سوال کا متن:

مشارق الانوار ميں حديث طارق کے تحت طارق بن شہاب کا مولا اميرالمومنين ع سے مقام امامت کے بارے ميں جو کلام نقل ہوا ہے کيا اس کا قول معصوم ع ہونا ثابت ہے ؟


وزیٹر کی تعداد: 371    گروپ کاری: مذہبی         
جواب:

بسم اللہ الرحمن الرحيم ہم آپ کے سوال کا جواب چند مطالب کے ذيل ميں ديں گے: ۱۔ جيسا کہ آپ نے ذکر کيا ہے يہ روايت حافظ رجب برسي کي کتاب مشارق انوار اليقين في اسرار امير المؤمنين عليہ السلام ميں آئي ہے۔ انہوں نے يہ روايت طارق بن شہاب سے نقل کي ہے اور ان تک اپني سند کا ذکر نہيں کيا۔ اس لئے اس روايت کو ‘روايت مرسل’ شمار کيا جاتا ہے۔ ليکن جيسا کہ ہم اشارہ کريں گے اس روايت کي صحت کے بارے ميں کئي باتيں مل جاتي ہيں۔ اس لئے صرف سند کمزور قرار ديتے ہوئے اس روايت کو رد نہيں کيا جاسکتا۔ ۲۔ اس حديث کے براہ راست راوي طارق بن شہاب امير المؤمنين عليہ السلام کے صحابي ہيں جن کا تعلق يمن سے ہے اور شيعہ اور اہل سنت دونوں رجالي اور روائي کتب اور منابع ميں ان کا ذکر موجود ہے اور ان سے کئي روايات منقبول ہيں۔ (۱) بعض روايات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ امير المؤمنين عليہ السلام کے محبين ميں سے تھے اور جب بھي امام عليہ السلام سے اپني مظلوميت کے بارے ميں کوئي حديث سنتے، اسے نقل کرتے تھے اور ان کي غربت اور بے کسي پر گريہ کرتے تھے۔ (۲) ۳۔ مشارق الانوار اليقين نامي کتاب سے يہ روايت کئي کتابوں ميں مذکور ہيں، جن ميں سے بعض کتب حسبِ ذيل ہيں: الف: بحار الانوار، ط درا الاحياإ التراث، مصنف: العلامہ مجلسي، ج۔ ۲۵، ص۔ ۱۶۹؛ ب: سفينہ البحار و مدينۃ الحکم ولآثار، قمي، شيخ عباس، نشر اسوہ، قم، ج ۵، پ۔ ۲۹۲؛ ج: مسند الال علي عليہ السلام، مصنف:حسن القبانجي، ج ۹، ص ۳۲؛ د: الزام الناصب في اثبات الحجہ الغائب عجل اللہ تعالي فرجہ الشريف، مصنف: علي اليزدي الحائري، ج ۱، ص ۳۲، طباطبائي، قم، ايران، ۱۳۸۸، ج ۱، ص ۱۹۶؛ ہ: قاموس نہج البلاغہ، شرقي، محمد علي، دار الکتب الاسلاميہ، تہران، ۱۳۶۶، ج ۱، ص ۷۲؛ وغٰيرہ اين کتب سے رجوع کرنے سے ہميں معلوم ہوتا ہے کہ اس روايت کو اس طرح نقل کرنا مؤلفين کي طرف سے اسے ماننے اور قبول کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ ۴۔ درج ذيل باتيں اس روايت کي تصديق ميں مدد کرتي ہيں: جيسا کہ بيان ہوچکا، بہت سے علماء کے مطابق، اس روايت کا مضمون ائمہ معصومين عليہم السلام کے ديگر بيانات کي روح کے مطابق ہے۔ اس دعوے کو ثابت کرنے والے بعض ديگر دلائل يہ ہيں: 1.وہ روايات جن کا ذکر کتاب کے مؤلف يعني حافظ رجب برسي نے اس روايت کے نقل کرنے کے فورا بعد اس کي تائيد کے لئے کيا ہے۔ (۳) 2.علامہ مجلسي (رحمۃ اللہ عليہ) جن کا شمار اہل تشيع کے سب سے بڑي حديث شناسوں ميں ہوتا ہے، اگر بحار الانوار کے آغاز ميں حافظ رجب برسي کا نام اور دو کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کي بعض حديثوں کو غلو کي سرحدوں ميں داخل سمجھتے ہيں ليکن خود يہ وضاحت بھي کرتے ہيں کہ: ‘‘اب ہم اس سے ايک ايسي روايت نقل کرتے ہيں جو معتبرہ اصولوں سے ماخوذ اخبار کے مطابق ہوـ (۴)۔اسي طرح مرحوم مجلسي نے اسي روايت کو بحار الانوار ميں ذکر کيا ہے (۵) اور ان کے مطابق يہ روايت شيعہ کے معتبر اصولوں ميں موجود ديگر روايات کے ساتھ ہم آہنگ اور سازگار ہے۔ 3. علامہ اميني رحمہ اللہ عليہ نے اپني معرکۃ الآرا کتاب ‘‘الغدير’’ حافظ رجب برسي کي مفصل شرح زندگي لکھي ہے (۶) اور اس کي تعريف اور بڑائي ميں کسي قسم کي کوتاہي سے کام نہيں ليا (۷)۔ آپ نے اسے ‘‘علامہ ذو فنون’’ قرار ديا ہے کہ ان کي کتب ميں بعض نہايت برجستہ تحقيقات پائي گئي ہيں۔ علامہ نے ان کي تاليفات کے نام گنوائے ہيں اور ان کے تمام تر اشعار (540 ابيات) جمع کرنے کي کوشش کي ہے نيز ان کي غلوگوئي سے متعلق شبہ کا جواب بھي ديا ہے۔ انہوں نے برسي کے بعض اشعار، جن ميں غلو کا پہلو پايا جاتا ہے، درج کيا ہے اور پھر اہل سنت کي کتابوں سے ان اشعار کي تائيد ميں روايات استخراج کرکے انہيں بھي ذکر کيا ہے تاکہ شک و شبہ کي مزيد کوئي گنجائش باقي نہ رہے۔ وہ فرماتے ہيں کہ برسي کے اشعار کي طرح اس کي ديگر تحريريں بھي غلو سے خالي ہيں۔ علامہ اميني رحمۃ اللہ فرماتے ہيں کہ بعض لوگوں نے ان کي طرف غلوگوئي کو اس لئے نسبت دي ہے کيونکہ ان کي بعض حديثيں اور بيانات ايسے لوگوں کے عقيدے سے ميل نہيں کھاتيں۔ حالانکہ صاحب الغدير کے مطابق ان کي تمام تر باتيں مذہب حق کے عين مطابق ہيں اور ان ميں کسي قسم کا غلو موجود نہيں۔ اس کے بعد انہوں نے إياکم والغلو فينا، قولوا: إنا عبيد مربوبون وقولوا في فضلنا ما شئتم(8) و:اجعل لنا ربا نؤوب إليه وقولوا فينا ما شئتم(9) و: إجعلونا مخلوقين وقولوا فينا ما شئتم فلن تبلغوا (10) جيسي حديثيں نقل کرکے لکھتے ہيں: ‘‘خدا نے جو کچھ اہل بيت عليہم السلام کو عطا کيا ہے، ہم ان کي گہرائي تک کہاں پہنچ سکتے ہيں؟! ہاں کچھ قميين (ائمہ عليہم السلام کے دور ميں اور اس کے بعد بھي) ہر اس شخص کو غلو کا مرتکب سمجھ کر پتھر مارتے تھے جو ائمہ عليہم السلام کے فضائل کے بارے ميں اسرار فاش کرتا تھا يہاں تک کہ ان ميں سے کچھ لوگ پيغمبر کے سہو نہ کرنے کو بھي غلو سے تعبير کيا کرتے تھے۔ ليکن ان کے بعد ايسے محققين سامنے آئے جنہوں نے حقيقت کا ادراک کيا اور ايسے بيانات کو غلو کا مصداق قرار دينے سے پرہيز کيا۔ وہ فرماتے ہيں کہ ہميشہ ايسا ہوتا آٰا ہے کہ ايک طرف سے رجب برسي جيسے لوگ اور دوسري طرف سے شيعي علماء اس مسئلے پر آپسي اختلاف کرتے آئے ہيں۔ وہ ائمہ معصومين عليہم السلام کے فضائل و مقامات کے بارے ميں اختلاف کے اسباب ميں سے ايک ذاتي استعداد کو سمجھتے ہيں۔ روايات کي روشني ميں، انسان سونے چاندي کي کانيں ہيں اور ہر کسي کو ايک خاص صلاحيت عطا ہوئي ہے۔ اسي طرح متواتر طريقے سے ائمہ عليہم السلام سے روايت ہوئي ہے کہ ہماري حديث يا امر مشکل ہے اور ہر کسي ميں اسے سہنے اور تحمل کرنے کي تاب نہيں ہے۔ اور آخر ميں يہ نتيجہ نکالتے ہيں کہ ہم شيعہ علماء کي بدگوئي کو روا نہيں سمجھتے جو اس طرح کي حديثوں کو غلو خيال کرتے ہيں، کيونکہ ‘خداوند عالم کسي کو بھي اس کي توانائي سے بڑھ کر ذمہ داري نہيں ديتا’۔ اس کے بعد علامہ اميني رحمۃ اللہ عليہ چند ايسي روايات سے تمسک کرتے ہيں جن کے مطابق خداوند عالم کا دين ايسے مختلف اسرار کا حامل ہے جنہيں سہنے کي تاب ہر کسي ميں نہيں ہوتي۔ جيسے امير المؤمين عليہ السلام کا يہ فرمان کہ فرماتے ہيں: ‘‘اگر ميں بيٹھ جاؤں اور جو کچھ محمد (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) کے منہ سے سنا ہے، تم لوگوں کو سناؤں تو تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤگے اور کہوگے کہ علي (عليہ السلام) جھوٹوں ميں سب سے جھوٹا شخص ہے۔’’ (۱۱) اور اسي طرح امام سجاد عليہ السلام سے روايت نقل فرماتے ہيں کہ: ‘‘اگر ابوذر کو سليمان کے دل کا حال معلوم ہوجاتا تو وہ اسے قتل کرديتا ہرچند پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ان کے درميان پيمانِ اخوت باندھا تھا، دوسري مخلوقات کي بات تو اپني جگہ ہے۔ـ (۱۲)۔ اسي طرح بعض ديگر احاديث بھي نقل کي ہيں۔ علامہ اميني نے برسي کے بارے ميں اعيان الشيعہ کے مصنف سيد محسن امين کي طرف سے اٹھائے ہوئے بعض شبہات کے بھي مختصر جوابات ديے ہيں اور يہ بھي فرماتے ہيں کہ کاش جس طرح سيد نے خود فرمايا ہے، برسي کے کلام کي صحت کي تائيد کرتے اور يہ سوالات اور شبہات نہ اٹھاتے۔ جي ہاں! اگر کسي کو لگے کہ بزرگوں کي روايات اور بيانات ميں آنے والے انبياء اور ائمہ سلام اللہ عليہم اجمعين کے بعض فضائل اور مقامات غلو اور امام کو مافوق مخلوقات پر برتري دينے اور انہيں مقامِ ربوبي ميں داخل کرنے کے مترادف ہے، تو طبعا اسے ايسي نسبت دينے سے گريز کرنا چاہيے ليکن اسے چاہيے کہ دوسروں کو کافر اور دين کي حدود سے خارج نہ سمجھے!


منابع اور مآخذ:

۱۔ مثال کے لئے ديکھئے: شرح نہج البلاغہ، ج ۱، ص ۲۲۶؛ موسوعہ الاامام علي بن ابي طالب عليہ السلام في الکتاب و السنہ و التاريخ، مصنف: محمد الريشہري، ج۳، ص ۱۳۳، ۲۷۵۹؛ الغارات، ج۱، ص ۲۸، موسوعہ الاامام علي بن ابي طالب عليہ السلام في الکتاب و السنہ و التاريخ، مصنف: محمد الريشہري، ج۴، ص ۵۴؛ موسوعہ الاامام علي بن ابي طالب عليہ السلام في الکتاب و السنہ و التاريخ، مصنف: محمد الريشہري، ج۱، ص ۵۴۱؛ صحيح البخاري، ج ۱، ص ۲۵اور ج ۴ ص ۱۶۰۰، ح ۴۱۴۵ اور ص ۱۶۸۳، ح ۴۳۳۰ اور ج ۶، ص ۲۶۵۳، ح ۶۸۴۰؛ معجم رجال الحديث، مصنف: السيد ابو القاسم الموسوي الخوئي، ج ۱۰، ص ۱۶۷؛ ۲۔ قاموس الرجال، مصنف: محمد تقي شوشتري، ج۵، ص ۵۴۸؛ ۳۔ مشارق انوار اليقين في اسرار امير المؤمنين عليہ السلام، مصنف: حافظ رجب البرسي، ج۱، ص ۱۸۱ کے بعد؛ ۴۔ مجلسي کي عبارت يہ ہے: ‘‘وکتاب مشارق الأنوار ، وکتاب الألفين للحافظ رجب البرسيّ. ولا أعتمد على ما يتفرّد بنقله لاشتمال کتابيه على ما يوهم الخبط والخلط والارتفاع. وإنّما أخرجنا منهما ما يوافق الاخبار المأخوذة من الاُصول المعتبرة۔’’ بحار الانوار، ط دار الاحياء التراث، مصنف: العلامہ المجلسي، ج۱، ص ۱۰؛ ۵۔ اوپر اس کے حوالے کي طرف اششارہ کيا جاچکا ہے۔ ۶۔ اس کے علاوہ حافظ رجب برسي کے بارے ميں دوسرے حوالوں کے بارے ميں ديکھيں: امل الآمال، رياض العلماء، رياض الجنہ في الروضہ الرابعہ، روضات الجنات، تتميم امل الآمال، الکني والالقاب، اعيان الشيعہ، الطليعہ و البابليات؛ ۷۔ يہ نکتہ بھي قابل ذکر ہے کہ يہ بات برسي کے مخالفين بھي مانتے تھے کہ وہ ايک محدث، فقيہ اور اديب تھے، ہرچند اس کے صوفيانہ تمايلات کو رد ہي کيوں نہ کرتے ہوں! اس کي تحريروں ميں نظرياتي عرفان پر اس کا تسلط صاف ظاہر ہے۔ مصطفي کامل الشيبي اسے سيد حيد آملي، فضل اللہ حروفي اور متقدم عرفاء جيسے حلاج سے متاثر بتاتے ہيں۔ (ديکھئے: شيبي، کامل مصطفي، الصہ بين التصوف و التشيع، بيروت، 1982، ج۲، ص 224) برسي کو علم حروف و اعداد کے اسرار بھي معلوم تھے اور خبروں کي تفسير کے لئے ان سے استفادہ کيا کرتا تھا۔ برسي خود کو اماميہ کے مشہور عقيدوں کا معتقد خيال کرتا ہے۔ (برسي، رجب، مشارق انوار اليقين، بيروت، 1379، ص 214 اور 215)۔ وہ غلات پر تنقيد کرتا تھا (ايضا!ٹ ص 213) اور اپنے آپ کو ‘‘نمط اوسط’’ اور افراط و تفريط سے آزاد سمجھتا ہے (ايضا!، ص 198)۔ ۸۔ الخصال، الشيخ الصدوق، ج۱، ص 614؛ ۹۔ بصائر الدرجات، محمد بن الحسن الصفار، ج۱، ص ۵۲۷؛ ۱۰۔ ايضا، ج۱، ص ۲۶۱؛ ۱۱۔ الشعراني، عبدالوہاب، منع المنہ في التلس بالسنہٹ حقہ و عليق عليہ، عبدالغني تکہ ميٹ دار الکتب النفيس، حلبٹ الطبعہ الاولي، 1422 و 23، ہجري قمري، ص 47؛ ۱۲۔ بصائر الدرجات، ج ۱، ص 45؛ اسي طرح ديکھيں: الکافي، ط دار الحديث، مصنف، الشيخ الکليني، ج 2، ص 332 -------------------------------- www.abp-miftah.com گروه پاسخ‏گويي سايت پرسش و پاسخ پورتال اهل‏بيت (عليهم‏السلام)


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے