سوال کا متن:

کيا مفاتيح الجنان ميں موجود زيارت عاشورا غير معروفہ معصوم ص کي تعليم کردہ ہے ؟


وزیٹر کی تعداد: 286    گروپ کاری: زیارت عاشورا         
جواب:

السلام عليکم، محدث نوري (رہ) نے يہ زيارت امام باقر(ع) سے نقل کي ہے، جس کي سند کچھ يوں ہے: المزار القديم : عن علقمة بن محمّد الحضرمي : عن أبي جعفر الباقر (۱) علاوہ برايں يہ کہ خود امام صادق (ع) نے بھي امير المؤمنين عليہ السلام کے سرمبارک کے پاس امام حسين عليہ السلام کي زيارت کے لئے اپنے پدر بزرگوار کي اس تحرير کي تصديق و تائيد فرمائي ہے۔ (۲) محمد رحيم بن محمد بروجردي غروي مشہدي نے اس زيارت کي شرح لکھي ہے۔ (۳) مرحوم نوري (ع) نے اس زيارت کو مسجد کوفہ کے چند غير معروف آداب کے ساتھ ‘‘سلامۃ المرصاد’’ کے عنوان کے تحت ‘‘مشاہد شريفہ’’ نامي کتاب ميں ذکر کيا ہے۔ (۴) جو اس زيارت پر ان کے خاص توجہ کي وضاحت کرتا ہے۔ اس زيارت کے ديگر ناقلين ميں علامہ ميرزا ابوالفضل تہراني (رہ) صاحب کتاب ‘‘شفاء الصدور’’ ہيں۔ (۵) اسي طرح علامہ سيد محسن امين (رہ) نے بھي کتاب مفتاح الجنات في الاديہ والاعمال والصلوات والزيارات ميں اسے لکھا ہے۔ (۶) اور جس طرح آپ نے بيان کيا، محدث قمي نے بھي اس زيارت کو مفاتيح الجان ميں لکھا ہے۔ شايد ہم کہيں کہ آيت اللہ مکارم شيرازي الزار القديم کي کتاب کو معتبر سمجھتے ہيں کيونکہ - اگرچہ انہوں نے مفاتيح نوين ميں اس زيارت کو بيان نہيں کيا - اس کے باوجود يہ ديکھتے ہوئے کہ انہوں نے بعض زيارات اسي کتاب سے ذکر لي ہيں، اس لئے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزديک يہ کتاب بذات خود معتبر ہے کيونکہ کتاب ‘‘جديد مفاتيح الجنان’’ کے شروع ميں آيا ہے کہ اس کتاب ميں تمام دعائيں، زيارات اور اذکار معتبر مناطع سے نقل کئے گئے ہيں۔ (۷) يہاں چند نکات کي طرف اشارہ ضروري ہے: ۱۔ پرانے مزار سے کيا مراد ہے؟ کيا پرانا مزار وہي مزار کيبر ہے؟ ۲۔ ايسا کيوں ہے کہ موجودہ روايائي انسائکلوپيڈيا ميں سے يہ زيارت صرف مستدرک الوسائل ميں نقل ہوئي ہے؟ ۳۔ اس کتاب کے نسخے کہاں سے مليں گے؟ اور کيا يہ کتاب چھپي بھي ہے يا نہيں؟ اگرچہ مزار کي کتب ميں سے تينتيس مزارات کے مؤلفين زيادہ جانے مانے افراد نہيں ہيں۔ (۸) تاہم ‘‘پرانے مزار’’ (جو اس وقت ہمارا موضوع بحث بھي ہے) کے بارے ميں کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت اس کے کم سے کم دو نسخے دستياب ہيں۔ (۹) يہاں چند احتمالي صورتيں ہيں، جنہيں بيان کيا جاسکتا ہے: الف: اس سے مراد وہي ‘‘مزار ابن المشہدي’’ ہے جو بحار الانوار اور بعض ديگر کتاب ميں ‘‘المزار الکبير’’ کے نام سے مشہور ہے۔ (۱۰) ليکن تھوڑي سي تلاش اور جسجتو کے بعد يہ احتمال زائل ہوجاتا ہے کيونکہ ابن المشہدي کي کتاب ميں ايسي کوئي روايت نقل نہيں ہوئي ہے۔ ب: بعض لوگوں نے اس کے مولف کے بارے ميں سکوت اختيار کيا ہے اور مولف کے دور تک ہي محدود رہنے کو ترجيح دي ہے اور صرف ايک ناقص حوالے پر اکتفاء کيا ہے يا پھر وہ حوالہ بھي غلط ديا گيا ہے۔ (۱۱) مجموعي طور پر مستدرک ميں جہاں کہيں ‘‘المزار القديم’’ سے کچھ نقل ہوا ہے، محققين نے حاشيے ميں اس کا حوالہ نہيں ديا اور صرف ‘‘المزار القديم’’ پر ہي اکتفاء کيا ہے۔ جي ہاں! ايک جگہ لفظ ‘‘مخطوط’’ کا اضافہ ضرور کيا ہے۔ (۱۲) ج: بعض لوگوں نے مولف کو چھٹي صدي اور مرحوم طبرسي يعني صاحب احتجاج کا ہمعصر بتايا ہے۔ (۱۳) بعض لوگوں نے اس بيان کا مطلب بيان کرتے ہوئے يوں توجيح کي ہے کہ چونکہ وہ ايک ‘‘واسطے’’ کے ساتھ اسے شيخ طوسي کے بيٹے سے نقل کرتے ہيں۔ (۱۴) استاد رسول جعفريان نے مؤلف جس صدي ميں حيات تھے، صرف اسي پر اکتفاء کيا ہے۔ (۱۵) د: بعض لوگوں نے کتاب کا مؤلف قطب الدين راوندي کو قرار ديا ہے۔ (۱۶) جبکہ بعض لوگ اس بارے ميں ان کے اور صاحب احتجاج يعني طبرسي کے مابين شک و شبہ کا شکار ہيں۔ (۱۷) مرحوم قمي بھي اس کتاب کے انتساب کے بارے ميں پوري طرح يقين سے نہيں کہتے اور فرماتے ہيں کہ بظاہر يہ کتاب قطب الدين راوندي کي ہے۔ (۱۸) معاصر علماء ميں سے مرزا جواد تبريزي (۱۹) اس نظريے کي حمايت کرتے ہيں۔ اسي طرح آيت اللہ صافي گلپايگاني بھي لکھتے ہيں کہ اس کتاب کے مولف بظاہر قطب راوندي ہيں۔ (۲۰) ان سے پہلے محدث نوري (رہ) نے اپني بہت اہم کتاب مستدرک الوسائل کے اختتام پر اس مطلب کو بيان کرتے ہيں۔ تاہم يہ بات ذہن ميں رکھنا چاہيے کہ جس طرح ہم آگے ديکھيں گے کہ انہوں نے المزار القديم کا مولف قطعي طور پر مذکورہ افراد ميں سے کسي ايک کو بھي قرار نہيں ديا ہے۔ د: محدث نوري کي رائے: چونکہ انہوں نے خود يہ زيارت مزار قديم سے نقل فرمائي ہے، اس لئے مذکورہ کتاب کے بارے ميں ان کي رائے جاننا اس بحث کو کسي نتيجے تک پہنچانے ميں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ۱۔ محدث نوري مذکورہ بالا کتاب مزار سے ‘‘زيارت عاشورا غير معروفہ’’ نقل کرتے ہوئے ايک مقام پر حجري کے چھاپے ہوئے نسخے کے حاشيے ميں يوں لکھتے ہيں: (و لمّا کانت نسخة هذا المزار قليلة الوجود تقريباً نرفع کلفة الطلب عن الناظر الراغب في هذه الزيارة فأخرجنا تمامها في باب النوادر راجياً من الله تعالى ان يشارکنا في أجور المتوسلين بها۔)يعني: جيسا کہ اس مزار کا موجودہ نسخہ تقريبا ناياب ہوچکا ہے، ہم نے اس سے شغف رکھنے والے قاري کے دوش سے اس محنت کا بار ہٹا ديا اور بابِ نوادر ميں اسے پوري طرح بيان کرديا ہے اور ہم خدا سے اميد رکھتے ہيں کہ وہ ہميں اس زيارت سے متوسل ہونے والوں کے ثواب ميں شريک فرمائے۔’’ (۲۱) ۲۔ اسي طرح ابواب مزار ميں سے بيسويں باب کي تيسري حديث کے آغاز ميں کہتے ہيں: (وفي مزار کبير للشيخ الطبرسي صاحب الاحتجاج أو للقطب الراوندي أو لبعض من عاصر هما : بإسناده عن أبي عبد الله محمّد بن حمّاد النجار الأعرج قال : حدّثنا أبو علي الحسين إبراهيم ، عن عبد الله بن العباس بن موسى بن جعفر بن محمّد ، عن أبيه ، عن جدّه علي بن الحسين ( عليهم السلام۔۔۔)۔ اس بنا پر ان کے نزديک مولف شيخ طبرسي صاحب احتجاج يا قطب راوندي يا ان کا کوئي اور معاصر ہے۔ انہوں نے مستدرک کے مخطوط نسخے کے حاشيے ميں تصريح کي ہے کہ يہ مزار کبير، ابن المشہدي کي مزار کبير کے علاوہ ہے: (يعبّر عنه بالمزار القديم(منه قده)) (۲۲) ۳۔ مستدرک کے آخر ميں، مزار ابن المشہدي کي کتاب کے باوثوق ہونے يا نہ ہونے کے بارے ميں بحث کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ انہيں اس کتاب کا ايک پرانا نسخہ ملا ہے جس کي بعض سندوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مولف ابن المشہدي يا شيخ طبرسي صاحب احتجاج کے پائے کا ہے۔ وہ اپني بات جاري رکھتے ہوئے کہتے ہيں کہ اس کتاب کا يہ نسخہ کافي پرانا ہے اور شايد خود مولف کے دور ميں لکھا گيا ہے۔ اس کے بعد چند فوائد کا تذکرہ کرتے ہيں جو خاص طور پر اسي کتاب سے پيش کئے گئے ہيں، جيسے مجلس کوفہ کے بعض اعمال - جو بظاہر امام معصوم (ع) سے منتسب نہيں ہيں اسي لئے مرحوم مجلسي نے ان کا ذکر بحار ميں نہيں کيا ہے - اس کتاب ميں انہيں امام معصوم سے منسوب کيا ہے۔ پھر فرماتے ہيں: اس کتاب ميں شامل مواد سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اور اس کا مولف دونوں نہايت موثق ہيں۔ (۲۳) ۴۔ محدث نوري، اسي کتاب ميں ايک اور جگہ لکھتے ہيں کہ گويا قطب راوندي يا صاحب احتجاج اس کتاب کے مولف ہيں۔ (۲۴) ۵۔ فرماتے ہيں کہ اس کتاب ميں مسجد شريفہ کوفہ کے مواقف سے متعلق مترتب اعمال اور طويل دعائيں پائي جاتي ہيں جو اس چيز کے علاوہ ہے جو عوام کو دستياب اور جسے وہ انجام ديتے ہيں۔ (۲۵) ۶۔ اسي طرح وہ اپني کتاب الفيض القدسي ميں اس کتاب کے مولف کے بارے ميں کسي قسم کا فيصلہ نہيں کرتے اور صرف کتاب کے بارے ميں ايک مختصر تعارف پيش کرتے ہيں اور کہتے ہيں کہ مولف نے مہدي بن ابي الحرب سے اور وہ شيخ طوسي کے بيٹے سے نيز صاحب احتجاج سے نقل کرتے ہيں: ‘‘کتاب المزار [قال المحقق: لم يطبع إلى هذا العصر.] کبير يقرب من مزار محمد بن المشهدي وفيه زيارات ودعوات لا توجد في غيره لم أعرف مؤلفه إلا أنه يروي فيه عن مهدي بن أبي حرب الحسيني الذي يروي فيه عن الشيخ أبي علي ابن الشيخ أبي جعفر الطوسي ره ويروى عنه صاحب الاحتجاج.’’ (۲۶) يہ بات بھي ذہن ميں رکھني چاہيے کہ اس بيان کو محدث نوري کي آخري رائے نہ سمجھي جائے کيونکہ جيسا کہ آگے آئے گا، ان کي عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ‘‘فيض القدسي’’ کي تاليف کا کام مستدرک کي تکميل اور خاتمہ المستدرک لکھنے سے پہلے مکمل کيا ہے۔ اس لئے ان کے مجموعي بيانات سے يہ بات سمجھ ميں آتي ہے کہ اس مزار کا مؤلف شيعي علماء ميں سے رہا ہوگا جيسے قطب راوندي، طبري (صاحب کتاب احتجاج) يا چھٹي صدي ہجري ميں ان محدثين کا کوئي معاصر۔ اسي لئے انہوں نے اس کتاب کي تعريف کي ہے اور اسے نہايت معتبر تسليم کيا ہے بالکل اسي طرح جس طرح اس کے مولف کو معتبر مانا ہے۔ د۔ علامہ مرزا ابوالفضل تہراني مرحوم کي نظر: علامہ مرزا ابوالفضل تہراني (رہ) نے اپني بہترين اور نہايت معتبر کتاب ‘‘شفاء الصدور في شرح زيارۃ العاشور’’ ميں کتاب مزار القديم سے يہ زيارت نقل کرنے کے بعد اس کتاب کے بارے ميں مختصر وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہيں: ‘‘يہاں يہ بات بھي پوشيدہ نہ رہے کہ يہ کتاب ‘‘مزار قديم’’ - بظاہر - وہي اينٹيک نسخہ ہے جسے فقہائے عصر ميں سے ايک جليل القدر فقيہہ (سلمہ اللہ) نےمشہد مقدس رضوي ميں ديکھا ہے اور اسے ايک جداگانہ کتابچے کي صورت ميں عصر حاضر کے بعض عظيم فقہاء(رحمہ اللہ) کو تحفتاً پيش کيا ہے اور اس انٹيک نسخے کي اصل کاپي اس وقت مشہد مقدس علوي ميں محفوظ و موجود ہے جس سے ديکھ کر چند دوسرے نسخے لکھے گئے ہيں اور ميں نے يہ زيارت اسي نسخے سے نقل کي ہے۔ واللہ الموفق۔’’ (۲۷) ‘‘فقہيائے عصر ميں سے ايک اجلہ’’ سے بظاہر ان کي مراد مرحوم محدث نوري ہيں۔ان کےکلام سےمعلوم ہوتا ہے کہ مشہد ميں موجود نسخہ بعد ازاں نجف اشرف منتقل کيا گيا يا پھر نجف ميں موجود نسخہ اصلي ہے جبکہ مشہد ميں موجود نسخہ اس نسخے سے ديکھ کر لکھا گيا ہے۔ انہوں نے کاب کے مولف کي طرف کوئي اشارہ نہيں کيا ہے اور کتاب کي نسخہ شناسي تک ہي اپني بات محدود رکھي ہے، گويا مولف کے بارے ميں تحقيق کو وہ زيادہ اہميت نہيں ديتے جس کي دليل ہم آخر ميں ذکر کريں گے: دوسرے سوال کا جواب ہم يوں ديں گے کہ: علامہ مجلسي مرحوم کو بظاہر اس کتاب کے نسخے تک رسائي نہيں تھي۔ اسي لئے وہ چند اصحاب سے ‘‘زيارت مصافقہ’’ نقل کرتے ہيں حالانکہ يہي زيارت ‘‘المزار القديم’’ ميں بطور مرسل ائمہ معصومين (عليہم السلام) سے نقل ہوئي ہے۔ (۲۸) علاوہ برايں اس بارے ميں اور بھي شواہد موجود ہيں۔ (۲۹) البتہ مرحوم محدث نوري نے کتاب ‘‘الفيض القدسي في ترجمۃ العلامہ المجلسي’’ (جو بحار الانوار انسائکلوپيڈيا کے آخر ميں چھپا ہے) اس مطلب کي طرف اشارہ کيا ہے کہ مجلسي مرحوم نے بعض ديگر کتب تک بھي دسترسي حاصل کرلي تھي جن سے انہوں نے بحار الانوار ميں حديث نقل نہيں کي بلکہ کتاب کے مقدمے ميں صرف ان کا ذکر کيا ہے۔ اسي طرح انہوں نے کچھ اور کتابوں کے بارے ميں بھي معلوم کيا تھا جو بدقسمتي سے انہيں دستياب نہيں ہوئيں اور اجل نے بھي انہيں بحار الانوار پر مستدرک لکھنے کي مہلت نہيں دي۔ پھر لکھتے ہيں کہ اگر ميں اس وقت مستدرک الوسائل لکھنے ميں مصروف نہ ہوتا تو اس کام کي ذمہ داري خود ليتا۔ ہرچند انہيں يہ اميد نہيں ہے کہ اجل انہيں يہ مہلت دے گي يا وہ مسدرک کے بعد اس اہم کام کي طرف بھي توجہ دے پائيں گے ليکن پھر بھي يہ وعدہ کرتے ہيں کہ اگر خدا نے انہيں عمر عطا کي تو وہ مستدرک بحار ضرور لکھيں گے۔ (۳۰) اس کے بعد وہ ان کتابوں کا ذکر کرتے ہيں جو ان کے خيال ميں اکثر موجود ہيں، اور ان کے ساتھ مزار قديم کي کتاب کي طرف بھي اشارہ کرتے ہيں۔ ان کي عبارت اوپر ذکر ہوچکي ہے۔ (۳۱) تيسرے سوال کا جواب بھي يوں ديا جاسکتا ہے کہ: جيسا کہ بعض اقوال ميں ذکر ہوچکا، بدقسمتي سے اس کتاب کے بارے ميں کوئي تحقيق عمل ميں نہيں آئي اور نہ يہ کتاب شائع ہوئي ہے۔ محدث نوري کي تابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ يہ کتاب ان کے زمانے ميں کمياب تھي۔ (۳۲) موجودہ دور ميں بھي ايران بھر ميں اس کے دو سے زائد نسخے موجود نہيں ہيں (۳۳) اس اميد کے ساتھ کہ ماہرين فن اس کتاب کے بارے ميں تحقيق، تقابل اور مقدمہ نويسي کي ذمہ داري اٹھائيں گے اور جلد ہي اسے شائع کرديں گے۔ آخر ميں چند نکات کي طرف اشارہ ضروري ہے کہ: پہلي بات يہ کہ فرض کريں کہ اس کتاب کا مولف بزرگ شيعہ علماء ميں سے کوئي ہو بھي (جيسا کہ بعض بزرگوں کي رائے يہي ہے)، پھر بھي سند کے اعتبار سے يہ ايک مرسل زيارت ہے کيونکہ کتاب کا مولف (چھٹي صدي ہجري سے متعلق) اسے براہ راست علقمہ بن محمد الحضرمي (امام باقر عليہ السلام اور امام کاظم عليہ السلام کے صحابي) (۳۴) سے نقل کرتا ہے۔ اگرچہ تحقيق کے مطابق علقمہ قابل اعتماد ہے (۳۵) ليکن سند ميں باقي راويوں کا ذکر نہيں ہے۔ تاہم اگر يہ ثابت ہوجائے کہ علقمہ نے ايک روائي کتاب لکھي تھي اور اس کتاب کي شہرت نے المزار القديم کے مولف کو سند کے ذکر سے بے نياز کرديا ہے تو اس زيارت کي سند کے صحيح ہونے کے بارے ميں حکم صادر کيا جاسکتا ہے، ليکن اس ادعا کو ثابت کرنا بہت مشکل يا شايد ناممکن ہے۔ دوسري بات يہ کہ ممکن ہے يہ روايت سند کے اعتبار سے زيادہ معتبر نہ ہو، اس کے باوجود اس کے مستحب ہونے، مشروع ہونے يا اس پر مترتب ثواب کو ‘‘من بلغ’’ کي روايات سے توجيہہ کيا جاسکتا ہے۔ اس لئے جو شخص جو پورے اعتماد سے يہ زيارت پڑھے گا اسے وہ سارے ثواب مليں گے جن کا وعدہ کيا گيا ہے (۳۶) خاص طور پر يہ ديکھتے ہوئے کہ اس زيارت کے مضامين اور ديگر روايات و زيارات کے مضامين کے درميان کوئي تضاد يا منافات موجود نہيں اور علماء اور بزرگان ميں سے بہت سوں نے اسے نقل کرتے ہوئے عوام تک پہنچايا ہے تاکہ اپني طرف سے اس زيارت کي قرائت سے متعلق تاکيد اور سفارش کي ہو۔ ہميشہ کامياب رہيں۔ التماس دعا


منابع اور مآخذ:

(۱) رجوع کريں: مستدرک الوسائل، منصف: المحدث النوري، جلد نمبر ۱۰، صحات نمبر ۴۱ٍ۲و ۳۰۸، ح ۱۲۰۶۶؛ صفحہ نمبر ۳۱۶، ح ۱۲۰۸۰۔ اسي طرح ديکھئے: امام حسين ع انسائکلوپيڈيا قرآن، حديث اور تاريخ کي بنياد پر۔ مصنف: محمد محمدي رے شہري، جلد نمبر ۱۲، صفحہ نمبر ۶۴ (۲) ايضا (۳) صدرائي خوئي، علي، شيعہ حديث و علوم کے خطي نسخوں کي فہرستيں، دارالحديث علمي و ثقافتي مرکز، قم، ايران، 1382، ص 280 (۴) رجوع کريں: قمي، عباس، گيارہ رسالے، نشر کنگرہ بزرگداشت محدث قمي، قم، 1389، ص 264؛ اعيان الشيعہ، مصنف: السيد محسن الامين، جلد نمبر ۶، صفحہ نمبر ۱۴۴ (۵) تہراني، ميرزا ابوالفضل، شفا الصدور في شرح زيارۃ العاشور، تحقيق: محمد باقر ملکيان، اسوہ پبليکيشنز، دوسرا ايڈيشن، 1387، صفحات نمبر 68 سے 71 تک (۶) پبليشر: موسسہ الاعلمي للمطبوعات، بيروت، 1420، جلد نمبر 2، صفحہ نمبر 291 (۷) رجوع کريں: نئي مفاتيح الجنان، اي بک ورژن، مزار قدم کي ايک زيارت، صفحہ نمبر 277 (۸) رجوع کريں: موسوعہ زيارت المعصومين (ع)، تاليف و انتشار: موسسہ امام ہادي (ع)، مقدمہ۔ (۹) رجوع کريں: ايضا (۱۰) ابن المشہدي اور اس کي تاليفات کے بارے ميں ديکھيے: انصاري، حسن؛ ابن المشہدي کي ايک نودريافت کتاب، سايت کاتبان۔ اسي طرح ديکھئے: صالح آبادي، محمد حسين، کتاب المزار الکيبر کا تعارف، رسالہ: فقہ اہل بيت، موسم گرما 1386، شمارہ نمبر 50، (29 صفحات، صفحہ نمبر 224 سے 252 تک) (۱۱) ديکھئے: مستدرک الوسائل، ايضا، محققين کا حاشيہ۔ (۱۲) مستدرک الوسائل، جلد نمبر ۳، صفحہ نمبر ۳۹۸۔ نيز ديکھئے: تہراي، مرزا ابوالفضل، ايضا، صفحہ نمبر ۶۸، محقق کا حاشيہ (۱۳) رجوع کريں: مجلہ مکتب الاسلام، دعائے ندبہ کي اسناد، مرداد ماہ، 1351، تيرھواں سال، شمارہ نمبر ۷، صفحہ نمبر ۶۶ (۱۴) محمدي رے شہري، محمد، دانشنامہ امام مہدي (عجل اللہ تعالي فرجہ) قرآن، حديث اور تاريخ کي بنياد پر، ناشر: دار الحديث علمي و فرہنگي مرکز، نشر و اشاعت کا ادارہ، جلد نمبر ۶، صفحہ نمبر ۱۴۸ (۱۵) ديکھئے: جعفريان، رسول، ميراث اسلامي ايران، ناشر: حضرت آيت اللہ مرعشي نجفي (رہ) پبلک لائبريري، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۴۶۷ (۱۶) ديکھئے: انصاري زنجاني، محمد؛ اديہ امام عصر (عج)، مجلہ گسلتان قرآن، آبان ماہ 1379، شمارہ نمبر ۳۳، صفحہ نمبر 29 (۱۷) رجوع کيجئے: احساني فرلنگرودي، محمد؛ اسنادي حوالے سے ناحيہ مقدسہ کا اعتبار، مجلہ علوم حديث، موسم سرما 1382، شمارہ نمبر 30، صفحہ نمبر 65 (۱۸) رجوع کريں: قمي، عباس؛ ہديۃ الزائرين و بہجۃ الناظرين، نشر موسسہ جہاني سبطي (عليہما السلام) 1383، ص 648؛ اسي طرح اس قول کا ايڈيس خود مرحوم محدث قمي کے حواشي سے بھي نقل کيا ہے جو انہوں نے اپنے خط ميں سيد بن طاوس کي جمال الاسبوع ميں نقل کيا ہے۔ اہري، عيسي؛ صحيفۃ المہدي (عليہ السلام)، پبليشر: رسال، قم، 1387، ص 170 (۱۹) رجوع کريں: تبريزي، جواد؛ زيارت عاشورا فراتر از شبہہ، پبلشر: دار الصديقۃ الشہيدہ (سلام اللہ عليہا)، قم 1389، ص 427 (۲۰) رجوع کريں: صافي، لطف اللہ، دعائے ندبہ ميں ولايت کا فروغ، پبليشر: دفتر تنظيم و نشر آثار حضرت آيت اللہ صافي گلپايگاني، قم 1392، صفحہ نمبر 135 (۲۱) رجوع کريں: مستدرک الوسائل، جلد نمبر ۱۰، صفحہ نمبر ۳۰۸ (۲۲) جلد نمبر ۱۰، صفحہ نمبر ۲۲۲ (۲۳) رجوع کريں: خاتمۃ المستدرک الوسائل، مصنف: المحدث النوري، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۳۶۰ کے بعد۔ (۲۴)خاتمۃ المستدرک الوسائل، جلد نمبر ۲، صفحہ نمبر ۴۵۱ (۲۵) ايضا، صفحہ نمبر ۴۵۲ (۲۶) بحار الانوار، جلد نمبر ۱۰۲، صفحہ نمبر ۶۶ (۲۷) تہراني، مرزا ابوالفضل، ايضا، صفحات نمبر 71 اور 72 (۲۸) رجوع کريں: بحار الانوار، جلد نمبر 102، صفحہ نمبر 197؛ اسي طرح موازنہ کريں: مستدرک الوسائل، جلد نمبر 10، صفحہ نمبر 223 سے (۲۹) خاتم مستدرک الوسائل، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر 360 کے بعد (۳۰) بحار الانوار، جلد ننمبر ۱۰۲، صفحات نمبر 60 اور 61 (۳۱) رجوع کريں: حاشيہ نمبر ۲۶ (۳۲) رجوع کريں: حاشيہ نمبر 21 (۳۳) اس کتاب کے نسخوں کے بارے ميں معلومات کے لئے ديکھئے: صدرائي خوئي، علي، شيعہ حديث و علوم کے خطي نسخوں کي فہرستيں، دارالحديث علمي و ثقافتي مرکز، قم، ايران، 1382، جلد نمبر ۱۰، صفحات نمبر 103 اور 104 (۳۴) ديکھئے: معجم رجال الحديث، مصنف: سيد ابو القاسم الموسوي الخوئي، جلد نمبر ۱۲، صفحہ نمبر ۲۰۰ (۳۵) ديکھئے: دراسۃ في سند زيارۃ عاشورا، مصنف: جعفر التبريزي، جلد نمبر ۱، صفحات نمبر 157 سے 171 تک (۳۶) وسائل الشيعہ، آل البيت، مصنف: العلامہ الشيخ حر العاملي، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر 80 کے بعد، باب استحباب الاتبان بکل عمل مشروع روي۔ -------------------------------- www.abp-miftah.com گروه پاسخ‏گويي سايت پرسش و پاسخ پورتال اهل‏بيت (عليهم‏السلام)


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے