہيم محمد ابوالفضل، قم ايڈيشن، پبليشرز: مکتبہ آيت اللہ مرعشي نجفي، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۱۸۸۔ سلامت رہيں -------------------------------- گروه پاسخ‏گويي سايت پرسش و پاسخ پورتال اهل‏بيت (عليهم‏السلام) www.abp-miftah.com


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے