سوال کا متن:

کیا ائمہ ع اور بالخصوص سید الشہدا ع کی قبر کی زیارت کرنا واجب ہے اور اگر واجب ہے تو کیا یہ واجب عینی ہے؟


وزیٹر کی تعداد: 33    گروپ کاری: زیارت         
جواب:

سب سے پہلے اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کی فضیلت کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث حد تواتر سے کہیں زیادہ ہیں اور ہم اپنی بحث کو نتیجے تک پہنچانے کے لئے ان تمام کا ذکر اور احاطہ نہیں کرسکتے۔ ضروری ہے کہ ان تک رسائی کے لئے مجامع روائی سے رجوع کیا جائے۔ (۱) بعض حدیثی جوامع میں ’’امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا وجوب‘‘ کے عنوان سے الگ ابواب آئے ہیں، جن سے ان کتابوں کے مرتبین کے نقطہ نگاہ سے بھی آشنائی حاصل ہوتی ہے جو اس زیارت کے وجوب پر مبنی ہے۔ ان افراد میں شیخ کبیر جعفر ابن قولویہ قمی (۲) شیخ مفید نے اپنی کتاب المزار (۳) اور شیخ حر عاملی نے وسائل الشیعہ (۴) اور ہدایذ الامہ (۵) میں جبکہ علامہ مجلسی نے بحار الانوار (۶) اور محدث نوری نے مستدرک الوسائل (۷) میں اس بارے میں لکھا ہے۔ دیگر بہت سی کتب میں بھی ان بزرگوں کے اقوال نقل ہوئے ہیں بغیر اس کے کہ ان پر کوئی اعتراض کیا ہو یا انہیں رد کیا ہو، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتابیں بھی وجوب سے متعلق ان کے اقوال کی طرف مائل تھیں اور ان کا انکار نہیں کرتی تھیں۔ منجملہ اربلی نے کشف الغمہ میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے وجوب کا قول شیخ مفید کی ارشاد سے نقل کیا ہے اور اس پر کوئی کوئی حاشیہ وغیرہ نہیں لگایا۔ (۸) اسی طرح محدث قمی نے بھی اپنی بے شمار کتابوں میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے وجوب کے بارے میں علامہ مجلسی کے اقوال نقل کیے ہیں۔ (۹)

دوسری طرف بعض اہل فتوا لوگوں نے آپ علیہ السلام کی زیارت کو واجب یا شبہ وجوب کا حامل قرار دیا ہے۔ ان بزرگوں میں علامہ محمد تقی اور علامہ محمد باقر مجلسی (رہ) شامل ہیں۔ مجلسی دوم امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے بارے میں کئی احادیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’ان احادث میں سے اکثر اور بعد میں ہم جن احادیث کا ذکر کریں گے، ان میں سے بیشتر بظاہر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ امام علیہ السلام کی زیارت سب سے بڑے اور موکدترین فرائض میں شامل ہے۔‘‘       

اس کے فورا بعد لکھتے ہیں:

’’بعید نہیں کہ ہم اس بات کے قائل ہوں کہ استطاعت کی صورت میں امام علیہ السلام کی زیارت زندگی میں ایک بار واجب ہوتی ہے اور میرے والد کا میلان بھی اسی قول کی طرف تھا۔‘‘ (۱۰)

ایک اور مقام پر وہ وجوب سے متعلق قول کو نہایت قوی مانتے اور یوں لکھتے ہیں:

’’احتیاط میں پسندیدہ تر یہ ہے آنحضرت علیہ السلام کی زیارت اور حضرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت بلکہ ہر امام علیہ السلام کی زیارت میں پہلے سنت کا قصد نہ کیا جائے بلکہ اسے قربت الی اللہ کی نیت سے ادا کیا جائے۔‘‘ (۱۱)

اس کے بعد دوسرے اخبار نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ان معتبر اخبار کے موافق، احوط یہ ہے کہ جو لوگ نزدیک رہتے ہیں (جیسے اہل حلہ، اہل بغداد اور اہل نجف)، وہ ہر ماہ ایک بار زیارت کے لئے ضرور جایا کریں، بشرطیکہ انہیں کسی قسم کا خطرہ نہ ہو؛ یا کم سے کم ہر چار مہینے میں ایک بار زیارت کے لئے جائیں اور خوف کی حالت میں سال میں ایک مرتبہ جائیں۔ یا یہ کہ متوسط الحال اغنیا ہر چار سال بعد اور بہت امیر اغنیاء ہر سال ایک بار زیارت کرنے جائیں۔ (۱۲) مجلسی اول بھی من لایحضرہ الفقیہ کی شرح میں ایسی بعض عبارتوں سے مشابہ عبارتیں لائے ہیں۔ (۱۳) حسین بن محمد بحرانی (محقق کے بھتیجے اور صاحب حدائق کے مشہور فقیہہ) بھی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے وجوب کے قائلین میں شامل ہیں۔ ہرچند وہ علامہ مجلسی (۱۴) کی طرح صراحتا بیان کرتے ہیں کہ مشہور فقہائے امامیہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو مستحب مؤکد سمجھتے ہیں، تاہم وہ خود وجوب کے قائل ہیں اور فرماتے ہیں: ’’جو مرد اور عورتیں استطاعت رکھتے ہیں ان کے لئے لازمی ہے کہ اپنی زندگی میں ایک بار امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے ضرور جائیں کیونکہ معتبر روایات میں ہے کہ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں وہ ان کی زیارت کے لئے جائیں اور اگر خود نہیں جاسکتے تو دوسروں کو آمادہ اور ان کی مدد کریں تاکہ وہ زیارت کے لئے جائیں۔ (۱۵) کتاب روضۃ المتقین میں مجلسی اول کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ پرانے علماء کے ایک گروہ نے بھی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے وجوب کے بارے میں فتوے دیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا وجوب بے شمار اخبار سے ظاہر ہے اور اس رو سے شیعہ فقہاء کے ایک گروہ نے بھی وجوب کا فتوا دیا ہے، بلکہ فقہاء کے ایک گروہ نے یہ بھی فتوا دیا ہے کہ ہر امام علیہ السلام کی زیارت، ہر چند زندگی میں ایک مرتبہ ہی سہی، واجب ہے۔‘‘ (۱۶)

وجوب عینی یا وجوب کفائی؟

جیسا کہ آپ نے دیکھا باپ اور بیٹے دونوں مجلسیوں کے کلام سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں ان پر واجب ہے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے عجلت دکھائیں اور یوں لگتا ہے کہ ان کی نظر میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا واجب ہونا بالکل زندگی میں ایک مرتبہ حجۃ السلام کے واجب ہونے کی طرح ہے۔ جی ہاں اگر ہم ان روایات کی رو سے فتوا صادر کریں جو قریب و بعید کے لئے زمان و مکاں کا ذکر کرتی ہیں تو اس صورت میں کربلا سے دور یا نزدیک رہنے والے ہر انسان پر امام حسین علیہ السلام کی زیارت ایک سے زیادہ مرتبہ لازمی ہے۔ جیسا کہ مجلسی نے بحار الانوار میں لکھا ہے کہ ’’لایبعد القول به‘‘ (بعید نہیں کہ ہم اس کے بارے میں بھی فتوا دے دیں) (۱۷) اور تحفۃ الزائر کی عبارت میں اس پر عمل کرنے کو احتیاط سمجھتے ہیں۔ اسی طرح مرحوم بحرانی کی عبارت سے بھی بظاہر وجوب عینی ظاہر ہوتا ہے۔

البتہ صاحب وسائل جیسے بعض فقہاء وجوب کفائی سے متعلق روایات کے درمیان جمع کے قائل ہیں۔ انہوں نے اپنی حدیث کی دونوں کتابوں کے کئی ابواب امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے واجب کفائی ہونے سے مختص کیے ہیں۔ مثال کے طور پر ابواب ’’المزار و ما یناسبہ‘‘ کے سینتیسویں باب میں آیا ہے: 

’’ باب تأكّد استحباب زيارة الحسين بن علي و وجوبها كفاية ‘‘ جس میں انہوں نے ۴۸ روایات نقل کی ہیں، جن میں سے بعض سند کے اعتبار سے معتبر اور قابل اعتماد ہیں، جیسے:

’’ عن محمد بن مسلم عن ابی جعفر قال: مروا شیعتنا بزیارة قبر الحسین فان اتیانه یزید فی الرزق و یمد فی العمر و یدفع مدافع السوء و اتیانه مفترض علی کل مؤمن یقله بالامامة من الله ‘‘ یعنی: امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ہمارے پیروکاروں کو امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کے لئے لے جاؤ۔ پس یقینا امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے آنے سے رزق میں اضافہ اور عمر میں برکت ہوتی ہے اور اس سے برائی کے دریچے بند ہوجاتے ہیں اور آنحضرت علیہ السلام کی زیارت کے لئے آنا ہر اس مؤمن پر واجب ہے جو انہیں خدا کی طرف سے امام مانتا ہے۔ ان روایات میں سے دو ایسی ہیں جو ممکن ہے سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہوں: ایک، ’’مروا‘‘ والا جملہ جو صیغہ امر ہے اور اس کا پہلا مطلب وجوب سے متعلق ہے۔ دوسرا جملہ ’’ و اتیانه مفترض ...‘‘ ہے جو نہایت صراحت سے زیارت کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔

ام سعید الاحمسیہ کی روایت میں بھی واضح طور پر آیا ہے: سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کے وجوب کے بارے میں: قالت: ’’ قال لی ابوعبدالله (ع) یا ام سعید تزورین قبر الحسین (ع) قالت: قلت: نعم (قال: یا ام سعید) زوریه فان زیارة الحسین واجبة علی الرجال و النساء ‘‘؛ یعنی: ام سعید کہتی ہیں: امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے ام سعید! کیا تم لوگ حسین (علیہ السلام) کے مرقد مقدس کی زیارت کرتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ حضرت فرمانے لگے: آنحضرت (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کرو۔ پس یقینا حسین (علیہ السلام) کی زیارت کرنا ہر مرد اور زن پر واجب ہے۔

اس روایت میں ’’زوریہ‘‘ کا جملہ امر ہے اور اس سے وجوب ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح حدیث کا آخری فقرہ، جو پہلے جملے کی علت کے طور پر بیان ہوا ہے، ہر عورت اور مرد پر اس کے واجب ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

عبدالرحمن بن کثیر کی روایت میں بھی حضرت سید الشہداء کی زیارت کے واجب ہونے کی طرف اشارہ ملتا ہے اور اس زیارت کے علاوہ خدا کی طرف سے آنحضرت علیہ السلام کے لئے حق کا بھی ذکر ملتا ہے:

’’ قال ابوعبدالله (ع): لو ان احدکم حج دهره ثم لم یزر الحسین بن علی (ع) لکان تارکا حقا من حقوق رسول الله (ص) لان حق الحسین فریضة من الله واجبة علی کل مسلم ‘‘؛ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’اگر تم میں سے کوئی ساری زندگی حج انجام دیتا رہے اور اس کے بعد حسین بن علی علیہ السلام کی زیارت نہ کرے، تو اس شخص نے خدا کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقوق میں سے ایک حق ترک کیا ہے؛ کیونکہ حسین علیہ السلام کا حق خدا کی طرف سے فرض کیا گیا ہے اور ہر مسلمان پر واجب ہے۔

اس حدیث میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت دوبار واجب قرار دی گئی ہے۔ پہلی بار ’’ فریضة من الله ‘‘ والے جملے میں اور دوسری بار ’’ واجبة علی کل مسلم ‘‘ والے فقرے میں۔

ایسی بہت سی روایات ہیں جن میں سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت ترک کرنا ایمان میں نقص کا سبب قرار دیا گیا ہے، جیسے عنبسہ بن مصعب کی روایت میں: ’’ عن ابی عبدالله (ع) قال: من لم یات قبر الحسین (ع) حتی یموت کان منتقص الایمان، منتقص الدین ان ادخل الجنة کان دون المؤمنین فیها‘‘؛ یعنی: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر کوئی شخص حسین علیہ السلام کی زیارت کرنے نہ آئے، یہاں تک کہ مرجائے تو ایسے شخص کا ایمان اور دین ناقص ہے اور اگر وہ جنت میں داخل ہو تو مؤمنین کی نسبت کم تر اور نچلے رتبے پر قرار پائے گا۔

امام حسین علیہ السلام کی زیارت ترک کرنے والے کے ایمان کے ناقص ہونے سے متعلق یہ روایت بہت صریح ہے۔ جیسا کہ دیکھا گیا، زیارت کے وجوب کے بارے میں روایات سے متعلق شبہ کی گنجائش نہیں۔ (۱۸)

جمع بین احادیث کا پہلو:

جمع بین روایات کے بارے میں متعدد اقوال موجود ہیں:

۱۔ وجوب پر دلالت کرنے والی روایات پر عمل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مشہور نے ایسا کرنے سے پرہیز کیا ہے:

بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ ہرچند روایات زیارت کے وجوب عینی ہونے پر دلالت کرتی ہیں، پھر بھی ان کے وجوب عینی ہونے کے بارے میں فتوا دینا مشکل ہے۔ یا اس لئے کہ مشہور نے ایسا کرنے سے اجتناب کیا ہے، کیونکہ مجلسی اول کے کسی نے بھی اس کے بارے میں ایسا کوئی فتوا جاری نہیں کیا۔ البتہ یہ جواب ان فقہاء کی رو سے درست ہے جو مشہور کے اجتناب کی سند کو کمزور تصور کرتے ہیں۔ (۱۹)

۲۔ وجوب کفائی:

بعض افراد جیسے صاحب وسائل نے (جن کے بارے میں ہم نے اوپر بیان کیا) روایات کے درمیان جمع کے قائل ہوئے ہیں اور وجوب پر دلالت کرنے والی روایت کو واجب کفائی پر حمل کرتے ہیں؛ یعنی اگر ائمہ علیہم السلام کی قبور، خاص طور پر کربلائے معلی میں کوئی زائر نہ ہو، یہاں تک کہ اسے غریب الوطنی سے خارج کردے، تو ایسے میں ان کی زیارت شیعوں پر واجب کفائی ہے۔ اس حمل پر شاہد ائمہ علیہم السلام کے زمانے سے متصل سیرہ متشرعہ ہے جو زیارت ائمہ علیہم السلام کو واجب عینی نہیں سمجھتے تھے۔ (۲۰) محقق (رہ) نے اپنی کتاب شرائع میں فرمایا ہے کہ اگر لوگوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کی زیارت ترک کردی تو والی اور حاکم پر لازم ہے کہ انہیں اس امر کے لئے مجبور کرے، کیونکہ زیارت ترک کرنا ان کے حق میں ظلم ہے اور ظاہر ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں ظلم کرنا حرام ہے۔ لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ترک کرنا ان کے حق میں ظلم کیوں تصور ہوتا ہے، تو شارحین شرائع الاسلام نے ’’من حج ولم یزرنی فقد جفانی‘‘ اور ’’ لو أن الناس تركوا الحج لكان على الوالي أن يجبرهم على ذلك وعلى المقام عنده ، ولو تركوا زيارة النبي صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لكان على الوالي أن يجبرهم على ذلك وعلى المقام عنده ، فإن لم يكن لهم مال أنفق عليهم من بيت مال المسلمين ‘‘ جیسی روایات سے تمسک کیا ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت اور اس سے بھی زیادہ ان کے قریب مقیم ہونے کو واجب کفائی مانا ہے کیونکہ والی لوگوں کو صرف واجبات کی ادائگی پر مجبور کرسکتا ہے اور بس۔ (۲۱)

دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصل زیارت ایک مستحب امر ہے اور ممکن ہے کہ مختلف شرائط کے تحت واجب قرار پائے۔ شہید ثانی (رہ) کا ماننا ہے کہ کسی عمل کے مستحب ہونے اور اسے انجام دینے پر کسی کو مجبور کرنے میں منافات نہیں پائے جاتے، کیونکہ ممکن ہے اس مستحب عمل کو ترک کرنا دین کی خواری شمار ہو اس لئے حاکم ایک مستحب عمل انجام دینے پر بھی لوگوں کو مجبور کرسکتا ہے۔ چنانچہ اگر لازم ہو تو ایک حاکم لوگوں کو اذان کہنے پر مجبور کرسکتا ہے یا اس معاملے میں ان کے خلاف جنگ پر اتر سکتا ہے، اگرچہ اذان دینا مستحبات میں سے ہے۔ (۲۲)

۳۔ وجوب سے مراد استحباب مؤکد ہے:

روایات کے درمیان جمع کرنے کی ایک اور صورت یہ ہے کہ ہم کہیں کہ وجوب سے مراد استحباب مؤکد ہے۔ اس حمل کی مثال وہ بے شمار روایات ہیں جو سند کے اعتمار سے بھی اور دلالت کے اعتبار سے بھی وجوب پر دلالت کرنے والی روایات سے زیادہ قوی ہیں اور تعارض کی صورت میں ان پر مقدم مانی جاتی ہیں۔ (۲۳) یہاں تک کہ بعض روایات میں وجوب کے استحباب پر حمل کا قرینہ بھی موجود ہے جیسا کہ مرحوم سید عبدالاعلی سبزواری نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (۲۴) ایسی بھی روایت ماجود ہیں جو امام حسین علیہ السلام کی زیارت ترک کرنے کو ان کے حق میں جفا اور ظلم تصور کرتی ہیں، لیکن یہ روایات بھی وجوب پر دلالت نہیں کرتیں، کیونکہ یہاں ظلم اور جفا سے مراد شریعت سے بے خبری اور دوری ہے اور اس دوری کے مختلف مراتب ہیں، جس میں ایک مرتبہ مستحب عمل کا ترک کرنا بھی ہے۔ جیسا کہ روایات میں ہے کہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا ظلم اور جفا کرنا ہے۔ جی ہاں بعض روایات وجوب عینی پر دلالت کرتی ہیں، لیکن کمزور سند اور مشہور کے ان روایات سے پرہیز کرنے کو دیکھتے ہوئے، ان سے استدلال کرنے کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ (۲۵)

۴۔ امام حسین علیہ السلام کی زیارت واجب ہے لیکن امت کی سہولت کی وجہ سے اس کا وجوب ختم کردیا گیا ہے:

فقہاء میں سے بعض اس قول کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ مرحوم آغا ضیاء الدین عراقی (رہ) (۲۶) اور علامہ محمد تقی آملی (رہ) گویا روایات جمع کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ آملی شرح عروہ میں فرماتے ہیں: امام حسین علیہ السلام کی زیارت میں ذاتی وجوب کی مصلحت اور معیار موجود ہے بلکہ اس کی مصلحت واجبات کی مصلحت سے بالاتر ہے۔ جیسا کہ رویات میں ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت ایک ملین حج اور عمرہ سے بالاتر ہے، تاہم مکلفین کے حال کی رعایت کرتے ہوئے اس وجوب کو ختم کردیا گیا ہے، کیونکہ امام علیہ السلام رحمت الہی کا دروازہ ہیں اور خداوند عالم نے ارادہ فرمایا ہے کہ ان کی طرف سے مکلفین پر کسی قسم کی سختی وارد نہ ہو اور چونکہ امام علیہ السلام کی ویارت کا وجوب سختی اور مشکل سے خالی نہیں، اس لئے مکلفین سے اس کا وجوب اٹھا لیا گیا ہے۔ (۲۷)

۵۔ روایات میں اختلاف کا باعث زمان و مکاں کا عنصر ہے:

مرحوم استاد شہید مطلری (رہ) نے رویات کے درمیان جمع کے بارے میں مرحوم مرزا مہدی اصفہانی (رہ) سے فرمایا ہے اور بظاہر خود بھی اس کے قائل ہیں۔ وہ روایات کے درمیان اختلاف کی دلیل مختلف سماجی اور زیارت پر حاکم حالات کو قرار دیتے ہیں، جن سے خود بخود زمان و مکاں کا عنصر ابھر کے سامنے آتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’۔۔۔ اس بنا پر ایک طرف سے اسلامی احکام کا مختلف مصالح و مفاسد پر مشتمل ہونا (جن کا تعلق انسان سے ہے اور جسے عقل اور علم کشف کرسکتا ہے) اور دوسری طرف سے اسلام کی قانون گذاری کے سسٹم نے، جو ایک طرح قضایائے حقیقیہ پر مشتمل ہے (یعنی یہ حکم کو افراد نہیں بلکہ کلیہ موضوعات کی طرف لے جاتا ہے)، مجتہد کو وسیع امکانات فراہم کیے ہیں تاکہ وہ خود اسلام کے حکم کے مطابق مختلف زمانی و مکانی شرائط کے تحت مختلف فتوے صادر کرے اور یوں کشف کرے کہ ایک چیز جو ایک زمانے میں حلال ہے، کسی اور زمانے میں جاکر حرام ہوجاتا ہے، اور ایک زمانے میں واجب چیز، کسی دوسرے زمانے میں مستحب ہوجاتی ہے، اور کوئی شے ایک زمانے میں کچھ اور ہے اور دوسرے زمانے میں کچھ اور۔ یہ جو مطلب میں نے ابھی عرض کیا ہے اس سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ہمارے ہاں اخبار متعارض کیوں ہیں۔ یہاں میں ایک مثال عرض کروں گا جو میں بزرگ عالم دین مرحوم آقا میرزا مہدی اصفہانی سے نقل کررہا ہوں جو مشہد میں رہتے تھے۔ اس طرح اس بزرگ انسان کو بھی یاد کریں گے جو اس عقیدے پر سخت پابند تھے۔ مثال کے طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ امام س سوال کیا جاتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی نوعیت کیا ہے؟ امام علیہ السلام فرماتے ہیں: مستحب ہے۔ اسی طرح کسی اور امام علیہ السلام سے یہی سوال پوچھا گیا تو یا تو انہوں نے ’’واجب ہے‘‘ میں جواب دیا یا پھر ایسا جواب دیا جس سے وجوب کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے [مثال کے طور پر فرمایا] ’’ضرور جائیں، اور ترک کرنے سے پرہیز کریں‘‘ اسی طرح ممکن ہے پھر کسی زمانے میں کسی اور امام علیہ السلام سے یہی سوال کیا گیا ہو اور انہوں نے سوال کی طرف کوئی توجہ نہ دی ہو اور [مثال کے طور پر فرمایا ہو] ’’اب کوئی ضرورت نہیں، تم جانا چاہو تو جاؤ، نہ جانا چاہو تو نہ جاؤ۔‘‘ ایک سادہ آدمی سن کر کہے گا: ’’کیسے مختلف اور متناقض جوابات دیے ہیں!‘‘ ایک جگہ تو فرماتے ہیں ’’واجب‘‘ ہے، ایک بار اسے ’’مستحب موکد‘‘ قرار دیتے ہیں اور پھر ایک اور جگہ اسے غیر موکد ’’مستحب‘‘ بتاتےہیں۔ لیکن نہیں، یہ کوئی تعارض نہیں۔ یہ ساری باتیں مختلف شرائط کے تحت بیان ہوئی ہیں۔ بعض اوقات حالات معمول پر تھے، ایسے حالات میں واضح ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام علیہ السلام یہاں تک کہ اولیاء اللہ کی قبور مبارک کی زیارت کرنا ان کی یاد تازہ کرنا ہے اور یوں ایک تربیتی عمل ہے جو فی ذاتہ مستحب ہے، تاہم یہی ’’مستحب‘‘ عمل کبھی کبھار ’’حرام‘‘ ہوجاتا ہے اور بعض اوقات ’’واجب‘‘۔ مثال کے طور پر متوکل کی حکومت ہے جو نہایت سختگیر اور ظالم و جابر حاکم ہے، ایسے میں ایک چال چلائی جاتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی رسم ختم ہونی چاہیے، ایسے حالات میں ائمہ علیہم السلام تشخیص دیتے ہیں کہ اس چال کا مقابلہ کرنا ضروری ہے اور اس طرح ایک جدید مسئلہ سامنے آتا ہے: یعنی خلیفہ وقت کی چال کا مقابلہ کرنا اور یہاں حکم صادر ہوتا ہے کہ ’’واجب ہے‘‘ اور واقعی واجب ہے۔‘‘ (۲۸)

بعض معاصر فقہاء کے نظریے کے مطابق امام حسین علیہ السلام کی زیارت ممکن ہے خود میں واجب کفائی اور واجب عینی جیسے عنوانات لئے ہوئے ہو؛ مثال کے طور پر دین کی ترویج، ولایت سے تجدید عہد اور محبت اہل بیت علیہم السلام اور ان سے بیعت، مقدسہ عمارتیں، شعائر کی تعظیم اور پاسداری اور اجر رسالت قرار دی گئی مودت، اقامہ و حفظ ولایت، ایمان کی روشنی پھیلانا، انسان کی ہدایت کرنا، تولی اور تبری ک فریضے کو قائم کرنا اور ان جیسے بے شمار دیگر واجب عنوانات جو اصول دین اور ارکان دین سے مربوط ہیں اور شعائر حسینی ان کے حامل ہیں۔‘‘ (۲۹)

۶۔ وجوب عینی:

جیسا کہ ہم نے مشاہدہ کیا، بعض فقہا کی عبارت سے وجوب عینی ظاہر ہوتا ہے۔ اسی لئے ہم نے دیکھا کہ مجلسی (رہ) اس بات کے قائل تھے کہ زائر اپنی عمر کی پہلی زیارت کے دوران (بطور احتیاط) استحباب کا قصد نہ کرے، کیونکہ ممکن ہے کہ معصومین علیہم السلام کی زیارت زندگی میں ایک بار واجب قرار دی گئی ہو۔ شیخ خضر بن شلال (رہ) اس قول کو پسند اور اس کی توجیہہ کرتے ہیں۔ (۳۰) اس بات کا ذکر بھی لازمی ہے کہ یہ صرف امام حسین علیہ السلام کی زیارت نہیں جس کے واجب ہونے کے بارے میں روایات سے استفادہ کیا گیا ہو، بلکہ بعض روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت بھی واجب ہے (۳۱) ہم اوپر اس کی تاویل کا ذکر کرچکے ہیں۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ اہل سنت کے فقہاء میں بھی بعض پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے وجوب کے قائل ہیں۔ (۳۲)

نتیجہ بحث:

آخر میں ہم کہیں گے: جیسا کہ آپ ملاحظہ کرسکتے ہیں فقہاء کے درمیان امام حسین علیہ السلام، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر معصومین علیہم السلام کی قبور کی زیارت کے وجوب کی طرفداری کرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ نہیں، تو پھر اس کے وجوب عینی ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا! آپ نے ملاحظہ کیا کہ وجوب پر دلالت کرنے والی بعض روایات سند کے اعتبار سے مخدوش ہیں جیسا کہ اس کے بارے میں بعض اور احتمالات بھی بیان ہوئے ہیں، مجملہ یہ کہ حضرات معصومین علیہم السلام کی زیارت بعض خاص مواقع اور شرائط کے تحت ممکن ہے واجب کفائی ہو کیونکہ ممکن ہے اس پر دینی شعائئر کی تعظیم اور دین کا بچاؤ وغیرہ جیسے عنوانات صادق آئے۔ لہذا روایات کو جمع کرتے ہوئے اور متصل و منفصل قرائن کی روشنی میں حکم اولی کی رو سے معصومین علیہم السلام کی زیارت وجوب نہیں، اگرچہ اس میں وجوب کی مصلحت پائی جاتی ہو، لیکن امت کی سہولت کے لئے اس وجوب کو رفع کیا گیا ہے۔ تاہم ثانوی عنوان اور اوپر بیان ہونے والے بعض دیگر عنوانات کے تحت ممکن ہے کہ اسے واجب کفائی حتی واجب عینی قرار دیا جائے۔


منابع اور مآخذ:

ا۔ محمد مدہدی رے شہری، امام حسین علیہ السلام انسائکلوپیڈیا قرآن، حدیث اور تاریخ کی روشنی میں، خاص طور پر جلد نمبر ۱۰، ص نمبر ۴۶۶: الفصل الثانی، الحثُّ الأكيد على زيارته والتّحذير الشّديد من تركها "فَريضَةٌ عَلى كُلِّ مُؤمِنٍ" و "مَن لَم يَزُرهُ كانَ مُنتَقَصَ الإِيمانِ" ۲۔ ابن قولویہ، جعفر بن محمد؛ کامل الزیارات، ذہبی تہرانی، محمد جواد (مترجم)؛ پیام حق، تہران، ۱۳۷۷، صفحہ نمبر ۳۹۵ ۳۔ شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، کتاب المزار، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، رم، پہلا ایڈیشن، ۱۴۱۳؛ باب وجوب زیارة الحسین ص۲۶ و باب حد وجوبها فی الزمان علی الأغنیاء و الفقراء ص۲۸. ۴۔ محمد بن الحسین الحر العاملی، تفصیل وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ؛ موسسہ آل البیت علیہم السلام لاحیاء التراث، قم؛ بَابُ وُجُوبِ زِیارَةِ الْحُسَینِ وَ الْأَئِمَّةِ(ع) عَلَی شِیعَتِهِمْ کفَایةً‌. وسائل الشیعة ج۱۴ ص۴۴۳ ۵۔ عاملی، حر، محمد بن حسن، هداية الأمة إلى أحكام الأئمة، منتخب المسائل، ۸ جلدیں، مجمع البحوث الاسلامیہ، مشہد، ایران، پہلا ایڈیشن، ۱۴۱۲ ہجری قمری، جلد نمبر ۵، صفحہ نمبر ۴۸۰ ۶۔ اصفہانی، مجلسی دوم، محمد باقر بن إھمد تقی، بحار الانوار، ۴۴ جلدیں، موسسہ الطبع والنشر، بیروت، لبنان، پہلا ایڈیشن، ۱۴۱۰، جلد نمبر ۹۸، صفحہ نمبر ۱، باب اول، أن زيارته صلوات الله عليه واجبة مفترضة مأمور بها و ما ورد من الذم و التأنيب و التوعد على تركها و أنها لا تترك للخوف. ۷۔ نوری، محدث، مرزا حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، ۱۸ جلدیں، موسسہ آل البیت علیہم السلام، بیروت لبنان، پہلا ایڈیشن، ۱۴۰۸، جلد نمبر ۱۰، صفحہ نمبر ۲۲۸ بَابُ تَأَكُّدِ اسْتِحْبَابِ زِيَارَةِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع وَ وُجُوبِهَا كِفَايَةً. ۸۔ کشف الغمہ، مصنف: ابن ابی الفتح الابئی، جلد نمبر ۲، صفحہ نمبر ۲۵۱: قال الشيخ المفيد في إرشاده ... وقد جاءت روايات كثيرة في فضل زيارته بل في وجوبها فروى عن الصادق جعفر بن محمد عليهما السلام أنه قال زيارة الحسين بن على عليهما السلام واجبة على كل من يقر للحسين عليه السلام بالإمامة من الله عز وجل وقال عليه السلام زيارة الحسين تعدل مائة حجة مبرورة ومائة عمرة متقبلة وقال رسول الله صلى الله عليه وآله من زار الحسين عليه السلام بعد موته فله الجنة والأخبار في هذا الباب كثيرة وقد أوردنا منها جملة كافية في كتابنا المعروف بمناسك المزار انتهى كلامه. ۹۔ مثال کے لئے دیکھئے: قمی، عباس، سفینة البحار و مدینة الحکم و الآثار مع تطبیق النصوص الواردة فیها علی بحار الأنوار، اسوہ ۱۴۱۴، جلد نمبر ۳، صفحہ نمبر ۵۲۲؛ اور تبریزی خیابانی، علی؛ وقایع الأیام فی تتمة محرم الحرام؛ غرفة الإسلام، جلد نمبر ۲، صفحہ نمبر ۲۳۰ ۱۰۔ ثم اعلم: أن ظاهر أكثر أخبار هذا الباب وكثير من أخبار الأبواب الآتية وجوب زيارته صلوات الله عليه بل كونها من أعظم الفرايض وآكدها، ولا يبعد القول بوجوبها في العمر مرة مع القدرة، وإليه كان يميل الوالد العلامة نور الله ضريحه، وسيأتي التفصيل في حدها للقريب والبعيد، ولا يبعد القول به أيضا والله يعلم. کتاب کا نام: العلامہ المجلسی، بحار الاونار، طبع دار الاحیاإ التراث، جلد نمبر ۹۸، صفحہ نمبر ۱۰ ۱۱۔ مولف کہتا ہے کہ اکثر سابقہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت واجب ہو لیکن علماء کے درمیان مشہور یہ ہے کہ یہ ایک سنت موکد ہو اور احادیث کی روشنی میں زندگی میں ایک بار امام حسین علیہ السلام کی زیارت واجب ہونا قوی ہے اور اگر کوئی شیعہ ان تاکیدات اور تہدیدات سے مطلع ہو اور اس کے باوجود اسے پورے وجود اور شدت سے رد کرے تو یہ بات اس کے ایمان کے کمزور ہونے پر دلالت کرتی ہے؛ مجلسی، محمد باقر، تحفہ الزائر؛ پیام امام ہادی (علیہ السلام)، قم، ۱۳۹۱، صفحہ نمبر ۲۲۱ اور ۲۲۲ ۱۲۔ ایضا، صفحہ نمبر ۲۲۶ ۱۳۔ اصفہانی، مجلسی اول، محمد تقی، روضہ المتقین فی شرح من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۳ جلدیں، موسسہ فرہنگی اسلامی کوشانبور، قم، ایران، دوسرا ایڈیشن، ۱۴۰۶ ہجری قمری، جلد نمبر ۵، صفحہ نمبر ۳۷۶: و أما أخبار ثواب زيارة الحسين صلوات الله و سلامه عليه، فأكثر من أن تحصى و لشهرتها لم يذكر منها إلا قليل، بل يظهر من الأخبار الكثيرة وجوب زيارته عليه السلام و لهذا قال به جماعة من أصحابنا، بل ذهب طائفة إلى وجوب زيارة كل واحد من الأئمة عليهم السلام و لو مرة في جميع العمر، لما تقدم في الصحيح أن لكل إمام عهدا في في عنق أوليائه. ۱۴۔ دیکھئے: تعلیقہ نمبر ۱۱ ۱۵۔ بحرانی، آل عصفور، حسین بن محمد ، سداد العباد و رشاد العباد، در یک جلد، کتابفروشی محلاتی، قم، ایران، پہلا ایڈیشن، ۱۴۲۱، صفحہ نمبر ۴۰۴؛ و تجب زيارة الحسين عليه السّلام على الرجال و النساء من القادرين على ذلك للتعبير في جملة من المعتبرة و غيرها بأنه فريضة واجبة على الرجال و النساء، و من لم يقدر على ذلك فليجهز غيره، و المشهور بين أصحابنا الاستحباب المؤكد، و منهم من جمع بالواجب الكفائي كمحدث الوسائل، و ما زاد على المرّة الواحدة فهو من السنن المندوبة. ۱۶۔ روضہ المتقین، ایضا۔ ۱۷۔ اس کا پتہ تعلیقہ نمبر ۱۰ میں دیا گیا ہے۔ ۱۸۔ رحمانی، محمد؛ عاشورا کا سایسی پہلو اور احیاء، فقہ کی رو سے، حکومت اسلامی، بہار ۱۳۸۲، شمارہ نمبر ۲۷، صفحہ نمبر ۱۹۵ سے ۲۳۴ ۱۹۔ ایضا ۲۰۔ ایضا ۲۱۔ رجوع کریں: نجفی، صاحب الجواہر، محمد حسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، ۴۳ جلدیں، دار احیاإ التراث العربی، بیروت لبنان، ساتواں ایڈیشن، ۱۴۰۴، جلد نمبر ۲۰، صفحہ نمبر ۵۳؛ حلی، محقق، نجم الدین، جعفر بن حسن، شرائع الاسلام فی مسائل الحلال والحرام، چار جلدیں، موسسہ اسماعیلیان، قم، ایران، دوسرا ایڈیشن، ۱۴۰۸، جلد نمبر ۱، صفحہ ۲۵۲؛ العاملی، السید محمد الموسوی، مدارک الاکام، جلد نمبر ۸، صفحہ نمبر ۲۶۰؛ اسی طرح دیکھیے: الشیخ الطوسی فی المبسوط، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۳۸۵؛ النہایہ، صفحہ نمبر ۲۸۵؛ اور الشہید فی الدروس، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۴۷۳۔ قال الشهيد الثاني: هكذا ذكره الشيخ (رحمه اللّه)، و تبعه عليه أكثر المتأخرين: عاملى، شهيد ثانى، زين الدين بن على، مسالك الأفهام إلى تنقيح شرائع الإسلام۔ ۱۵ جلدیں، موسسہ المعارف الاسلامیہ، قم، ایران، پہلا ایڈیشن، ۱۴۱۳، جلد نمبر ۲، صفحہ نمبر ۳۷۳؛ شاہرودی، سید محمود بن علی حسینی، کتاب الحج (للشاہرودی)، جلد نمبر ۵، موسسہ انصاریان، قم، ایران، اول، ۱۴۰۲، جلد نمبر ۵، صفحہ نمبر ۱۲۸ سے ۱۳۰ تک ۲۲۔ عاملی، شہید ثانی، زین الدین بن علی، حاشیہ شرائع السلام، ایک جلد، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، قم، ایران، پہلا ایڈیشن، ۱۴۲۲، صفحہ نمبر ۲۷۷ ۲۳۔ رحمانی، ایضا ۲۴۔ رجوع کریں: سبزواری، سید عبدالاعلی، مہذب الاحکام (للسبزواری)، ۳۰ جلدیں، موسسہ المنار، دفتر حضرت اایت اللہ، قم، ایران، چوتھا ایڈیشن، ۱۴۱۳، جلد نمبر ۱۵، صفحہ نمبر ۶۸ ۲۵۔ ایضا ۲۶۔ عراقی، آقا ضیاإ الدین، علی کزازی، شرح تبصرہ المتعلمین، ۵ جلدیں، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، قم، ایران، پہلا ایڈیشن، ۱۴۱۴، جلد نمبر ۳، صفحہ نمبر ۴۴۳ و يمكن حمل النواهي على الحرمة الاقتضائية، و الرخصة على صرف الرخصة لمحض مصلحة التسهيل، نظير باب السواك، بل و زيارة الحسين عليه السّلام مع ما فيه من المصلحة العظيمة فوق سائر المصالح الملزمة. ۲۷۔ آملی، مرزا محمد تقی، مصباح الہدی فی شرح العروذ الوثقی، جلد نمبر ۱۲، مولف: تہران، ایران، پہلا ایڈیشن، ۱۳۸۰، جلد نمبر ۱۲، صفحہ نمبر ۲۵: ان مبنى القول بعدم الاجزاء على تقدير استحباب الاستنابة هو دعوى عدم اجزاء الندب عن الواجب و لعل وجهه نقصان ملاكه عن ملاك الواجب، و هو ممنوع، لإمكان كون ملاكه أشد من ملاك الواجب و انما جاء الترخيص في تركه لمصلحة فيه و لا يبعد ان تكون زيارة الحسين (ع) من هذا القبيل. مصباح الهدى في شرح العروة الوثقى نویسنده : الشيخ محمد تقى الاملي، جلد نمبر ۸، صفحہ نمبر ۲۳۸: مقتضى ما ذكرناه في الأمر الثاني أفضلية السفر لزيارة الحسين عليه السّلام عن الإقامة و الصوم، لأنه إذا كان تشييع المؤمن أو توديعه أو المرافقة مع أخ له في السفر أو لحاجة الحج و العمرة موجبا لافضلية السفر فكيف لا يكون لزيارة الحسين التي هي أفضل من الحج و العمرة ألف ألف مرة، و يكون فيها ملاك الوجوب و قد ارتفع وجوبها رأفة على المكلفين لكونه صلوات اللّه عليه باب الرحمة و شاء اللّه تعالى ان لا يرد من ناحيته ضيق على عبادة و وجوب زيارته عليه السّلام ضيق عليهم ارتفع عنهم ببركته لأنه رحمه اللّه الواسعة مع ما ورد من الترغيب و التأكيد. ۲۸۔ مطہری، مرتضی، اسلام اور زمانے کے تقاضئے، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۳۱ ااور ۳۲ ۲۹۔ رجوع کریں: الشیخ محمد السند؛ التوحيد في المشهد الحسيني و انعكاسه على خارطة مسؤوليات العصرالراهن، جلد نمبر ایک، صفھات نمبر ۴۰۶، ۴۰۴، ۳۸۷، ۴۵۷ اور ۴۵۱؛ الشیخ محمد السند، بحوث في القواعد الفقهية، جلد نمبر ۳، صفحہ نمبر ۳۸۹ اور ۳۹۰ ۳۰۔ دیکھئے: بحوث في القواعد الفقهية، مصنف: الشیخ محمد السند، جلد نمبر ۳، صفحہ نمبر ۳۶۹، منقول از: الشیخ خجر شلال فی کتاب ابواب الجنان، صفحات نمبر ۲۵۹ سے ۲۶۱ تک ۳۱۔ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِنَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ:رَجَعْتُ مِنْ مَكَّةَ فَأَتَيْتُ أَبَا الْحَسَنِ مُوسَى ع فِي الْمَسْجِدِ وَ هُوَ قَاعِدٌ فِيمَا بَيْنَ الْقَبْرِ وَ الْمِنْبَرِ فَقُلْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ إِنِّي إِذَا خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ رُبَّمَا قَالَ لِيَ الرَّجُلُ طُفْ عَنِّي أُسْبُوعاً وَ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ فَرُبَّمَا شُغِلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَإِذَا رَجَعْتُ لَمْ أَدْرِ مَا أَقُولُ لَهُ قَالَ إِذَا أَتَيْتَ مَكَّةَ فَقَضَيْتَ نُسُكَكَ فَطُفْ أُسْبُوعاً وَ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ وَ قُلِ- اللَّهُمَّ هَذَا الطَّوَافُ وَ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ عَنْ أَبِي وَ أُمِّي وَ عَنْ زَوْجَتِي وَ عَنْ وُلْدِي وَ عَنْ حَامَّتِي وَ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِ بَلَدِي حُرِّهِمْ وَ عَبْدِهِمْ وَ أَبْيَضِهِمْ وَ أَسْوَدِهِمْ فَلَا تَشَاءُ أَنْ تَقُولَ لِلرَّجُلِ إِنِّي قَدْ طُفْتُ عَنْكَ وَ صَلَّيْتُ عَنْكَ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا كُنْتَ صَادِقاً فَإِذَا أَتَيْتَ قَبْرَ النَّبِيِّ ص‌فَقَضَيْتَ مَا يَجِبُ عَلَيْكَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قِفْ عِنْدَ رَأْسِ النَّبِيِّ ص ثُمَّ قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مِنْ أَبِي وَ أُمِّي وَ زَوْجَتِي وَ وُلْدِي وَ حَامَّتِي وَ مِنْ جَمِيعِ أَهْلِ بَلَدِي حُرِّهِمْ وَ عَبْدِهِمْ وَ أَبْيَضِهِمْ وَ أَسْوَدِهِمْ فَلَا تَشَاءُ أَنْ تَقُولَ لِلرَّجُلِ إِنِّي قَدْ أَقْرَأْتُ- رَسُولَ اللَّهِ ص عَنْكَ السَّلَامَ إِلَّا كُنْتَ صَادِقاً. قال المجلسي: قوله عليه السلام: ما يجب عليك‌ ظاهره وجوب زيارته صلى الله عليه و آله، و حمل على الاستحباب المؤكد. العلامة المجلسی؛ ملاذ الأخيار في فهم تهذيب الأخبار، جلد نمبر ۹، صفحہ نمبر ۲۹۳ ۳۲۔ دیکھئے: مالکی حسنی، محمد؛ زیارت پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدعت یا عبادت، ناشر: مشعر، تیران، ۱۳۹۰، صفحہ نمبر ۱۳۲ کے بعد۔ ------------------------- www.abp-miftah.com


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے