سوال کا متن:

سلام عليکم عثمان مروندي(لال قلندر) کے بارے ميں پوچھنا تھا کہ وہ کون تھے اور تاريخ اسلام ميں اُن کا کيا کردار تھا۔؟ ۱۔عثمان مروندي کہاں اور کس جگہ پيدا ہوئے؟ ب۔ کيا وہ آل رسولؑ کي نسل ميں سے تھے؟ ج۔ کيا وہ شيعہ تھے۔اور آل محمدؑ کے ماننے والوں ميں سے تھے؟ د۔ عثمان مروندي کا مزار پاکستان کے صوبہ سندھ ميں ہے۔کيا وہ جہاں پيدا ہوئے تھے اگر نہيں تو وہ جہاں کيسے اور کس وجہ سے آئے۔ ڈ۔کچھ لوگ اُن کو عالم يا آيت ﷲ کہتے ہيں کيا يہ درست ہے؟ والسلام


وزیٹر کی تعداد: 451    گروپ کاری: شخصیت شناسی         
جواب:

السلام عليکم؛ ہم پہلے بھي لعل شہباز قلندر کے بارے ميں کچھ مطالب بيان کرچکے ہيں اور آپ ان سے بھي رجوع کرسکتے ہيں۔ يہاں ہم انہيں مطالب کي روشني ميں اور چند نئي باتوں کے ساتھ آپ کے سوالات کے جوابات دے رہے ہيں: الف: عثمان مروندي کب اور کہاں پيدا ہوئے؟ سيد عثمان مروندي، لقب لعل (لال) (۱) شہباز قلندر، سن 583 ہجري ميں پيدا ہوئے۔ البتہ ہم ان کي تاريخ ولادت اور عمر کے بارے ميں قطعي طور پر کچھ نہيں کہہ سکتے۔ ‘‘لب تاريخ سند’’ ميں ان کي ولادت 583 ہجري اور ‘‘حيات نامہ قلندر’’ ميں 538 ہجري آئي ہے۔ ان کي تاريخ وفات 21 شعبان سن 673 ہجري بتائي جاتي ہے۔ کچھ لوگوں کے خيال ميں ان کي تاريخ وفات سن 650 ہجري ہے۔ (۲) اور وہ اپنے حجرے ميں مدفون ہيں۔ انہوں نے نوے سال عمر پائي۔ (۳) بعض لوگوں نے ان کي عمر ۱۱۲ يا ۱۱۸ سال تک بتائي ہے۔ (۴) ان کا تعلق آذربائيجان کے علاقے مرند سے ہے۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کا تعلق سندھ سے تھا۔ (۵) بعض لوگوں کا يہ بھي کہنا ہے کہ ان کي ولادت ہرات کے علاقے ميں واقع مروند يا ميمند ميں ہوئي۔ (۶) البتہ ان اقوال ميں سے مرند (ايران) زيادہ مشہور ہے، جس کي تائيد يوں بھي ہوتي ہے کہ لعل شہباز قلندر نے فارسي کے علاوہ ترکي زبان ميں بھي اشعار کہے تھے، جو ہم تک نہيں پہنچے۔ (۷) ب: کيا وہ آل رسول (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) کي نسل ميں سے تھے؟ جواب: وہ سيد تھے اور ان کي نسل نو واسطوں سے اسماعيل بن امام صادق (عليہ السلام) تک پہنچتي ہے۔ (۸) ليکن محققين اس بارے ميں متفق الرائے نہيں ہيں۔ کچھ لوگ ان کي نسل بارہ واسطوں سے امام صادق (عليہ السلام) تک پہنچاتے ہيں۔ اس لئے لاہوري اسے حسيني سادات ميں شمار کرتے ہيں۔ (۹) ج۔ کيا وہ شيعہ تھے۔اور آل محمدؑ کے چاہنے والوں ميں سے تھے؟ جواب: عام طور پر صوفيہ کسي خاص مذہب کے بارے ميں تعصب نہيں رکھتے اور کبھي کبھار ان کے اصلي مذہب کے بارے ميں جاننا بہت مشکل ہوتا ہے۔ خاص طور پر قلندروں کے مذہب کے بارے ميں جاننا، جو شريعت کے بارے ميں عدم تقيد ميں مشہور تھے، بہت مشکل نظر آتا ہے۔ پھر بھي اس بارے ميں چند احتمالي باتيں بيان کي جاسکتي ہيں: الف: نزاري اسماعيلي شيعہ: بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ وہ ايران کے اسماعيليہ نزاريہ فرقے سے ہيں اور ايران سے سند ان کي ہجرت کي دليل کے بارے ميں يوں لکھتے ہيں: ‘‘اسماعيليوں کے قلعوں کي شکست نے بے شمار اسماعيلي دانشمندوں کو اس بات پر مجبور کرديا کہ وہ اپني جان بچانے کے لئے تقيہ کرتے ہوئے صوفيوں کے مکتب ميں داخل ہوجائيں تاکہ اپنے اہداف تک رسائي کے لئے تصوف کے امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکيں۔ يہ حکمت عملي کوئي غير يقيني بات نہيں تھي کيونکہ اسماعيلي عرفان ميں پہلے سے بابلي اور بودائي عرفان کے آثار پائے جاتے تھے۔ اس لئے ان ميں سے بہت سے لوگوں نے يا پھر ان سے منتسب خاندانوں نے ايران اور ديگر ملحقہ ممالک ميں تصوف ميں نئے مکاتب فکر کي بنياد ڈالي۔ انہيں ميں سے ايک عثمان مرندي (لعل شہباز) بھي ہيں جن کا تعلق نزاري اسماعيليوں کے الموت خاندان سے ہے۔ انہوں نے اسماعيليوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم سے تنگ آکر اپنا آبائي علاقہ (مرند) ترک کيا اور ايک مبلغ دين کي حيثيت سے ہندوستان چلے گئے اور وہاں کے چشتيہ اور سہروريہ درويشوں کي مصاحبت اختيار کرلي۔ زندگي بھر کنوارے رہے اور تصوف کے اعلي مقام پر فائز ہوئے۔ (۱۰)’’ اس لئے انہيں ايک ايسا مبلغ کہنا چاہيے جس نے اسلامي ثقافت کي ترويج ميں اہم کردار ادا کيا۔ (۱۱) يہ بات بھي ذہن ميں رکھنے کي ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سہروردي قلندري سلسلے ميں تصوف شيعہ اثني عشري مذہب کي طرف مائل ہوتا چلا گيا، يہاں تک کہ اٹھارہويں صدي ہجري (= بارہويں صدي ہجري) کے اختتام تک اچھ ميں مخدوم جہانيان خانقاہ کے بانيوں نے باقاعدہ طور پر اعلان کيا کہ وہ اثني عشري مذہب اختيار کرچکے ہيں۔ (۱۲) ب: حنفي: برصغير ميں چشتيہ فرقے کي طرح سہروريہ فرقے کے پيروکار بھي چونکہ زيادہ تر فقہي اعتبار سے حنفي مذہب سے تعلق رکھتے تھے، اس لئے يہ بھي بعيد نہيں ہے کہ لعل شہباز بھي حنفي مسلک سے ہوں (۱۳)۔ اگر ہم خزينۃ الاصفيا کے قول کو درست تسليم کريں کہ لعل شہباز قلندر منشيات استعمال کرتے تھے اور اسے ہم ان کي قلندرانہ لابالي پن سے نہ جوڑيں تو پھر يہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کي وجہ حنفي مذہب سے ان کي نسبت ہے۔ (۱۴) ج: يقينا اس بات کا بھي احتمال موجود ہے کہ ان کا مذہب کچھ اور ہو جس کے بارے ميں ہميں معلوم نہيں، خاص طور پر يہ ديکھتے ہوئے کہ کئي صوفي تقيہ کرتے تھے۔ بعض عظيم شيعہ عرفاء کا ماننا ہے کہ تمام اہل کمال نے اہل بيت عليہم السلام کي نورانيت کو بطور آآشکار ديکھا ہے، اس لئے يہ ممکن ہي نہيں ہے کہ کوئي ولايت اہل بيت عليہم السلام حاصل کيے بغير توحيد کے معاملے ميں کمال تک پہنچے! عظيم عارف مرحوم قاضي طباطبائي (رہ) فرماتے تھے: يہ ممکن ہي نہيں ہے کہ کوئي توحيد اور عرفان کے عظيم درجات پر فائز ہو اور توحيدي مقامات اور کمالات سے بہرہ مند ہو ليکن اس پر ابھي تک ولايت کا قضيہ منکشف نہ ہوا ہو۔ ان کا يہ بھي ماننا تھا کہ ان تمام بزرگوں پر، جن کے نام صوفيہ کي کتب ميں درج ہيں اور جنہيں واصل و فاني شمار کيا جاتا ہے اور يہ بھي کہ وہ اہل سنت ميں سے ہيں، يا تو وہ واصل نہيں تھے اور صرف توحيد وغيرہ کا دعوي کيا کرتے تھے يا پھر انہوں نے ولايت کي حقيقت کو درک اور محسوس کيا ہے ليکن زمانے کي مصلحتوں اور حاکمان جور کے ظلم و ستم کي وجہ سے تقيہ اختيار کرتے رہے۔ (۱۵) اگر ہم انہيں (ان کے اشعار کي روشني ميں) ‘‘شہباز لامکان’’ مانيں جو توحيد کے عظيم درجوں پر فائز ہوئے ہيں تو پھر يہ باتيں ان کے بارے ميں صادق آئيں گي۔ کچھ لوگ يہ بھي کہتے ہيں کہ ہميں فقہي اور عرفاني مذاہب کے درميان فرق کرنا چاہيے؛ صوفيوں ميں سے کسي نے بھي نہ صرف يہ کہ اہل بيت عليہم السلام سے دشمني اور عداوت نہيں رکھي، بلکہ سارے صوفي سلسلے (يہاں تک کہ نقشبنديہ سلسلہ بھي) اپني نسل اہل بيت عليہم السلام کے ذريعے پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) سے جوڑتے ہيں۔ اسي طرح امام صادق (عليہ السلام)، امام رضا (عليہ السلام) اور امير المؤمنين عليہ السلام بھي صوفيوں ميں خاص مقام و مرتبے کے حامل ہيں۔ صوفيوں کے مسلک ميں ان کي ولايت اور نورانيت کے مقامات کا اعتراف کيا گيا ہے۔ خاص طور پر ابن عربي کے بعد تصوف نظرياتي تعليم کے اعتبار سے شيعہ مسلک سے بہت قريب ہوگيا اور تصوف کے بارے ميں تحقيق کرنے والوں کے درميان يہ ايک مسلمہ بات ہے۔ تاہم فقہي مذہب کے اعتبار سے (جسے صوفيوں کے درميان زيادہ اہميت حاصل نہيں) ممکن ہے کہ ہميں صوفيوں کے درميان کئي فقہي مذاہب نظر آئيں، جيسے بعض خراساني عرفاء (مثلا خواجہ عبداللہ انصاري) حنبلي مذہب سے تعلق رکھتے تھے، برصغير کے صوفياء کي ايک کثير تعداد کا تعلق حنفي مذہب سے تھا اور متاخر صوفيوں جيسے نعمت اللہي اور جلالي سہروردي مذہب اثني عشري سے تعلق رکھتے تھے اور اس طرح يہ صوفياء فقہي حوالے سے مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ معارف اماميہ اور غير امامي صوفيوں کے درميان بے شمار يکسانيت کو ديکھتے ہوئے غير امامي صوفيوں کو ہم (بعض محققين کي رائے ميں (۱۶)) سني اثناعشري کہہ سکتے ہيں۔ اس لئے ہم ديکھ سکتے ہيں کہ لعل شہباز قلندر نے حضر علي عليہ السلام کي مدح ميں خوبصورت اشعار لکھ رکھے ہيں۔ (۱۷) د: ہندي عرفاني رسومات سے اثرپذيري: يہ بات ذہن ميں رکھني چاہيے کہ جس طرح صوفيہ برصغير اور مشرق بعيد ميں اسلام کي ترويج ميں بہت موثر واقع ہوئے ہيں، انہوں نے خود بھي يہاں کے اثرات قبول کئے ہيں، جيسے سبزي خواري، سر کے بال، دھاڑي، مونچھيں اور ابرو منڈوانا (چار ضربات کي روايت)، کنواري زندگي گزارنا اور شادي سے پرہيز کرنا، زيادہ سفر کرنا، سرخ رنگ کے کپڑے پہننا وغيرہ جيسي باتيں قلندروں اور مانوي بودائي مذاہب کے درميان مشترک ہيں۔ عثمان مروندي کے قلندر ہونے اور ان ميں ايسي بعض خصوصيات کے پيش نظر ان کے بودائي اديان سے متاثر ہونے کا بھي حکم صادر کيا جاسکتا ہے۔ (۱۷) ‘‘قلندر’’ کا لقب ان کي غير معمولي زندگي کي طرف اشارہ کرتا ہے جو بعض اقوال کي بنا پر سرخ کپڑے پہننے، منشيات کے استعمال اور کيف و سرور کي صورت ميں ظاہر ہوتي تھي۔ ان سے منسوب ايک فارسي غزل بھي ہے جس کا اصلي موضوع رقص يعني آگ پر عارفانہ دھمال اور برسرِ دار رقص ہے۔ ايسے اشعار انہيں شہيد عشق يعني حلاج کا جانشيں بناتے ہيں۔ افسوس کي بات ہے کہ ان سے عقيدت رکھنے والے افراد شريعت کے زيادہ پابند نہيں اور مختلف بيانات کے مطابق گذشتہ برسوں کے دوران عجيب و غالب حليے اور ميلے کچلے انداز ميں ان کے عرس پر اور ان کے مزار کے پاس منعقدہ ہفتہ وار رسومات ميں شرکت کرتے اور غير اخلاقي اور خلاف شرع امور انجام ديتے تھے۔ (۱۸) ان کے عقيدت مندوں نے ‘‘ملنگ’’ کے عنوان سے شہرت پائي۔ (۱۹) ليکن اب کيا صورتحال ہے، اس کے بارے ميں ہميں دقيق معلومات حاصل نہيں۔ بعض لوگوں نے بھي ان کي ايک غزل کي روشني ميں، آگ پر رقص کرنے کو ان سے منسوب کيا ہے اور اسے زرتشتي مذہب کا اثر قرار ديا ہے۔ (۲۰) ليکن يہ اثرپذيرياں اس بات کا باعث نہيں بنتيں کہ ہم لعل شہباز کو زرتشتي يا مانوي بودائي کہيں، کيونکہ تاريخ ميں مختلف روايات اور ثقافتوں نے ايک دوسرے کے اثرات قبول کئے ہيں۔ د: عثمان مروندي کا مزار پاکستان کے صوبہ سندھ ميں ہے۔ کيا وہ يہيں پيدا ہوئے؟ اگر نہيں تو يہاں کيسے اور کيوں آئے؟ عثمان مروندي آبائي وطن ميں ابتدائي تعليم مکمل کرنے، عربي اور فارسي زبانوں پر مکمل عبور حاصل کرنے اور قرآن کريم حفظ کرنے کے بعد چھ سال کي عمر ميں مزيد تعليم کے لئے نيشاپور چلے گئے اور استاد بزرگ سيد ابراہيم ولي کربلائي کے سامنے زانوئے تلمذ خم کيا۔ تعليم مکمل ہونے کے بعد آٹھويں امام (عليہ السلام) کي زيارت کے لئے پيدل مشہد گئے اور اس کے بعد ديگر ائمہ عليہم السلام کي زيارت کے لئے عراق روانہ ہوگئے۔ بعد ازاں خانہ خدا اور پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) کي قبر مبارک کي زيارت کي۔ واپسي پر کچھ مدت عراق ميں رہنے کے بعد دوبارہ آٹھويں امام (عليہ السلام) کي زيارت کے لئے روانہ ہوگئے۔ اس کے بعد بلوچستان اور سندھ کے راستے ہندوستان پہنچے۔ راستہ بھر بڑے صوفيوں سے ملاقاتيں کيں اور ان سے فيضياب ہوتے رہے، جس کي تفصيل کے لئے مفصل منابع کي طرف رجوع کرنا چاہيے اور ہم اس سے پہلے لعل شہباز قلندر سے متعلق ايک جواب ميں اس کي طرف اشارے کرچکے ہيں۔ (۲۱) ان کے برصغير سفر کي وجہ ذيل کے عوامل ميں تلاش کي جاسکتي ہے: ۱۔ تصوف کي تاريخ کے ايک خاص حصے ميں صوفيہ اپنے بہت سے آداب و تعليمات ميں اہل حديث کي پيروي کرتے تھے۔ مثال کے طور پر مشائخ کے سلسلے کا اہل بيت عليہم السلام (عليہم السلام) اور پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) کي ذات سے اتصال اور مشائخ سے اجازت لينے کي ضرورت وہ آداب ہيں جو اہل حديث کے آداب سے بہت مشابہ ہيں۔ ان ہي آداب ميں سے ايک سفر کرنا بھي ہے۔ صوفي بھي (اہل حديث کي طرح) مشائخ طريقت کي تلاش ميں ايک شہر سے دوسرے شہر کوچ کرتے تھے تاکہ ان سے ملاقات کريں اور ان کے ہاتھوں سے ارادت و عقيدت کا خرقہ يا پھر تبرک پائيں۔ فطري بات ہے کہ اس زمانے ميں برصغير چشتيہ اور سہرورديہ سلسلے کے بے شمار مشائخ کا ٹھکانہ تھا اور اس خطے کي طرف سفر ہر صوفي مسلک سالک کا خواب اور ارمان تھا۔ ۲۔ اگر ہم يہ بات مان ليں کہ لعل شہباز کا تعلق ايران کے نزاري اسماعيليوں سے تھا، جيسا کہ ہم پہلے ہي اس کي طرف اشارہ کرچکے ہيں تو چونکہ اس زمانے ميں اسماعيليوں کي فعاليت کے لئے حالات بہت دشوار ہوچکے تھے، اس لئے لعل شہباز نے برصغير ميں آزادي عمل سے خوب استفادہ کيا اور بطور مبلغ ادھر کا رخ کيا۔ دوسرے لفظوں ميں، اس سفر کے پيچھے ان کے دو ہدف تھے يعني صوفي مشائخ سے ملاقات اور اسماعيليت کي طرف رجحان کے ساتھ دين اسلام کي ترويج و تبليغ، تاہم انہوں نے جس اسلام کا پرچار کيا، اس ميں صوفيانہ رنگ تھا۔ جيسا کہ ہميں معلوم ہے بنيادي طور پر اسلام برصغير ميں صوفيہ طريقے سے ہي پھيلا ہے، اس لئے اس علاقے ميں لوگوں کے اسلام پر تصوف کے گہرے رنگ اور اثرات ہيں۔ (۲۲) اپنے سفر کے دوران، انہيں کئي طرح کے مواقع ہاتھ آئے۔ تاريخ فيروزشاہي کے مطابق، اگرچہ بادشاہ وقت محمد قاآن ان کے ارادتمندوں ميں شامل ہوگيا اور ان سے ملتان (جو اس زمانے ميں دارالحکومت تھا) ميں رہنے کي خواہش ظاہر کي اور ان کے لئے ايک خانقاہ بھي بنوائي ليکن لعل شہباز قلندر نے ان کي درخواست نہيں ماني اور اواخر عمر ميں صوبہ سندھ کے مرکز يعني سہون شريف لائے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کي معنوي شخصيت سے متاثر ہوکر بہت سے گنہگار افراد نے توبہ کرلي اور اپنے برے اعمال سے ہاتھ کھينچ ليا۔ (۲۳) ۳۔ ايک اور وجہ ان کي قلندري رسم ہوسکتي ہے، جس کي رسومات ميں تمام عمر شادي نہ کرنا اور دائم السفر ہونا بھي شامل ہے۔ تاہم ايک قول کے مطابق انہوں نے اپني زندگي کا آخري سال اور بعض ک مطابق آخري چھ سال سہون شريف ميں گزارے (۲۴) اور وہيں رہ کر دين کي تبليغ اور رياضت کرتے رہے۔ ہ: بعض لوگ انہيں ‘‘عالم’’ اور ‘‘آيت اللہ’’ بھي کہتے ہيں۔ کيا يہ درست ہے؟ لعل شہباز کو ايک بليغ مقرر، مصنف، مضبوط شاعر، فارسي، عربي اور آذري زبان و ادبيات کے ماہر، تفسير، حديث اور فقہ ميں ماہر کہا گيا ہے۔ (۲۵) شيخ محمد اکرم نے اپني کتاب ‘‘موج کوثر’’ ميں ايک انگريز تاريخ دان سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: ‘‘شہباز قلندر ايک بڑے عالم تھے جو متعدد زبانيں جانتے تھے۔ ان کي دو کتابيں يعني ‘‘ميزان الصرف’’ اور ‘‘صرف صغير’’ برطانوي حکومت کے (1852ء) دوران مدارس اور مساجد ميں پڑھائي جاتي تھيں۔ ان کي ايک اور کتاب ‘‘کتاب اجناس’’ بتائي جاتي ہے۔ (۲۶) ان ميں سے بعض کتابوں کي شرحيں بھي لکھي گئي ہيں۔ ان کا ديوان بھي مختلف کتابوں ميں موجود ابيات اور ان غزلوں کا مجموعہ ہے جو سينہ بہ سينہ ان کے نقل کي جاتي ہيں اور مختلف رسومات کے موقع پر پڑھي جاتي ہيں۔ تبليغ و ہدايت کے علاوہ انہوں نے پڑھانے کي بھي ذمہ داري لي اور علم عرفان کي کلاسوں کا آغاز کيا۔ (صافي قاسم، ايضا) آپ کا شمار ان بلندپايہ شاعروں ميں ہوتا ہے جنہوں نے سندھ کے لوگوں کو فارسي ادب سے متاثر کيا۔ (۲۷) وہ بہت جلد سہون کو ايک ثقافتي مرکز بنانے ميں کامياب ہوگئے (۲۸) ان کے اشعار ميں وحدت الوجودي رنگ ہے اور خود کو حسين حلاج کے مکتب سے منسوب کرتے ہيں۔ امير المؤمنين (عليہ السلام) کي مدح و منقبت (جيسا کہ ہم پہلے بھي اس طرف اشارہ کرچکے ہيں) ان کي شاعري کا ايک اور اہم پہلو ہے۔ جس زمانے ميں وہ خواجہ زکريا ملتاني کي خانقاہ ميں تھے، انہوں نے رياضت کے علاوہ اکيڈمک تعليم بھي دي۔ (۲۹) اُب اہليان سندھ کے درميان فارسي کو فروغ دينے والے پہلے افراد ميں شامل تھے اور اس زبان کي بہترين قابليتوں سے ثقافتي اور عرفاني اہداف کے لئے استفادہ کيا۔ آپ بذاتِ خود ايک اجتماعي مصلح شخصت کي شکل ميں ظاہر ہوئے اور لاابالي متصوفہ کو وہاں سے نکالنے ميں کامياب ہوگئے اور علاقے کے لوگوں کي خدمت اور مدد کے ذريعے ان کے دل جيت لئے۔ يہاں تک کہ آپ کي شہرت دوردراز کے علاقوں تک پہنچ گئي۔ (۳۰) کامياب رہيں


منابع اور مآخذ:

۱۔ دہخدا، علي اکبر، فرہنگ لغات دہخدا، لفظ ‘‘لال’’ کے ذيل ميں: ‘‘لال اور لعل مترادف الفاظ ہيں اور بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ لعل لفظ لال کي معرب صورت ہے۔) ۲۔ رجوع کريں: آريا، غلام علي، بڑي اسلامي انسائيکلوپيڈيا، بڑي اسلامي انسائيکلوپيڈيا سينٹر، جلد نمبر ۱۵، مقالہ نمبر ۵۹۵۷؛ ۳۔ صافي، قاسم، مقام لعل شہباز قلندر عارف و سخنور فارسي در سند (سندھ کے عارف اور سخنور لعل شہباز قلندر کا مقام)، پژوہشنامہ زبان و ادب فارسي (گوہر گويا)، 2008، پہلا شمارہ (مسلسل ۵) ۴۔ عظيم الشان حيدر، ميراث معنوي و عرفاني: لعل شہباز قلندر، ترجمہ: حيسني، علي محمد، 1971، شمارہ ۱۲۱، ۳ سے ۴ تک؛ ۵۔ لاہوري، غلام سرور بن غلام محمد، خزينۃ الاصفيا، ہرات، انصاري کتاب خانہ، (تاريخ انتشار نامعلوم)، دو جلديں، چاپ سنگي، صفحہ نمبر ۴۶؛ ۶۔ رجوع کريں: سومرو، محمد موسي، حضرت شہباز قلندر، ترجمہ: شگفتہ، صغري بانو، ميگزين: ہلال، 1972، شمارہ ۱۲۵؛ ۷۔ رجوع کريں: سومرو، ايضا ۸۔ ايضا، اسي طرح رجوع کريں: صافي، ايضا ۹۔ لاہوري، ايضا ۱۰۔ فرقاني، محمد فاروق، 2006، تاريخ اسماعيليان قہستان (قہستان کے اسماعيليوں کي تاريخ)، تہران، انجمن آثار و مفاخر فرہنگد، صفحہ نمبر ۲۸۵؛ ۱۱۔ رجوع کريں: مہرنور محمد خان، نفوذ و رواج تذکرۃ الاولياي عطار در پاکستان (پاکستان ميں عطار کي تذکرۃ الاوليا کا نفوذ اور رواج)، ميگزين: چشم انداز ارتباطات فرہنگي، 1997، شمارہ 8، صفحات نمبر ۶۶ تا ۷۱؛ ۱۲۔ رجوع کريں: ضابط حيدر رضا؛ تشيع در شبہ قارہ ہند (برصغير ميں تشيع)،اسلامي سماجي تحقيقات، موسم بہار 1998، شمارہ ۱۲ ۱۳۔ آريا، ايضا ۱۴۔ رجوع کريں: وہبہ، مصطفي زحيلي، الفقہ الاسلامي و ادلتہ، دمشق 1404، جلد نمبر ۶، صفحات نمبر 14 تا 166 اور صفحہ نمبر 152؛ رجوع کريں: طوسي، محمد بن حسين، الخلاف، ناشر: موسسہ النشر الاسلامي، قم، 1407، جلد نبمر ۵، صفحہ نمبر 474؛ ۱۵۔ رجوع کريں: سيد محمد حسين حسيني طہراني، توحيد علمي و عيني، مشہد 1428، صفحہ نمبر 40 ۱۶۔ جعفريان، رسول، حيات فکري و سياسي امامان شيعہ (عليہم السلام) (ائمہ شيعہ عليہم السلام کي فکري اور سياسي زندگي)، انصاريان، قم، ايران، صفحہ نمبر ۲۷؛ ۱۷۔ فرزانہ پور، رشيد، ادبيات فارسي در سند (سندھ ميں فارسي زبان و ادب)، ہلال ميگزين، 1971، شمارہ 120، صفحات نمبر 25 تا 28؛ ۱۸۔ ابوالبشري، پيمان، نجاتي، ميترا، نگاہي بہ کارنامہ قلندر پژوہي (با تکيہ بر قلندريہ در تاريخ، نوشتہ دکتر محمد رضا شفيعي کدکني) (تحقيقات قلندر کے نتائج پر ايک نظر) (ڈاکٹر محمد رضا شفيعي کدکني کي تحرير تاريخ ميں قلندريہ پر انحصار کے ساتھ)، تاريخ پژوہي، موسم خزاں، 2014، شمارہ 60، صفحات نمبر 39 سے لے کر 58 تک؛ ۱۹۔ اين ميري اشمل، ظہور و دوام اسلام در ہند (ہندوستان ميں اسلام کا ظہور اور دوام) (۲) ترجمہ: لاہوتي، حسن، کيہان انديشہ، 1989، شمارہ 24، صفحات نمبر 101 سے 111 تک؛ اسي طرح ديکھيں: صافي، ايضا ۲۰۔ رضوي، سيد اطہر عباس، تصوف در شبہ قارہ ہند (برصغير پاک و ہند ميں تصوف)، ترجمہ: شاہ حسيني، فاطمہ، ميگزين: اطلاعات حکمت و معرفت، 2007، شمارہ ۲۲، صفحات نمبر ۳۹ سے ۴۶ تک؛ ۲۱۔ امين، حسن، پيوند قلندران و خاکساران با اديان کہن (پرانے اديان سے قلندروں اور خاکساروں کے رشتے)، 1998، نمبر 110، صفحات نمبر 10 سے 32 تک ۲۲۔ صافي، ايضا ۲۳۔ ۔ پامر، کلنت، اسلام عامہ پسند در تئاتر پاکستان (پاکستاني تھيٹر ميں عوامي اسلام)، ترجمہ: پشتوان، حميدہ؛ ميگزين: تھيئٹر، 2008، شمارہ 41، صفحات نمبر 50 سے 53 تک؛ ۲۴۔ ديکھيں: صافي، ايضا، تحفۃ الکرام و خزينۃ الاصفيا سے منقول ۲۵۔ صافي، ايضا ۲۶۔ رجوع کريں: صافي، ايضا، مغول، محمد بن يعقوب (1993) سے منقول؛حضرت لعل شہباز قلندر يک صوفي عظٰم و والي اللہ، وزارت اوقاف سند۔ ۲۷۔ رجوع کريں: صافي، ايضا، مغول، ايضا سے منقول ۲۸۔ رجوع کريں: سومرو، ايضا ۲۹۔ صافي، ايضا ۳۰۔ صافي، ايضا، باريچو، مشتاق مسرور (1991) سے منقول؛ لعل شہباز قلنر، حيدرآباد، شمع بک ڈپو ۳۱۔ صافي، ايضا -------------------------------- www.abp-miftah.com گروه پاسخ‏گويي سايت پرسش و پاسخ پورتال اهل‏بيت (عليهم‏السلام)


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے