سوال کا متن:

کيا مفاتيح الجنان ميں موجود حديث کساء کوقولمعصوم صسمجھکرپڑھنادرستہے؟


وزیٹر کی تعداد: 293    گروپ کاری: دعا         
جواب:

آپ کي خمدت ميں سلام عرض کرتا ہوں۔ حقيقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بعض لوگوں نے دعوي کيا ہے کہ سند اور اعتبار کے حوالے سے يہ حديث معتبر نہيں ہے۔ اسي لئے مرحوم محدث قمي نے اسے مفاتيح الجنان ميں درج نہيں کيا۔ اس کام کے لئے ان کے دلائل حسبِ ذيل ہيں: ۱۔ محدث قمي (مرحوم) اس بات کي اجازت نہيں ديتے تھے کہ کوئي بھي شخص مفاتيح الجنان ميں کسي چيز کا اضافہ کرے اور اس کام کے انجام دينے والے پر نفرين بھيجتے اور اسے بددعا ديتے تھے۔ ليکن اس کے باوجود ہم ديکھتے ہيں کہ مفاتيح ميں مذکورہ بالا حديث کا اضافہ کرديا گيا ہے۔ جواب: اس سوال کا جواب بھي کئي حوالوں سے ديا گيا ہے: الف: اس بارے ميں حديث کساء کو بے اساس اور بے پايہ قرار ديا گيا ہے، ليکن منتہي الآمال ميں محدث قمي کي عبارت کچھ يوں ہے: "حديث کساء اس کيفيت کے ساتھ معروف اوراصول حديث کي کتب اور معتبر مجموعوں ميں نہيں ديکھي گئي ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ يہ کتاب منتخب سے خاص ہے۔ (۱) اس عبارت سے يہ بات ہرگز ثابت نہيں ہوتي کہ معروف حديث کساء بے پايہ يا بے اساس ہے۔ ب: شيخ قمي مرحوم نے فرمايا ہے: " کہا جاسکتا ہے کہ يہ کتاب منتخب سے خاص ہے۔" يعني وہ کتاب منتخب جس کے مصنف شيخ فخر الدين طريحي صاحب مجمع البحرين ہيں جن کي وفات سن 1087 ہجري ميں ہوئي۔ اس عبارت سے جو بات واضح ہورہي ہے وہ يہ ہے کہ شيخ عباس قمي مرحوم نے شيخ عبادللہ بحراني اصفہاني کي کتاب عوالم العلوم نہيں ديکھي ہے، کيونکہ اس زمانے ميں يہ کتاب ايک کمياب خطي نسخہ ہوا کرتي تھي۔ پس اس ميں حيرت کي کوئي بات نہيں ہے اگر شيخ عباس قمي مرحوم نے يہ کتاب نہ ديکھي ہو۔ (۲) کہا جاسکتا ہے کہ اگر شيخ عباس قمي مرحوم نے کتاب عوالم العلوم ديکھي ہوتي تو حديث کساء کو مفاتيح الجنان ميں ضروري جگہ ديتے۔ ۲۔ يہ حديث فريقين کي معروف کتب ميں سے کسي ايک ميں بھي نہيں ملتي، يہاں تک کہ ان کتب ميں بھي نہيں جن کا مقصد اہل بيت عليہم السلام سے منسوب احاديث کو جمع کرنا تھا، جيسے بحار الانوار وغيرہ۔ جواب: پہلي بات تو يہ ہے کہ کسي بھي عدمي امر کو ثابت کرنے کے لئے کبھي بھي کسي اور عدمي امر کي بنياد پر استدلال قائم نہيں کيا جاسکتا ہے۔ جيسے کسي سے کہا جائے: جناب آپ فقيہہ نہيں ہيں، کيوں؟ کيونکہ آپ نے فقہ کے موضوع پر کوئي کتاب نہيں لکھي! اس لئے فقہ کے موضوع پر کتاب نہ لکھنا اس بات کي دليل ہے کہ آپ فقيہ نہيں ہيں۔" کيونکہ فقہي کتاب نہ لکھنا کسي طرح بھي فقيہہ نہ ہونے پر دلالت نہيں کرتا، بلکہ اسے اصلاح ميں "لازم اعم" کہتے ہيں۔ تناقض کي ايک اور مثال: اگر امامت اس قدر اہم مسئلہ ہے کہ جتنا آپ لوگ اسے سمجھتے ہيں تو پھر قرآن ميں اس کا ذکر کيوں نہيں آيا اور علي بن ابي طالب عليہما السلام کي امامت واضح الفاظ ميں کيوں درج نہيں۔ اس رو سے علي بن ابي طالب عليہما السلام کي امامت باطل ہے (!!) ايسے لوگوں کے جواب ميں ہم کہيں گے: "قرآن ميں کل کتنے پيغمبروں کے نام آئے ہيں؟ پس جن پيغمبروں کے نام درج نہيں ہيں، کيا ان کي رسالت غير قابل قبول ہے؟! دنيا کي کون سي منطق کي کتاب ميں ايک "عدمي امر" ايک اور "عدم" پر دليل بن سکتي ہے؟!" دوسرا نکتہ يہ ہے کہ يہ بات کہاں سے ثابت ہوتي ہے کہ فريقين کے بزرگوں نے يہ حديث روايت نہيں کي۔ کيا پتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ اور کتابيں کشف ہوں اور ايسے خطي نسخے کہيں سے مل جائيں جن ميں يہي متن درج ملے۔ تاريخ ميں بے شمار منابع اور بڑي کتب لکھي گئي ہيں، جو ہم تک نہيں پہنچيں، جيسے شيخ صدوق مرحوم کي کتاب "مدينۃ العلم" جو کئي صدياں ہوئيں کہيں کھوگئي ہے (وہ کتاب کہ اگر دستياب ہوتي تو اب ہماري کتب اربعہ ميں پانچويں کتاب شمار ہوتي)۔ اسي طرح ابوالحسن مدائني کي کتاب الاحداث بھي ہے۔ ايسا کيوں ہے کہ تاريخ بلاذري کے کچھ حصے حال ہي ميں اور ابھي کچھ سال پہلے ہي ہم تک پہنچے ہيں؟ جب اہل سنت نے ابن سعد کي کتاب الطفقات الکبري چھاپي تو جو جلد حسنين عليہما السلام سے مخصوص تھي، وہ جلد انہوں نے نہيں چھاپي (!!) اس بنا پر ہم کيسے کہہ سکتے ہيں کہ حديث کساء ان تمام تر کتب ميں بھي موجود نہيں، جو اس وقت ہماري دسترس سے باہر ہيں؟! پس يہ بات کس بنا پر کہي جاسکتي ہے کہ فلاں بات باطل اور بے پايہ اور بے اساس ہے؟ وہ کون سي دليل ہے جس کو بنياد بنا کر انسان اس قدر قاطعانہ انداز ميں کسي چيز کي نفي کرتا ہے؟ ۳۔ يہاں تک کہ ہم جانتے ہيں کہ وہ پہلي کتاب جس نے حديث کساء کو غير معتبر کہا ہے (جس کي طرف محدث قمي نے بھي اشارہ کيا ہے) وہ طريحي کي کتاب منتخب ہے۔ يعني صدر اسلام سے تقريبا ايک ہزار سال بعد تک کسي بھي کتاب ميں ايسي کوئي حديث نہيں ديکھي گئي ہے۔ جواب: يہ تو وہي پہلي بات ہے جسے دوسري اور نئي بات بنا کر پيش کرنے کي ضرورت نہيں ہے۔ دوسري طرف ايسي بات صرف وہي شخص کہنے کا حق رکھتا ہے جو کم از کم موجودہ زمانے ميں پائے جانے والے تمام خطي نسخوں تک رسائي رکھتا ہو۔ کيا سوال کرنے والے نے تمام خطي نسخے ديکھ رکھے ہيں؟! ۴۔ حيرت اس بات پر ہوتي ہے کہ کس طرح ايک بغير سند (غير معتبر) حديث عوالم العلوم کے خطي نسخے کے حاشيے ميں پہنچ کر باسند اور معتبر ہوجاتي ہے (!) جواب: گويا يہ لوگ يہ کہنا چاہتے ہيں کہ يہاں نقلي سند بنانے کا معاملہ درپيش آگيا ہے جبکہ اپنے اس کہے کے لئے ان کے پاس کوئي دليل نہيں ہے۔ کتاب عوالم العلوم تو حال ہي ميں چھپي ہے، جبکہ حديث کساء کي سند آيت اللہ العظمي مرعشي نجفي (رحمۃ اللہ عليہ) پہلے ہي احقا الحق نامي اپني کتاب (جو عوالم العلوم سے پہلے چھپ چکي ہے) کي دوسري جلد کے حاشيے ميں پہلے کسي کتاب سے ذکر کرتے ہيں اور پھر کچھ اور مطابقت دينے کے لئے جب انہيں عوالم العلوم کا خطي نسخہ ملتا ہے تو وہ ديکھتے ہيں کہ احقاق الحق ميں حديث کساء کي سند عوالم العلوم کي سند سے ملتي ہے۔ (۳) اس وقت وہ کہتے ہيں کہ جن لوگوں نے يہ حديث نقل کي ہے، ان ميں شيخ فخرالدين طريحي بھي ہيں جن کا انتقال سن 1087 ہجري ميں ہوا ہے، ان کے علاوہ کتاب ارشاد القلوب کے مصنف ديلمي نے اپني کتاب الغرر والدرر جبکہ حسين علوي دمشقي حنفي (جس کا تعلق شامي نقباء کے گھرانے سے تھا) نے بھي يہ حديث نقل کي ہے کہ ميں نے خود اس کا خط ديکھا ہے (۴)۔ آخر ميں ہم دوبارہ ياد دہاني کرانا چاہتے ہيں کہ اس حديث کي تمام تر عبارتيں اہل بيت عليہم السلام کے لئے مختلف مقام و منازل کو بيان کرتي ہيں اور ہر پيراگراف کے لئے الگ شاہد موجود ہے جسے قرآن کريم اور سنت رسول (ص) کي رو سے ثابت کيا جاسکتا ہے۔ بہرحال شرعي اعتبار سے "من بلغ" کي حديث پر اکتفاء کرتے ہوئے رجاء اور اميد کي غرض سے بھي موجودہ حديث کساء کي قرائت کے حق ميں رائے دي جاسکتي ہے اور اسے پڑھنے کا ثواب بھي ہے۔ دوسري طرف "ادلہ سنن ميں تسامح کا قاعدہ" ہے جس کي روشني ميں بھي باقاعدہ طور پر اس حديث کي قرائت بطور مستحب ہونے پر فتوا ديا جاسکتا ہے۔ دوسري طرف بہت سے لوگ اس حديث کي قرائت کرتے اور اس کے آثار و برکات ديکھتے ہيں۔ دوسرے لفظوں ميں اس حديث کے بے شمار آثار و برکات ہيں جنہيں ہم آساني سے خارجي دنيا ميں ديکھ سکتے ہيں۔ ايسے ميں اگر کوئي شخص اس امر کا انکار کرتا ہے تو اس کي مثال ايسي ہے گويا اس نے تربت سيد الشہدا عليہ السلام کا انکار کيا ہے۔ (۵)


منابع اور مآخذ:

۱۔ منتہي الآمال: جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۸۲۰؛ سيد الشہداء عليہ السلام کي سوانح عمري، نواں باب تذليل کے بارے ميں۔ ۲۔ عوالم العلوم: حصہ حضرت زہراء سلام اللہ عليہا، جلد نمبر ۲، صفحہ نمبر ۹۳۰ ۳۔ شرح احقاق الحق: جلد نمبر ۲، صفحہ نمبر ۵۳۳ ۴۔ ايضا، جلد نمبر ۲، صفحات نمبر ۵۵۷ اور ۵۵۸ ۵۔ يہ جواب محقق علامہ آيت اللہ سيد علي ميلاني (دامت برکاتہ) کے ايک علمي درس کا خلاصہ ہے۔ --------------------------- گروه پاسخ‏گويي سايت پرسش و پاسخ پورتال اهل‏بيت (عليهم‏ السلام)


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے