سوال کا متن:

کیا نہج البلاغہ میں مولا امیرالمومنین × کا کوئی ایسا فرمان ہے جس میں کہا گیا ہو کہ اگر شراب کا ایک قطرہ دریا میں جا ملے، اس کے پانی سے کہیں گھاس اگے اور وہ گھاس گھوڑا کھا لے تو میں علی اس گھوڑے پر بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتا ؟


وزیٹر کی تعداد: 83    گروپ کاری: نہج البلاغہ         
جواب:

السلام علیکم؛

نہج البلاغہ میں ایسا کوئی فرمان نہیں ہے تاہم شیعہ اور سنی کتب میں سند کے ذکر کے بغیر ایک روایت ملتی ہے، جس کی عبارت کچھ یوں ہے: ‘‘لو وقعت‏ قطرة من الخمر في بئر فبنيت مكانها منارة لا أؤذن عليها، و لو وقعت في بحر ثم جفت و نبت فيه لم‏ ارعه۔ (۱)’’ یعنی: اگر شراب کا ایک قطرہ کسی کنویں میں گرجائے، پھر وہاں ایک منارہ بنایا جائے تو میں وہاں اذان نہیں دوں گا اور اگر شراب کا ایک قطرہ ایک بڑے دریا میں گرجائے اور پھر اس کا پانی سوکھ جائے اور اس میں سبزہ و گیاہ اگ آئیں تو میں کسی حیوان کو وہاں چرنے نہیں لے جاؤں گا۔’’

یہاں یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ یہ کوئی فرمان نہیں ہے، بلکہ صرف شراب سے بچنے کی ضرورت کے بارے میں ایک مشورہ اور وارننگ ہے تاکہ ہر عاقل اور باتقوا انسان اس عظیم گناہ کے خطرے سے زیادہ سے زیادہ آگاہ ہوسکے اور اس سے بچے۔ یہ روایت ذکر کرنے کے بعد علی بن طاووس کہتے ہیں: ‘‘شراب کی حرمت کے بارے میں یہ سب سے واضح کلام ہے اور شبہات اور محرمات سے پرہیز کے بارے میں اہم ترین تقوا اور پرہیزگاری اور اگر کہا جائے کہ کسی ایسی کسی ایسی زمین پر جس پر شراب کا ایک قطرہ گرا ہو اور اس پر ایک مینارہ بنایا گیا ہو تو اس پر اذان دینے سے پرہیز میں کیسی پرہیزگاری؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خداوند عالم نے [شراب کی حرمت] والی آیت کے آخر میں فرمایا ہے: ‘‘فاجتنبوه؛ اس سے دور رہیں’’ اور یہ نکتہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ شراب کے استعمال سے ہر وسیلے میں پوری طرح دوری اور اجتناب کیا جائے۔ (۲)

اور چونکہ علی × خود کمال اور پرہیزگاری کی اعلی ترین بلندی پر فائز ہیں، اس لئے فرماتے ہیں کہ میں خود اس حد تک اس سے دوری اختیار کرتا ہوں۔


منابع اور مآخذ:

۱۔ ابن طاووش، علی بن موسی، سعد السعود، دار الذخائر، قم، صفحہ نمبر ۱۲۸؛ فاضل مقداد بن عبداللہ، کنز العرفان فی فقہ القرآن، انتشارات مرتضوی، قم، جلد نمبر ۲، صفحہ نمبر ۳۰۵؛ مسالک الافہام الی آیات الاحکام، انتشارات مرتوضوی، تہران، جلد نمبر ۴، صفحہ نمبر ۱۴۵؛ کاشانی، فتح اللہ بن شکر اللہ، منہج الصادقین فی الزام المخالفین، اسلامیہ بک اسٹال، تہران، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۴۷۲؛ ابو السعود، محمد بن محمد، تفسیر ابی السعود، دار احیاء التراث العربی، بیروت، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۲۱۸؛ حقی فرسوی، اسماعیل بن مصطفی، روح البیان، دار الفکر، تیروت، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۳۴۰؛ آلوسی، محمد بن عبداللہ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم، دار الکتب العلمیہ، منشورات محمد علی بیضون، لبنان، بیروت، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۵۰۶. ۲۔ ابن طاووش، علی بن موسی، سعد السعود، دار الذخائر، قم، صفحہ نمبر ۱۲۸. ------------------------------------- گروه پاسخ‏گويي سايت پرسش و پاسخ پورتال اهل‏بيت ^ www.abp-miftah.com www.abp-zikra.com www.ahl-ul-bayt.ir


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے