سوال کا متن:

معصوم ص سے منسوب ايسي دعائيں کيونکر قابل قبول ہو سکتي ہيں جن ميں کچھ ايسا کہا گيا ہو " ہر نيکي ميں داخل کر جس ميں محمد و آل محمد ( ص ) کو داخل کيا اور ہر برائي سے نکال جس سے محمد و آل محمد ( ص ) کو نکالا " ايسي دعاوں ميں کہيں لفظ " سوء " استعمال ہوا ہے اور کہيں لفظ " شر " کيا ان دعاوں سے ايسا مغالطہ نہيں ہوتا کہ (خاکم بدہن ) کبھي معصومين ص نيکيوں سے باہر اور برائيوں ميں ملوث تھے ؟ کيا ايسي دعائيں آيت تطہير کے خلاف نہيں ہيں ؟


وزیٹر کی تعداد: 322    گروپ کاری: دعا         
جواب:

بسم اللہ الرحمن الرحيم اہل بيت عليہم السلام کي دعاؤں کے بارے ميں آپ کي توجہ کے لئے ہم آپ کا شکريہ ادا کرتے ہيں، ليکن آپ کے ان دقيق سوالات کے جواب دينے سے پہلے ہميں کہنا ہوگا کہ: ۱۔ آپ کے سوال کا مجموعي طور پر جائزہ ليا جائے تو ان ميں اس نکتے کي طرف اشارہ ملتا ہے کہ کيا معصومين عليہم السلام سے بھي گناہ اور شر سرزد ہوسکتا ہے يا نہيں؟ کيا شر اور برائيوں سے خارج ہونے سے مراد وہي آيہ تطہير ہے يا نہيں؟ کيونکہ تطہير کا مطلب بھي برائيوں اور پليديوں اور ظاہري اور باطني نجاسات سے پاک صاف کرنا ہے اور کيا اس آيت کا لازمہ يہ نہيں ہے کہ ائمہ معصومين عليہم السلام ميں بھي باطني نجاست ہوتي ہے؟ (کيونکہ تطہير کا لفظ اسي وقت بامعني ہوگا جب پہلے سے نجاست اور آلودگي موجود ہو۔) آپ کے سوال کے جواب ميں کہنا چاہيے کہ ان جيسي روايات ميں شر اور بدي کے لئے کچھ احتمالي صورتيں ممکن ہيں: پہلي صورت: عقيدتي گناہ (جيسے خدا کے بارے ميں شرک کرنا، خدا کي رحمت سے مايوس ہونا وغيرہ) دوسري صورت: فقہي گناہ (جيسے فقہي واجبات ترک کرنا اور فقہي گناہ انجام دينا وغيرہ) تيسري صورت: مستحبات کا ترک کرنا اور مکروہات انجام دينا۔ چوتھي صورت: اخلاقي گناہ (جيسے حسد، تکبر اور دوسروں کي نسبت بد گماني کا شکار ہونا وغيرہ جيسي بري اور پست صفات اور خصوصيات کا حامل ہونا) پانچويں صورت: عرفاني گناہ (جيسے خدا سے غافل ہونا، موجودات کو مستقل اور خود مختار سمجھنا، خدا سے محبت کے آداب بجا نہ لانا اور قدرتي خزانوں اور دولت کي جمع آوري ميں مشغول اور سرگرم ہونا وغيرہ) چھٹي صورت: تکويني شر (جيسے ائمہ عليہم السلام کو دشمنوں کي طرف سے پہنچنے والے نقصانات، يا عالم فطرت کي طرف سے پہنچنے والے نقصانات اور جسماني اعتبار سے پيش آنے والي حدود و قيود وغيرہ) جہاں تک پہلي اور دوسري ممکنہ اور احتمالي صورتوں کا سوال ہے، ہم شيعہ يہ عقيدہ رکھتے ہيں کہ معصومين عليہم السلام اپني زندگي ميں کبھي بھي (چاہے ذمہ داري کي انجام دہي سے پہلے ہو يا اس سے کے بعد اور چاہے رسالت اور امامت سے پہلے ہو يا بعد ميں) فقہي اور عقيدتي گناہ انجام نہيں ديتے ہيں۔ ہمارے اس عقيدے کے بارے ميں نقلي دلائل کے علاوہ عقلي براہين بھي موجود ہيں جو اس بات کي گوہي ديتے ہيں۔ تيسري ممکنہ صورت کے بارے ميں ہميں کہنا ہوگا کہ معصومين عليہم السلام کبھي بھي بغير دليل اور بے اعتنا ہوکر مستحبات اور مکروہات کے بارے ميں دستورات کي مخالفت نہيں کرتے اور شر سے متعلق امور ميں نہيں پڑتے، بلکہ حقيقت اس کے برعکس ہے؛ يعني جب بھي ہم ديکھتے ہيں کہ کسي معصوم (عليہ السلام) نے يا خود پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) نے کسي مستحب يا مکروہ امر کي مخالفت کي ہے، ہم فورا سمجھ ليتے ہيں کہ يقيناً اس کے پيچھے اس سے کہيں بڑي خير موجود ہوگي، جس کے حصول کے لئے معصوم نے عارضي طور پر مسحتبي يا مکروہ احکام کي مخالفت کي ہے اور [بظاہر] شر سے متعلق امور ميں پڑے ہيں۔ اور يہ ايک ايسا قاعدہ ہے جس سے فقہہ ميں استفادہ کيا جاتا ہے۔ چوتھي ممکنہ صورت کے بارے ميں بھي کہنا چاہيے کہ: جس طرح تمام فقہي گناہ دراصل اخلاقي برائيوں سے جنم ليتے ہيں، اس لئے ضروري ہے کہ معصوم (ع) کي ذات ايسے گناہوں سے مکمل طور پر مبرا اور پاک ہو۔ وہ تمام اخلاقي برائياں جو عرفاني گناہوں کي انجام دہي کا پيش خيمہ ہوتے ہيں، ان سے دوري کي عقلي دليل پانچويں ممکنہ صورت ميں ذکر ہوگي۔ اسي طرح پانچويں ممکنہ صورت کے بارے ميں (اور چھٹي صورت کا حکم بھي پانچويں صورت کے بارے ميں بحث کے دوران ظاہر ہوگا) کہنا چاہيے کہ يہ گناہ دو وجوہات کي بنا پر انجام پاتے ہيں؛ کبھي کبھار تو ان کا سبب علم، عقيدہ اور اخلاق کے شعبوں ميں کمزوري ہے اور بعض اوقات جسماني اور فطري وجوہات کي بنا پر پيدا ہونے والي کمزورياں ان گناہ سرزد ہوجاتے ہيں۔ اس بيان کي وضاحت ميں کہوں کہ انبياء الہي (ع) ميں سے بعض انبياء (ع) اعلي اخلاقي خوبيوں کي کمي يا مراتب علم عظيم کے حوالے سے کمتر رتبے پر فائز ہونے کي وجہ سے خداوند متعال کي بارگاہ ميں بعض عرفاني غلطيوں سے دوچار ہوجايا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر افعال کے "اسباب" پر ان کي خصوصي توجہ ايک لمحے کے لئے انہيں "مسبب الاسباب" پر توجہ سے غافل بنا ديتي تھي، اور چونکہ "حسنات الابرار سيئات المقربين" ہے، اس لئے انہيں مختلف قسم کي سزائيں ملتي تھيں۔ اس طرح کے گناہ (اگرچہ اس بات کا امکان ہے کہ انبياء (ع) اور اوصياء (ع) سے سرزد ہوں) ليکن مکمل ترين اور نقطہ کمال تک پہنچے ہوئے انسانوں سے ان کا سرزد ہونا ناممکن ہے۔ اس لئے پيغمبر (ص) اور ائمہ معصومين (ع) جو انہي کے نور سے ہيں، ايسے افعال قطعا انجام نہيں ديتے۔ کبھي کبھار انبياء (ع) کے گناہوں ميں مبتلا ہونے کي وجہ انسان اور فطرت کا ذاتي نقص بھي ہوتا ہے۔ اس سلسلے ميں ذيل کے نکات کي طرف اشارہ کرنا ضروري ہے: ۱۔ انسان جب تک عالم فطرت کا اسير ہے، لاکھ کوشش کرلے، خدا کي عبادت اس طرح نہيں کرسکتا، جس کا وہ حقدار ہے، کيونکہ عالم فطرت يعني ہماري دنيا، عالم نور اور توحيد سے سب سے زيادہ فاصلے پر واقع ہے۔ اس ميں بے انتہا کثرتيں، پراگندگي اور مصروفيات ہيں۔ مثال کے طور پر جسم کو ٹھيک سے چلانے کے لئے نفس مختلف جسماني امور جيسے خوراک ہضم کرنا، دل دھڑکنا وغيرہ کي طرف توجہ دينے پر مجبور ہے۔ شرعي احکامات کي طرف بے توجہي خود اس دوري اور جدائي کے اہم ترين عوامل ميں سے ايک ہے۔ امر بالمعروف و نہي عن المنکر، جہاد في سبيل اللہ، اہل و عيال کے لئے روزي روٹي کمانا، ہدايت کي غرض سے مشرکين کي طرف توجہ دينا وغيرہ جيسے امور شرعي دستورات کا حصہ ہيں، جو تمام کے تمام ہميں يہ نکتہ سمجھاتے ہيں کہ خداوند مہربان نے ہميں عالم ناسوت (دنيا) کي طرف بھيجنا چاہا ہے؛ وہ ناگزير ہبوط جو اس کي حکمت پر مشتمل اور اس کے عين مطابق ہے اور جو ہميں خداوند عالم کي بارگاہ سے زيادہ سے زيادہ استفادہ کرنے کے لئے ضروري وسائل فراہم کرنے کا عامل ہے۔ خداوند عالم فرماتا ہے: "لقد خلقنا الانسان في احسن تقويم ثم رددناه اسفل سافلين"؛ ايک احتمالي صورت ميں خداوند عالم نے ان آيات ميں انسان کے عرشي اور فرشي دونوں مقامات کي طرف اشارہ کيا ہے؛ وہ وقت جب انسان اعلي عليين (يعني سب سے بلند مقام) پر فائز تھا اور خدا کے قريب تھا اور يہ وقت جب اسے (اختياري کمالات کے حصول کے لئے) اسفل سافلين کي طرف بھيجا گيا ہے، بالکل اس شہباز کي طرح جو پہلے بادشاہ کے کاندھوں پر بيٹھتا رہا ہو اور محل ميں زندگي گزارتا رہا ہو اور اس کي خوراک بغير کسي مشقت اور محنت کے اسے ملتي رہي ہو۔ ليکن اس کے بعد بادشاہ نے اسے کسي مصلحت کي بنا پر خود سے دور کرديا ہو تاکہ وہ محل سے باہر نکلے اور اپني خوراک خود ڈھونڈنے پر مجبور ہوجائے، کھنڈروں ميں رہے اور کبھي کبھار مردار کھائے وغيرہ۔ اس طرح کے شرور لازمي ہوتے ہيں اور ائمہ عليہم السلام بھي ان سے دوچار ہوتے تھے۔ خداوند تعالي اپنے پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے: "مَّا أَصَابَکَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّهِ وَمَا أَصَابَکَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِکَ وَأَرْسَلْنَاکَ لِلنَّاسِ رَسُولاً وَکَفَى بِاللّهِ شَهِيدا" (۱) تمہيں پہنچنے والي ہر نيکي خدا کي طرف سے ہے اور ہر برائي خود تمہاري وجہ سے اور ہم نے تمہيں لوگوں کے لئے پيغمبر بنا کر بھيجا ہے اور خدا کي گواہي کافي ہے۔ ۲۔ شرور کا يہ دستہ خود چند ذيلي اقسام ميں تقسيم ہوتا ہے: الف: وہ شرور جو جسماني اعتبار سے واقع ہوتے ہيں (اور ہم پہلے ہي ان کي طرف اشارہ کرچکے ہيں)۔ جب ان کي روحيں جسم سے پرواز کرجاتي ہيں تو وہ حق تعالي کا خالص ترين ادراک حاصل کرليتے ہيں اور جسم اور عالم جسماني کے نسبي شر سے چھٹکارا پا ليتے ہيں۔ ليکن امام خميني (رہ) نے شر کي اس قسم کے بارے ميں فرمايا ہے: "جو شخص بيمار ہے يا اس کي ٹانگ ٹوٹ گئي ہے اور اس وجہ سے اپنے بستر سے اٹھ نہيں سکتا، نہ اپني ٹانگيں ہلا سکتا ہے، جيسے ہي کوئي بڑي شخصيت اس کي عيادت کے لئے آتا ہے، اگرچہ وہ معذور ہوتا ہے اور اپني جگہ سے اٹھ نہيں سکتا، اس کے باوجود اسے شرمندگي کا احساس ہوتا ہے کہ وہ اس شخص کے احترام ميں کيوں نہيں اٹھ سکتا اور شديد احساس ندامت کے تحت اس کے ماتھے پسينہ ظاہر ہوتا ہے اور اس بڑي شخصيت سے معذرت مانگتا ہے۔ اپني بے پناہ معرفت اور شرم کي وجہ سے ائمہ عليہم السلام کو خطا اور گناہ کا احساس ہوتا ہے، ہرچند وہ بعض امور انجام دينے پر مجبور ہوتے ہيں اور يہ امور ان کي مادي زندگي کي ضروريات ميں شامل ہيں اور ائمہ عليہم السلام انہيں انجام دينے پر مجبور ہوتے ہيں۔ ب: وہ برائياں جو کفار اور دشمنوں کي طرف سے انہيں پہنچتي ہيں کہ خداوند عالم نے کئي بار اسي دنيا ميں انہيں دشمنوں اور کفار کے شر سے رہا کيا ہے۔ چنانچہ حضرت موسي عليہ السلام خداوند عالم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہيں: " و لهم علي ذنب فاخاف ان يقتلون" يعني: اور وہ مجھے گناہگار سمجھتے ہيں اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل کرڈاليں گے۔ اسي طرح فتح مکہ کے موقع پر خداوند عالم پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے خطاب کرتا ہے: "إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِينًا ل* ِيَغْفِرَ لَکَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْکَ وَيَهْدِيَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا* و ينصرک اللّه نصرا عزيزا" (سورہ فتح، آيات نمبر ۱ سے ۳ تک)؛ ترجمہ: بے شک ہم نے آپ کو فتح عطا کي (اور کيسي) کھُلي فتح تاکہ خدا آپ کے اگلے اور وہ تمام گناہ جو آپ نے مشرکين کے بارے ميں انجام ديے تھے (اور جن کي وجہ سے وہ آپ کو شکنجے اور اذيت پہنچانے کا مستحق سمجھتے تھے) کو ان کے دلوں سے پاک اور تمام کردے چاہے، ان کا تعلق آپ کے ماضي سے ہوں يا مستقبل سے اور آپ کو سيدھے راستے کي ہدايت دے اور زبردست طريقے سے آپ کي مدد کرے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ ايسے شرور سے وہ اسي وقت آزاد ہوئے، جب ان کي روح مادي جسم کي قيد سے آزاد ہوئي۔ بالکل اسي طرح جس طرح ان ميں سے بعض شرور سے اسي دنيا ميں چھٹکارا مل جاتا ہے۔ اور ہم اپني دعاؤں ميں خداوند عالم سے مانگتے ہيں کہ وہ اپنے پيغمبر (ص) کي طرح ہميں بھي اس قسم کے شرور سے محفوظ رکھے۔ ائمہ عليہم السلام کي دعائيں بھي ايسے مضامين سے بھري پڑي ہيں؛ مثال کے طور پر ہم امام زمانہ (عج) کي دعا ميں يوں پڑھتے ہيں: "اے خدا! محمد و آل محمد (ص) پر درود بھيج اور ميرے لئے، ميرے بچوں اور خاندان کے لئے امن و آسائش قرار دے اور ہر وہ چيز جو تو نے مجھے بطور نعمت عطا کي ہے، ميرے لئے مقرر فرما، يہاں تک کہ مجھے کسي کا خوف محسوس نہ ہو اور کسي چيز سے ڈر نہ لگے۔ يقينا تو تمام امور پر قادر ہے اور ہمارے لئے خدا ہي کافي ہے اور وہ بہت اچھا کفايت کرنے والا ہے۔ اے خدا! اے وہ کہ جس نے ابراہيم کو نمرود کے شر سے نجات دي! اے خدا! اے وہ کہ جس نے موسي (ع) کو فرعون کے شر سے نجات دي! اے خدا کہ جس نے محمد (ص) کو احزاب کے شر سے نجات دي! ميں چاہتا ہوں کہ تو محمد و آل محمد (ص) پر درود اور سلام بھيجے اور مجھے فلاں ابن فلاں کے شر سے بچائے۔" (۲) ج۔ وہ شرور جن ميں وہ مسائل و مشکلات اور امتحانِ الہي کي وجہ سے گرفتار ہوتے ہيں (اگرچہ درج بالا موارد کا شمار بھي ايسي ہي مشکلات ميں ہوتا ہے ليکن يہاں ايک فرق يہ ہے کہ اس ميں دوسروں کا ارادہ اور کردار ضروري نہيں ہے) مثلا: بيٹوں کا قتل ہونا يا وفات پاجانا، زلزلے يا آسماني آفات کے ذريعے مال و دولت کا نابود ہونا وغيرہ کہ معصومين عليہم السلام نے اس دارِ فاني سے کوچ کرنے کے ذريعے ان تمام شرور سے نجات پالي۔ جب امام صادق (ع) سے کسي نے سورہ شوري کي آيت نمبر ۳۰ کي تفسير پوچھي تو فرمانے لگے: "کيا تم جانتے ہو کہ علي (ع) اور اس کے اہل بيت عليہم السلام مختلف مصائب ميں گرفتار ہوئے، کيا ان کے اعمال کي وجہ سے ايسا ہوا؟ حالانکہ وہ اہل بيت طہارت ہيں اور گناہ سے پوري طرح پاک اور مبرا۔" پھر آپ نے اپني بات جاري رکھتے ہوئے فرمايا: "رسول اللہ (ص) ہميشہ توبہ کيا کرتے تھے اور ہر دن رات ميں سو بار استغفار کرتے تھے، بغير کسي گناہ کا ارتکاب کئے۔ خداوند عالم اپنے اولياء اور حبيبوں کو مصائب و مشکلات ميں مبتلا کرتا ہے تاکہ ان کے صبر کے بدلے انہيں ثواب عطا کرے، کسي بھي گناہ کا مرتکب ہوئے بغير۔" (۳) اجر و پاداش کے حصول کے لئے مصائب اور شرور سے عبور کرنا ضروري ہے۔ اسي طرح امام علي عليہ السلام نے فرمايا ہے: "جنت غموں کے اندر اوردوزخ شہوات کے اندر پوشيدہ ہے۔" (۴) د۔ وہ قبض و بسط جن ميں ائمہ (ع) توحيدي مسائل کے دوران مبتلا ہوتے ہيں۔ اس کي وضاحت يوں کي جاسکتي ہے کہ ائمہ عليہم السلام اور پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) جب تک زندہ ہيں، ہميشہ ايک حالت ميں نہيں رہتے ہيں۔ انہيں بھي عرفاني حالات ميں فراز و نشيب کا سامنا رہتا ہے۔ کبھي کبھار وہ اوج پر ہوتے ہيں، جس طرح پيغمبر (ص) نے فرمايا ہے: "خدا سے خلوت ميں ميرے لئے ايک خاص لمحہ آتا ہے جس ميں نہ کوئي مقرب فرشتہ اور نہ کسي پيغمبر (ع) ميں اتني طاقت ہوتي ہے کہ وہ خدا سے اس طرح محبت کرے اور اس طرح بات کرے جس طرح ميں کرتا ہوں۔" (۵) اسي طرح ہم ايک اور حديث ميں يوں پڑھتے ہيں: "جب پيغمبر (ص) سدرۃ المنتہي کي منزل پر پہنچے تو جبريل امين عليہ السلام آپ سے پيچھے رہ گئے۔ رسول اللہ (ص) نے جبريل امين سے کہا: "کيا تم اس وقت مجھے تنہا اور بغير مددگار چھوڑ رہے ہو؟!" جبريل (ع) نے کہا: "آپ سيدھا چلتے رہيں! خدا کي قسم! آپ ايک ايسي جگہ پر پہنچ چکے ہيں کہ آپ سے پہلے اللہ کي مخلوق ميں سے کوئي بھي وہاں تک نہ پہنچ سکا تھا! پس ميں نے اپنے پروردگار کي روشني ميں ديکھا اور ميرے اور خدا کے بيچ صرف ايک "سبحہ" کا فاصلہ باقي رہ گيا۔ ميں نے کہا: "ميں آپ پر فدا ہوجاؤں، "سبحہ" سےکيا چيز مراد ہے؟! حضور (ص) نے سر سے زمين کي طرف اور ہاتھ سے آسمان کي طرف اشارہ کيا اور پھر فرمانے لگے: "ميرے پروردگار کا جلال! ميرے پروردگار کا جلال!" اور پھر آپ نے يہ جملہ تين بار دہرايا! (۶) اسي طرح زيارت جامعہ کبيرہ کا جملہ بھي اسي مقام کي طرف اشارہ کرتا ہے: (۷) خدا آپ کو سب سے عظيم مقام اور مقربوں ميں سب سے عظيم منازل اور رسولوں ميں رفيع ترين درجات سے نوازے يہاں تک کہ پہنچنے والوں ميں سے کوئي وہاں تک نہ پہنچ سکے اور ترقي کرنے والوں ميں سے کوئي اس سے اوپر تک نہ جاسکے اور آگے بڑھنے والوں ميں سے کوئي اس سے آگے نہ بڑھ پائے اور کوئي لالچي اسے پانے کا لالچ نہ کرسکے۔ وہاں جہاں کوئي مقرب فرشتہ باقي نہيں رہتا، کوئي مرسل پيغمبر (ع) باقي نہيں رہتا، کوئي صديق، کوئي شہيد، کوئي دانا، کوئي نادان، کوئي پست، کوئي باعظمت اور کوئي شائستہ مؤمن، کوئي بدکار فاجر، کوئي ہٹ دھرم، سرکش، کوئي نافرمان شيطان اور کوئي بھي دوسري مخلوق جو اس بات کي گواہي دے سکے بجز اس کے کہ خداوند عالم خود انہيں اس بات سے اگاہ کرے۔ تاکہ وہ اپنے قريب آپ کے امر کي جلالت، مقام کي عظمت، بڑي شان، مکمل روشني، مقام و مرتبے کي درستگي، اعلي مقام و منزلت اور شريف مقام و مرتبے کو اور اس پر آپ کي کرامت کو اور آپ جس خصوصيت کے مالک ہيں اور آپ کو اس کي نسبت جو قربت حاصل ہے، ان سب کو اچھي طرح جان ليں۔ ان حالات کي ايک خصوصيت يہ بھي ہے کہ جسم ميں انہيں برداشت کرنے کي تاب نہيں ہوتي اور کبھي کبھار لمبے وقفے کے لئے بے ہوشي کي حالت طاري ہوجاتي ہے۔ جس طرح امام علي عليہ السلام کے بارے ميں کہا گيا ہے کہ آپ (ع) ايک خشک لکڑي کي طرح زمين پر گر پڑتے تھے يہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہونے لگتا کہ آپ اس دارِ فاني سے رخصت ہوچکے ہيں (۸)۔ ليکن اگر معصوم (ع) پر ہميشہ ايسي حالت طاري رہے تو پھر وہ ديگر مخلوقات اور اپنے پيروکاروں کي طرف توجہ نہيں دے سکيں گے، نہ ان کي ہدايت کرسکيں گے اور نہ ان کے لئے اخلاق کا اعلي نمونہ ثابت ہوں گے۔ يہي وجہ ہے کہ خداوند عالم کے حکم سے وہ دن بھر کثرات سے دوچار رہتے ہيں اور ان اعلي عرفاني حالات سے فاصلہ اختيار کرليتے ہيں جو بذات خود شر کي ايک قسم شمار ہوتي ہے۔ شہادت کے بعد اس مادي دنيا سے رخصت ہوکر معصومين عليہم السلام وصول حق تعالي کي دائمي خوشي کا تجربہ کرتے ہيں اور ہميشہ اپنے پروردگار کے قريب عرفان کے اعلي ترين منازل کي سير کرتے ہيں اور چونکہ عالمِ آخرت ميں کسي قسم کي ذمہ داري يا امور کي انجام دہي کي شرط نہيں ہوتي، اس لئے ان کے لئے نيچے آنے کرنے کي ضرورت نہيں پڑتي۔ ہ۔ وہ شرور جو دوستوں کي طرف سے انہيں پيش آتے ہيں، جيسے اولاد کا غم، اپنے پيروکاروں اور شيعوں کے گناہوں کا دکھ، بيماري، فقر و فاقہ اور ديگر مشکلات اور مصائب کا غم وغيرہ تمام کے تمام معصومين عليہم السلام کي تکليف اور پريشاني کا باعث بنتے ہيں۔ امام علي عليہ السلام فرماتے ہيں: "(دنيا کے شرق و غرب ميں) کوئي مؤمن ايسا نہيں ہے جس کي بيماري کي وجہ سے ہم بيمار نہ ہوں اور جس کے غم و اندوہ ہميں اندوہگيں نہ کريں۔" (۹) اور يہ بالکل بھي بعيد نہيں، کيونکہ پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) اور امام علي (عليہ السلام) اس امت کے باپ ہيں۔ رسول اللہ (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) نے فرمايا: "يا علي! آپ کے شيعوں کے اعمال ہر جمعے کو ميرے سامنے پيش ہوتے ہيں اور ميں ان کے اعمال صالح کے لئے خوش ہوتا اور ان کے برے اعمال کے لئے استغفار کرتا ہوں۔" (۱۰) يہ بات بھي ذہن ميں رکھنے کي ہے کہ عرفاني حوالے سے دنيا کي تمام مخلوقات کا سرچشمہ انسان کامل ہے اور يہ تمام مخلوقات اس کے اعضاء و جوارح اور قوا کي حيثيت رکھتي ہيں۔ اس لئے اگر ان ميں سے کسي ايک کے لئے بھي کوئي مشکل اور پريشاني واقع ہو تو گويا انسان کامل کو نقصان پہنچتا ہے۔ دوسرے لفظوں ميں وہ مخلوقات کے گناہوں کو اپنے گناہ تصور کرتا ہے اور ان پر اس قدر زاروقطار روتا ہے، گويا اس کے اپنے گناہ ہوں۔ ايسي بہت سي احاديث ہيں جن ميں " ليغفرلک اللّه ماتقدم من ذنبک و ما تأخّر" (۱۱) والي آيت کي تفسير کرتے ہوئے پيغمبر (ص) کے پہلے اور بعد کے گناہوں کي بخشش کا ذکر کرتے ہوئے انہيں خود پيغمبر (ص) کے شيعوں کے گناہوں سے تعبير کيا گيا ہے۔ (۱۲) نوٹ: بعض اوقات معصومين (عليہم السلام) اپنے شيعوں کي طرف سے ايک اور سبب سے بھي شرور ميں گرفتار ہوتے ہيں اور وہ اس لئے ہے کہ معصومين (عليہم السلام) اپنے شيعوں کے ساتھ مدارا کا مظاہرہ کرتے ہيں يا پھر اس سے بھي بالاتر ہوکر اپنے شيعوں کے لئے اپني جان قربان کرتے ہيں۔ مثال کے طور پر پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) (بطور اسلامي معاشرے کے رہنما اور بطور ايک ايسي شخصيت جو اپني امت کي پرورش کرنا چاہتے تھے) بعض اوقات اپني امت کي آراء کے احترام ميں ايسے کام انجام دينے پر مجبور ہوجاتے تھے جو انہيں خود پسند نہيں تھا۔ مثال کے طور پر جنگ احد ميں انہوں نے اپنے اصحاب کي رائے کا احترام کيا۔ ہرچند اس کا نتيجہ ايک ظاہري شکست کي صورت ميں نکلا اور آپ کے جسمِ مبارک پر چوٹ بھي آئي۔ اسي طرح امام کاظم عليہ السلام اپنے شيعوں سے بلائيں اور مصائب کو دفع کرنے کے لئے زندان کي صعوبتيں برداشت کرنے پر مجبور ہوئے اور مدتوں زندانوں ميں رہے۔ (۱۳) يا اسي طرح تقيہ کے ترک کرنے کي وجہ سے بھي ائمہ (عليہم السلام) کو طرح طرح کي پريشانياں رہتي تھيں۔۔۔ ائمہ عليہم السلام کو اپنے شيعوں کي طرف سے اس طرح کے شرور بھي بے شمار پہنچے ہيں۔ و۔ وہ شرور جو خداوند عالم کي عبادت کرتے ہوئے ائمہ (عليہم السلام) کو پيش آتے ہيں۔ يہ شرور مزيد ذيلي اقسام ميں تقسيم ہوتے ہيں: پہلي قسم: يہ بات ٹھيک ہے کہ معصومين عليہم السلام گناہوں کي مختلف اقسام سے پاک اور مبرا ہيں اور شيطان کے وسوسے انہيں اس راہ ميں گمراہ نہيں کرسکتے ہيں، ليکن وہ جب تک اس عالم طبعيت ميں ہيں، شيطان ان کي طرف سے کبھي غافل نہيں ہوتا اور ہميشہ ان کي طرف جاتا رہتا ہے۔ اسي طرح ان ميں نفس امارہ بھي پوري طرح نابود نہيں ہوتا اور ہميشہ موجود رہتا ہے، اگرچہ معصومين عليہم السلام کي شديد محافظت کي وجہ سے نفس امارہ کي ہميشہ مذمت ہوتي رہتي ہے۔ سچ تو يہ ہے کہ معصومين عليہم السلام کي عصمت کا راز ہي يہي حفاظت اور شيطان اور نفس کے خلاف جہاد کرتے رہنا ہے، کيونکہ اگر معصومين عليہم السلام گناہ کرہي نہيں سکتے تھے اور يا فرشتوں کي طرح ان ميں کسي قسم کي نفسانيت اور شر سرے سے موجود ہي نہ ہوتا تو پھر وہ ہم پر کسي قسم کي برتري اور سبقت نہ رکھتے اور ہمارے لئے کبھي بہترين نمونہ عمل نہ بن سکتے تھے۔ قرآني آيات اور خود ہماري روايات بھي اس بات پر گواہ ہيں۔ امام علي عليہ السلام فرماتے ہيں: "برائي ہر شخص کي سرشت ميں شامل ہے۔ اگر انسان اس پر غالب آجائے تو وہ چھپي رہتي ہے اور اگر نہيں تو کھل کر سامنے آجاتي ہے۔" (۱۴) اس حديث کي بنا پر امام علي عليہ السلام تمام انسانوں کو اس قاعدے ميں شامل سمجھتے ہيں جن کي ذات اور وجود ميں برائي، شر اور رذيلہ صفات گھات لگائے بيٹھي ہوتي ہيں۔ دوسرے لفظوں ميں ان عناصر پر مشتمل جسم اور روح الہي پر مشتمل روح کي باہمي ترکيب کا مقصد بھي يہي تھا۔ يہي وجہ ہے کہ ہم ديکھتے ہيں کہ معصومين عليہم السلام زندگي کے آخري ايام تک خوف اور ملال ميں مبتلا رہتے تھے اور ہميشہ خداوند عالم کي پناہ کے طلبگار رہتے تھے۔ نماز وتر کے دوران حضرت امير المؤمنين عليہ السلام خداوند عالم سے مخاطب ہيں۔ فرماتے ہيں: " الهي لا سبيل الي الاحتراس من الذنب الا بعصمتک و لا وصول الي العمل الي الخير الا بمشيتک فکيف بالاحتراس ما لم يدرکني فيه عصمتک؟" يعني: "اے خدا! گناہوں سے بچنے کے لئے تيري حفاظت اور عصمت کے علاوہ دوسرا کوئي راستہ نہيں ہے اور خير اور اچھے اعمال تک پہنچنا تيري خواہش اور مشيت کے بغير ممکن نہيں ہے۔ پس معصيت اور گناہوں سے دوري تيري طرف سے عطا کردہ عصمت کے بغير کيسے ممکن ہے؟!" (۱۵) دوسري قسم: دوسري طرف بندگي کے آداب کا تقاضا ہے کہ معصوم (ع) اپنے اعمال سے ہميشہ خوفزدہ رہيں اور اسے خداوند عالم کي بارگاہِ کبريائي کے لائق نہ سمجھيں، کيونکہ دنيا کا کوئي بھي شخص خداوند عالم کا حق اس طرح ادا نہيں کرسکتا، جو اس کے مقام کے عين مطابق اور اس سے پوري طرح مناسبت رکھتا ہو۔ اسي لئے معصوم (ع) ہميشہ خوف ميں مبتلا رہتے ہيں اور خود کو ملزم خيال کرتے ہيں۔ قرآن کريم فرماتا ہے: " الَّذينَ يُؤْتُونَ ما آتَوْا وَ قُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلي‏ رَبِّهِمْ راجِعُونَ۔" ترجمہ: "جو لوگ اپني پوري کوشش کرتے ہيں اور اس کے باوجود ان کے دلوں ميں خوف ہوتا ہے کہ آخرکار انہيں اپنے پروردگار کي طرف لوٹ جانا ہے۔" اسي طرح امير المؤمنين عليہ السلام متقيوں کے اوصاف بيان کرتے ہوئے فرماتے ہيں: "وہ ہميشہ اپنے آپ کو گناہگار سمجھتے ہيں اور اپنے اعمال کي وجہ سے خوف ميں مبتلا رہتے ہيں۔" (۱۶) جيسے جيسے انسان ميں خداوند عالم کي شناخت اور معرفت بڑھتي جاتي ہے، اس ميں اس خوف کا اضافہ ہونا بھي ناگزير ہے: " انما يخشي الله من عباده العلماء." ترجمہ: "جو شخص بھي خدا کو پہچان لے، اس سے ڈرے۔" (۱۷) اس بنا پر کہنا چاہيے کہ انسان اس درد ميں مبتلا رہتے ہيں۔ ہرچند يہ خوف انسان کو کمال کي طرف لے جاتا ہے ليکن بذات خود ايک قسم کا دکھ بھي ہے جو حق تعالي سے ملاپ کے سبب دور ہوتا ہے: "الا ان اولياء الله لا خوف عليهم و لا هم يحزنون." انسان جب تک اس دنيا ميں رہتا ہے، استغفار اور توبہ کے ذريعے اسے (ہرچند عارضي طور پر) خود سے دور کرتا رہے۔ دوسرے لفظوں ميں ايسا صرف اس درد کي دوا يعني استغفار کے ذريعے ہي ممکن ہے۔ اسي لئے پيغمبر (ص) خود بھي استغفار فرماتے تھے اور اپنے پيروکاروں کو بھي اس بات کي سفارش کيا کرتے تھے۔ فرماتے ہيں: "تمہاري بيماري درد ہے اور اس کي دواء استغفار۔" (۱۸۳) تيسري قسم: آخرت کي ياد، اس کے عذابوں کے تصور، عذاب عالم قبر، جاں کني کے عذاب اور برے انجام کے خوف (کہ تمام کے تمام معصومين عليہم السلام کي عبادات کي ايک قسم شمار ہوتے ہيں) کا لازمہ ايک خاص قسم کا خوف ہے۔ اگرچہ يہ خوف عبادات کي اعلي ترين اقسام ميں شمار ہوتا ہے ليکن ساتھ ہي يہ شر اور رنج و الم کي ايک خاص قسم بھي ہے (کفار کي طرف سے ايجاد کردہ ان شرور کي طرح جنہيں انبياء عليہم السلام اور اوصياء عليہم السلام کو دين خدا کي ترويج کي راہ ميں برداشت کرنا پڑتا ہے، جو اگرچہ عبادت ہيں ليکن اس کے باوجود شر سے پوري طرح خالي نہيں ہيں)۔ ہم آيات اور روايات ميں پڑھتے ہيں کہ آخرت کے عذاب سے بچنے کا لازمہ دنيا ميں خداوند عالم کا خوف ہے۔ اس بنا پر معصوم (ع) کو بھي اپنے بعض وجودي مراتب ميں اس خوف کي ضرورت پڑتي ہے؛ جس طرح دعائے کميل، دعائے ابو حمزہ اور اس طرح کي بہت سي ديگر دعاؤں اور مناجات ميں يہ حقيقت واضح طور پر سامنے آتي ہے۔ دوسرے لفظوں ميں معصوم (ع) کے دل ميں خوف اور رجاء متوازن انداز ميں بيک وقت موجود ہيں اور بالکل دو پروں کي طرح انہيں اس عالمِ طبعيت سے اوپر اٹھنے، پرواز کرنے اور عروج حاصل کرنے کي قوت فراہم کرتے ہيں، کيونکہ جيسا کہ ہم پہلے ہي اشارہ کرچکے ہيں، مصوم (ع) کے ساتھ بھي نفس اور شيطان لگا رہتا ہے اور يہي حفاظتي اقدامات اور توجہات ہيں جو انہيں دنيا پرستي اور گناہوں ميں پڑنے سے محفوظ رکھتے ہيں۔ يہاں ايک بار پھر ضروري ہے کہ ہم گزشتہ مطالب کو از سرِ نو دہرائيں اور کہيں کہ معصومين عليہم السلام ہميشہ خداوند عالم کي طرف خاص اور خالص توجہ نہيں ديتے، اس لئے ان کے لئے بھي خوف اور رجاء سے تمسک کرنا ضروري ہے۔ چوتھي قسم: ہم بيان کرچکے ہيں کہ معصوم (ع) ہميشہ ايک ہي حالت ميں نہيں رہتے۔ کبھي اوج پر رہتے ہيں اور کبھي زوال اور پستي کي حالت ميں۔ يہي وجہ ہے کہ جب وہ اپنا موازنہ زوال اور پستي کے حالات سے کرتے ہيں تو اپني عبادات کو ناقص اور باطل خيال کرتے ہيں اور اپنے آپ کو گناہگار سمجھتے ہيں، خود کو حضرت حق کي بے کراں نعمتوں کا شکرگزار نہيں سمجھتے ہيں اور اس بنا پر خود کو تمام لوگوں سے کمتر خيال کرتے ہيں۔ وجودي اعتبار سے انسان مختلف مراتب اور ابعاد کا حامل ہے۔ اس کي خصوصيات ميں سے ايک خصوصيت يہ ہے کہ وہ ہر خاص کيفيت ميں اپنے مراتب اور ابعاد ميں سے صرف ايک پر ہي غور کرسکتا ہے اور اپني ساري توجہ اسي پر مرکوز کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر جو شخص قرب الہي سے متعلق انتہائي کمال اور اعلي ترين مراتب پر فائز ہوچکا ہے، اپني توجہ نبوت، امامت اور مقام فيض کي وساطت کي طرف (جو اعلي ترين نعمت الہي ميں شمار ہوتي ہے) معطوف کرسکتا ہے اور اس انتہائي بلند مرتبے پر اپني توجہ مرکوز رکھتے ہوئے کہہ سکتا ہے: "ميں جنت اور جنہم کا بانٹنے والا ہوں۔" اس صورت ميں وہ صرف اس نعمت اور اعلي مقام کي خبر دے رہا ہوتا ہے جو خداوند عالم نے اسے بخشا ہے۔ ليکن جب اپني ابتداء پر توجہ کرتا ہے، جو ايک حقير، ناچيز اور شعور سے عاري نطفہ ہے، تو کہہ اٹھتا ہے: "اے خدا! ميں وہي حقير اور ناچيز نطفہ ہوں اور تمام کمالات، خوبيياں اور نعمتيں تيري عطا کردہ ہيں۔" اسي طرح جب وہ اپني توجہ مقام حيوانيت پر مرکوز کرتا ہے جو تمام انسانوں کے درميان وجہ مشترک ہے اور تمام تر جبلتوں، نفس امارہ اور ديگر شيطاني کشش کي کا سرچشمہ، تو کہتا ہے: "اے خدا! تو نے مجھے مقام عصمت عطا کيا اور مجھے تمام گناہوں اور طغيانگري سے بچايا اور اگر تيرا يہ لطف اور تفضل ميرے شامل حال نہ ہوتا تو دوسروں کي طرح ميں بھي شيطاني وسوسوں اور ہوائے نفس کا اسير ہوکر رہ جاتا اور گناہوں کے بھنور ميں گھرا رہتا۔" پھر جب وہ اپنے ذاتي فقر کو ديکھتا ہے اور اپنے آپ کو تمام تر خاميوں اور محدوديت کا اصلي سرچشمہ پاتا ہے اور اس کے برعکس، خداوند عالم کو تمام خزانوں اور کمالات کا منشاء ديکھتا ہے، تو تمام خاميوں اور کميوں کو اپنے آپ سے مربوط سمجھتے ہوئے کہتا ہے: "اے خدا! ميں جاہل، نادان اور فقير ہوں۔ يہ تو ہے جس نے مجھے زندگي دي، عقل و شعور عطا کيا اور مقامِ عصمت سے بہرہ مند کيا اور تو نے ہي مجھے تمام گناہوں اور انحرافات سے بچايا۔" (۱۹) نچلے اور ادني مقامات کي طرف يہ توجہ (اور اعلي و ارفع منازل سے ان کا باہمي تقابل) - کہ اگرچہ ايسي توجہ نہايت ضروري ہے کيونکہ ايک امام کے لئے لازمي ہے کہ وہ اپني خلقت کے تمام مراتب پر يکساں توجہ ديں - بھي بجائے خود ايک طرح کا شر ہے کيونکہ اس کے ساتھ ہي رنج و الم، گريہ و زاري اور تنگي اور بے مايگي کا ايک احساس بھي سر اٹھانے لگتا ہے۔ پانچويں قسم: اگرچہ عبادت کي لذت (خاص طور پر خداوند عالم سے مناجات اور رازونياز کي لذت) دنيا کي تمام تر لذتوں سے بالاتر ہے ليکن ايک معصوم (ع) کو معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا قيام ہميشہ عابد و معبود کي دوگانگي پر مبني ہوتا ہے اور ہميشہ اس چيز کو شر سے تعبير کرتا ہے۔ اس لئے ہميشہ اس انتظار ميں رہتا ہے کہ يہ ادھار روح جو حضرت حق نے اسے بخشا ہے، کسي دن اسے دوبارہ لوٹا دے اور اس طرح دوگانگي کے شر سے آزاد ہوجائے اور پھر حضرت حق (جل و علا) خود ہي عابد ہو اور خود ہي معبود؛ بلکہ اس سے بھي کہيں آگے، خدا کي ذات ميں فاني ہوکر عبادت کا قصہ ہي تمام کردے۔ اس کلام کي تفصيل اس نقطہ نگاہ سے بيان کي جاسکتي ہے: و: وہ شرور جن کا سامنا انہيں وجودي نورانيت کي وجہ سے رہتا تھا۔ اس مطلب کا بيان حسبِ ذيل تفصيل کي روشني ميں کيا جاسکتا ہے: دل جتنا نازک اور صاف ہوگا، اس ميں تاريکيوں کا ظہور بھي اسي قدر نماياں اور روشن ہوگا؛ پيغمبر اسلام (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) اور اولياء اللہ کے قلوب دنيا کے سب سے صاف، نوراني اور آگاہي رکھنے والے قلوب تھے؛ حضور (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) جب ابوجہل اور ابوسفيان جيسي مخلوقات کا سامنا کرتے تھے تو يہ بات ان کے دل ميں کدورت کا باعث بنتي تھي اور اس سے رسول اللہ (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) کے دل کے آئينے پر زنگار آجاتا تھا؛ اس طرح رسول اللہ (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) اپنے قلبِ مبارک ميں چھوٹي سي چھوٹي تاريکي کو بھي فوراً محسوس کرليتے تھے اور اسے گناہ شمار کرتے تھے۔ اس لئے اس زنگار کو دور کرنے کے لئے فوراً استغفار کرنے لگتے تھے۔ ز: وہ شرور جن کا تعلق عالم مادہ سے بالا تر امور سے ہے (نوري حجابات)۔ "إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي کُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً؛ يعني: بے شک ميرے دل کو ايک غبار ڈھانپ ديتا ہے اور ميں ہر دن ستر مرتبہ خدا سے طلب مغفرت کرتا ہوں" (۲۰) والي حديث شريف کي وضاحت کرتے ہوئے بعض علماء کہتے ہيں: "اس سے مراد ايسا استغفار ہے جو حجاب کے حصول سے روکتا ہے اور وہ استغفار مراد نہيں ہے جو وجود ميں آنے والے ان حجابات کو ہٹاتا ہے؛ کيونکہ فرشتوں کي طرف توجہ يا وحي کي طرف توجہ بھي ايک قسم کا حجاب ہے۔ وہ حجاب جس کے لئے عام طور پر استغفار کيا جاتا ہے، خود ظلماني اور نوراني حجابات ميں شامل ہے، ليکن انبياء (ع) اور ائمہ (ع) کي شان ظلماني حجابات سے منزہ و مبرا ہے اور ان کے لئے ظلماني حجابات سرے سے ہيں ہي نہيں کہ انہيں دور کرنے کي نوبت آئے۔ اس بنا پر پہلي بات تو يہ ہے کہ معصومين (عليہم السلام) کے استغفار کا ہدف حجب کو دفع کرنا (يعني ايسا کام کرنا ہے جس سے حجاب وجود ہي ميں نہ آئے) ہے، انہيں رفع کرنا (يعني حجاب وجود ميں آنے کے بعد انہيں ختم کرنا) نہيں۔دوسري بات يہ ہے کہ دفع بھي نوري حجابات کے دائرے تک ہي محدود ہے، اور ظلماني حجابات کے دائرے ميں نہيں آتا۔ دوسرے لفظوں ميں نوراني مقامات پر توجہ بھي - بجائے خود - ممکن ہے حجاب بن جائے کہ معصومين (عليہم السلام) ان جيسے حجابات سے بھي خدا کي پناہ مانگتے ہيں اور ان سے چھٹکارا پانے کے لئے خدا سے دعا مانگتے ہيں۔ (۲۱) رومي کے بقول: کار پاکان را قياس از خود مگير گرچه ماند در نبشتن شير و شير جمله عالم زين سبب گمراه شد کم کسي ز ابدال حق آگاه شد همسري با انبيا برداشتند اوليا را همچو خود پنداشتند گفته اينک ما بشر ايشان بشر ما و ايشان بسته خوابيم و خور اين ندانستند ايشان از عما هست فرقي در ميان بي‏منتها هر دو گون زنبور خوردند از محل ليک شد زان نيش و زين ديگر عسل هر دو گون آهو گياه خوردند و آب زين يکي سرگين شدو زان مشک ناب هر دو ني خوردند از يک آبخور اين يکي خالي و آن ديگر شکر صدهزاران اين‌چنين اشباه بين فرقشان هفتادساله راه بين (ترجمہ: پاک لوگوں کے کام کو اپنے پر قياس نہ کر۔ اگرچہ لکھنے ميں شير (درندہ) اور شير (دودھ) يکساں ہوتا ہے۔ اس وجہ سے پورا عالم گمراہ ہوگيا۔ بہت کم کوئي خدا کے ابدال سے واقف ہوا۔ انہوں نے انبياء (عليہم السلام) کے ساتھ برابري کا دعوي کھڑا کرديا اور اولياء کو اپنے جيسا سمجھ ليا۔ يہ کہا کہ ہم بھي انسان ہيں اور وہ بھي انسان ہيں۔ ہم اور وہ سونے اور کھانے کے پابند ہيں۔ اندھے پن سے وہ يہ نہ سمجھے کہ ان دونوں ميں بے انتہا فرق ہے۔ دونوں قسم کي بھڑوں نے ايک ہي جگہ سے کھايا ليکن اس سے ڈنک اور اس سے شہد بنا۔ دونوں قسم کي ہرنوں نے گھاس اور پاني کھايا اور پيا۔ اس ايک کا گوبر بنا اور دوسرے کا خالص مشک۔ دونوں نرسلوں نے ايک ہي گھاٹ سے پاني کيا ليکن ايک کھوکھلي اور دوسري شکر سے بھري ہوئي ہے۔ اس طرح کي لاکھوں اور مثاليں تيرے سامنے ہيں (ليکن) ان ميں سترسالہ راہ کا فرق دکھائي ديتا ہے۔) اگرچہ استغفار اور خدا کي ياد کي وجہ سے چودہ معصومين (ع) کو اس قسم کے حجابات کا سامنا نہيں کرنا پڑتا ليکن انہيں خود سے دور کرنے کے لئے سخت محنت اور جدوجہد کي ضرورت پڑتي ہے ليکن يہ جدوجہد اور محنت بھي موت يا شہادت کے ساتھ ہي ختم ہوجاتي ہے۔ ۵۔ جہاں تک آپ کے اس سوال کا تعلق ہے جو آپ نے آخر ميں پوچھا ہے يعني: "کيا ايسي دعائيں آيہ تطہير کے منافي نہيں ہيں؟" تو جواباً ہميں کہنا ہوگا کہ دراصل جو آپ نے کہا ہے اصل بات اس کے بالکل برعکس ہے کيونکہ بعض لوگوں نے اس مسئلے کے بارے ميں يہ شبہ کيا ہے کہ آيہ تطہير ميں دو الفاظ "تطہير" اور "اذہاب" کے پيش نظر ضروري ہے کہ پہلے آلودگي اور گناہوں کا وجود ہو تاکہ خداوند عالم انہيں ائمہ اطہار عليہم السلام سے دور کرے۔ اس بنا پر اس تطہير کا تعلق زيادہ تر پہلے سے موجود شرور سے ہے بہ نسبت ان شرور کے جو ابھي تک وجود ميں ہي نہيں آئے ہيں۔ اگرچہ يہ استدلال مردود اور باطل ہے (کيونکہ قرآن کريم، روايات اور لغات عرب ميں موجود تمام قرائن و شواہد اس بات کي نشاندہي کرتے ہيں کہ "اذہاب" اور "تطہير" جيسے الفاظ گناہوں اور آلودگيوں کو دور کرنے کے لئے بھي استعمال کئے جاتے ہيں) تاہم يہ شر کي دونوں اقسام پر اس آيت کے مشتمل ہونے سے منع نہيں کرتا۔ اس ميں کيا قباحت ہے کہ خداوند عالم شرور کے ايک دستے سے ابتداء ہي سے کسي کو دور رکھے اور دوسرے دستے ميں اس کے گرفتار ہونے کے بعد ان شرور کو اس سے دور کردے؟! يہ تمام اس صورت ميں ہے جب ہم "رجس" اور "پليدي" جيسے الفاظ کو عرفاني شرور ميں بھي داخل سمجھيں کيونکہ اگر کوئي يہ دعوي کرے کہ آيت ميں موجود لفظ "رجس" سے مراد صرف فقہي اور اخلاقي پليدي ہے تو پھر اس پر مزيد درج بالا اعتراض نہيں کيا جاسکتا ہے۔ ۶۔ بحث کو اس طرح سے سميٹا جاسکتا ہے کہ اگرچہ اہل بيت عليہم السلام (فقہي اور اخلاقي) گناہوں کے مرتکب نہيں ہوتے تھے ليکن اس کے باوجود انہيں شرور کا سامنا رہتا تھا کيونکہ جب تک انسان اس دنيا ميں رہتا ہے، اسے فطري آفات اور آلام سے مفر نہيں کيونکہ يہ حکم خداوند عالم کي ازلي عدالت کا حصہ ہے اور خداوند عالم نے خود چاہا ہے کہ تمام انسان (چاہے وہ معصوم ہوں يا غير معصوم) اس دنيا ميں مسائل و مصائب کا شکار رہيں جس کے تحت انہيں خداوند عالم کي حکمت کے پيش نظر اجر اور ثمر ملے گا۔ معصومين عليہم السلام کے بارے ميں بھي ہم نے مختلف اقسام کے شرور گنے، جن سے وہ صرف اس دنيا سے رحلت کے بعد ہي چھوٹتے ہيں۔ ان کے علاوہ کچھ ايسے شرور بھي ہيں جن سے انہيں اسي دنيا ميں رہائي نصيب ہوگئي ہے (جيسے اپنے نفس اور جسم سے عارضي طور پر جدا ہونا، مادي اور مثالي جسم کو خالي کرنا اور حريم کبريائي ميں پرواز کرنا جو دن رات کے بعض لمحات ميں انہيں ميسر آيا کرتا تھا)۔ اسي طرح بعض شرور کا تعلق بھي اس عالم فطرت کے بعد کي دنيا سے ہے جو خلقي حجاب اور محدوديت کا لازمہ ہے اور ان شرور سے بھي ائمہ عليہم السلام کو اسي وقت چھٹکارا مل جائے گا۔


منابع اور مآخذ:

۱۔ سورہ نساء، آيت نمبر ۷۹ ۲۔ أن تصلّي علي محمّد و آل محمّد و أن تعطيني أماناً لنفسي و أهلي و ولدي و سائر ما أنعمت به عليّ حتّي لا أخاف أحداً و لا أحذر من شيءٍ أبداً إنّک علي کلّ شيءٍ قديرٌ و حسبنا الله و نعم الوکيل يا کافي إبراهيم نمرود و يا کافي موسي فرعون و يا کافي محمّد(ص) الأحزاب أسألک أن تصلّي علي محمّد و آل محمّد و أن تکفيني شرّ فلان بن فلان: نورى، حسين بن محمد تقى، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، اٹھائيس جلديں، مؤسسة آل البيت عليهم السلام - قم، پہلا ايڈيشن، 1408ق، جلد نمبر ۶، صفحہ نمبر ۷۶. ۳۔ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ کانَ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَ يَسْتَغْفِرُ فِي کُلِّ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ مِأَةَ مَرَّةٍ مِنْ غَيْرِ ذَنْبٍ إِنَّ اللَّهَ يَخُصُّ أَوْلِيائَهُ بِالْمَصائِبِ لِيَأْجُرَهُمْ عَلَيْها مِنْ غَيْرِ ذَنْبٍ(مکارم شيرازى ناصرتفسير نمونه ستائيس جلديں (فارسي) پبليشرز: دار الکتب الإسلامية تهران پہلا ايڈيشن 1374 ش، جلد نمبر ۲۰، صفحہ نمبر ۴۴۲ ۴۔ انّ الجنةَ حُفّتْ بالمکاره، وانّ النّارَ حُفّتْ بالشهوات(ابن أبي الحديد، عبد الحميد بن هبة الله، شرح نهج البلاغة لابن أبي الحديد، ۱۰ جلديں، مکتبة آية الله المرعشي النجفي - قم، پہلا ايڈيشن، 1404ق، جلد نمبر ۱۰، صفحہ نمبر ۱۶ ۵۔ لِي‌مَعَ اللَهِ وَقْتٌ لَا يَسَعُنِي‌فِيهِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَ لَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ.(طباطبايي طهراني، محمد حسين؛ الله‌شناسي / پہلي جلد/ پانچويں قسط: ديدار معراج کي رات خدا سے پيغمبر (ص) کي ملاقات، پيغمبر (ص) کا مقام، خدا کے علاوہ سب کچھ حجاب ہے، صفحہ نمبر ۱۱۴ ۶۔ فَلَمَّا انْتَهَي‌بِهِ إلَي‌سِدْرَةِ الْمُنْتَهَي‌، تَخَلَّفَ عَنْهُ جَبْرَئِيلُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَهِ صَلَّي‌اللَهُ عَلَيْهِ وَ ءَالِهِ: فِي‌هَذَا الْمَوْضِعِ تَخْذُلُنِي‌؟! فَقَالَ: تَقَدَّمْ أَمَامَکَ! فَوَاللَهِ لَقَدْ بَلَغْتَ مَبْلَغًا لَمْ يَبْلُغْهُ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَهِ قَبْلَکَ! فَرَأَيْتُ مِنْ نُورِ رَبِّي‌، وَ حَالَ بَيْنِي‌وَ بَيْنَهُ السُّبْحَةُ. قُلْتُ: وَ مَا السُّبْحَةُ جُعِلْتُ فِدَاکَ؟! فَأَوْمَي‌بِوَجْهِهِ إلَي‌الارْضِ وَ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إلَي‌السَّمَآءِ وَ هُوَ يَقُولُ: جَلَالُ رَبِّي‌! جَلَالُ رَبِّي‌! ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. (ايضا.) ۷۔ فَبَلَغَ اللَهُ بِکُمْ أشْرَفَ مَحَلِّ الْمُکَرَّمينَ وَ أعْلَي‌مَنازِلِ الْمُقَرَّبينَ وَ أرْفَعَ دَرَجاتِ الْمُرْسَلينَ، حَيْثُ لا يَلْحَقُهُ لاحِقٌ وَ لا يَفوقُهُ فآئِقٌ وَ لا يَسْبِقُهُ سابِقٌ وَ لا يَطْمَعُ في‌إدْراکِهِ طامِعٌ، حَتَّي‌لا يَبْقَي‌مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَ لا نَبيٌّ مُرْسَلٌ وَ لا صِدّيقٌ وَ لا شَهيدٌ وَ لا عالِمٌ وَ لا جاهِلٌ وَ لا دَنيٌّ وَ لا فاضِلٌ وَ لامُؤْمِنٌ صالِحٌ وَ لا فاجِرٌ طالِحٌ وَ لا جَبّارٌ عَنيدٌ وَ لا شَيْطانٌ مَريدٌ وَ لاخَلْقٌ فيما بَيْنَ ذَلِکَ شَهيدٌ إلاّ عَرَّفَهُمْ جَلالَةَ أمْرِکُمْ وَ عِظَمَ خَطَرِکُمْ وَ کِبَرَ شَأْنِکُمْ وَ تَمامَ نورِکُمْ وَ صِدْقَ مَقاعِدِکُمْ وَ ثَباتَ مَقامِکُمْ وَ شَرَفَ مَحَلِّکُمْ وَ مَنْزِلَتِکُمْ عِنْدَهُ وَ کَرامَتِکُمْ عَلَيْهِ وَ خآصَّتَکُمْ لَدَيْهِ وَ قُرْبَ مَنْزِلَتِکُمْ مِنْهُ. ديکھئے: مفاتيح الجنان؛ زيارت جامعه کبيره. ۸۔ ديکھئے: آيت اللهي، مهدي؛ الامام علي بن ابيطالب (عليهماالسلام)؛ پبليشر: انصاريان، قم: 1379؛ صص ۱۰۹ و ۱۱۰ ۹۔ ديکھئے: ينابيع المعاجز المؤلف السيد هاشم البحراني، پہلي جلد ، صفحہ نمبر 193 فقاہت اسکول ڈيجيٹل لائبريري؛ محمد بن الحسن الصفار عن الحسن بن على بن النعمان عن ابيه قال حدثنى الشامي عن ابى داود السبيعى عن ابى سعيد الخدرى عن رميلة قال: وعکت وعکا شديدا في زمان امير المؤمنين (ع) فوجدت في نفسي خفة في يوم الجمعة وقلت لا اعرف شيئا افضل من ان افيض على نفسي من الماء واصلي خلف امير المؤمنين (ع) ففعلت ثم جئت الى المسجد فلما صعد امير المؤمنين (ع) المنبر عاد على ذلک الوعک فلما انصرف امير المؤمنين (ع) ودخل القصر دخلت معه فقال يا رميلة رأيتک وانت متشبک بعضک في بعض فقلت نعم وقصصت عليه القصة التى کنت فيها والذى حملني على الرغبة في الصلوة خلفه فقال: يا رميلة ليس من مؤمن يمرض الا مرضنا لمرضه ولا يحزن الا حزنا لحزنه ولا يدعو الا أمنا لدعائه ولا يسکت الا دعونا له. فقلت له يا امير المؤمنين (ع) جعلت فداک هذا لمن معک في المصر (القصر - خ م) ارأيت ان کان في اطراف البلاد (الارض - خ م) قال: يا رميلة ليس يغيب عنا مؤمن في شرق الارض ولا غربها ۱۰۔ بحار الأنوار - ط مؤسسةالوفاء المؤلف: العلامة المجلسي، جلد ۶۸، صفحہ نمبر 41 فقاہت اسکول ڈيجيٹل لائبريري ۱۱۔ سورہ فتح، آيت نمبر ۲ ۱۲۔ روي عمروبن يزيد قال قلت لا بي عبداللّه (ع) قول اللّه عزوجل ليغفراللّه ماتقدم من ذنبک و ماتأخر قال ما کان له ذنب و لاهم بذنب و لکن اللّه حمل ذنوب شيعته ثم غفرها له (مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار (بيروت)، 111جلد، دار إحياء التراث العربي - بيروت، دوسرا ايڈيشن، 1403 ق، جلد نمبر ۱۷، صفحہ نمبر 76 ۱۳۔ ديکھئے: کلينى، محمد بن يعقوب بن اسحاق، الکافي (دارالحديث)، جلد نمبر ۱۵، دار الحديث - قم، پہلا ايڈيشن، ق‏1429؛ جلد نبمر ۱، صفحہ نمبر 646 ۱۴۔ الشَّرُّ کامِنٌ في طَبيعَةِ کُلِّ أحَدٍ، فإن غَلَبَهُ صاحِبُهُ بَطَنَ، و إن لم يَغلِبْهُ ظَهَرَ: (تميمى آمدى، عبد الواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم (مجموعة من کلمات و حکم الإمام علي عليه السلام)، جلد نمبر ۱، دار الکتاب الإسلامي - قم، دوسرا ايڈيشن، 1410 ق، صفحہ نمبر 127.) ۱۵۔ پاچناري اصفهاني، ملا عبدالرحيم؛ رساله عصمتيه، اصلاح و حاشيہ: جويا جهانبخش، مجله آيينه ميراث، موسم گرما 1387 - نمبر 41 ؛ صفحہ نمبر 258 ۱۶۔ فهم من انفسهم متهمون و من اعمالهم مشفقون: شريف الرضى، محمد بن حسين، نهج البلاغة (للصبحي صالح)، پہلي جلد، هجرت - قم، پہلا ايڈيشن، 1414 ق، صفحہ نمبر 304 ۱۷۔ من عرف الله خافه: مستدرک الوسائل، جلد نمبر ۱۱، صفحه نمبر: 228 ۱۸۔ دائکم الذنوب و دوائکم الاستغفار: مستدرک الوسائل، جلد نمبر 12 صفحه نمبر 123 ۱۹۔ رجوع کريں: مصباح يزدي، محمّدتقى؛ معصومين عليہم السلام کے اقرار اشتباہ کي وجوہات (چرايى اعتراف معصومان عليهم‌السلام به قصور و کوتاهى)؛ نشريه معرفت، امام خميني (رہ) تعليمي اور تحقيقي ادارہ؛ فقاہت اسکول ڈيجيٹل لائبريري؛ جلد نمبر ۱۴۷، صفحہ نمبر 3 ۲۰۔ مستدرک ‏الوسائل، محدث نوري، جلد نمبر ۵، صفحہ نمبر ۳۲۰، حديث نمبر ۵۹۸۷؛ النيشابوري مسلم بن الحجاج، جامع الصحيح (صحيح مسلم)، آٹھ جلديں، عربي، ناشر: دار الفکر- بيروت، جلد نمبر ۸ ، صفحہ نمبر ۷۲؛ السجستاني سليمان بن الاشعث، سنن ابي داوود، دو جلديں، عربي، تحقيق: سعيد محمد اللحام، ناشر: دار الفکر -بيروت، پہلا ايڈيشن 1410 ه.ق، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر 339؛ بحارالأنوار، علامه مجلسي، جلد نمبر 17، صفحہ نمبر 44 ۲۱۔ رجوع کريں: حميدرضا شاکرين، عصمت و استغفار؛ تعاند، تلائم يا تلازم؛ فصلنامه معرفت کلامي،دوسرا سال، نمبر ۲ (مسلسل ۶)، موسم گرما ۱۳۹۰ ہجري شمسي۔ -------------------------------- www.abp-miftah.com گروه پاسخ‏گويي سايت پرسش و پاسخ پورتال اهل‏بيت (عليهم‏السلام)


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے