سوال کا متن:

حضرت رسول کریم ص کی کتنی بیٹیاں تھی بیان فرمائیں کہ جو بیٹیاں آپ صلی سے منسوب کی جاتی ہیں وہ کون تھیں اور تاریخ دانوں کو یہ اشتبہ کیوں ہوا.؟


وزیٹر کی تعداد: 31    گروپ کاری: پیامبر اسلام (ص)         
جواب:

جناب سید محسن عباس السلام علیکم۔ ہم مجمع جہانی اہلبیت علیہم السلام پر آپ کے اعتماد کے لیے  شکرگزار ہیں۔ ہم آپ کے سوالات کے جوابات ترتیب وار دیتے ہیں:

آپ کے پہلے اور دوسرے سوالات کے جوابات: یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کتنی بیٹیاں تھیں؟ اور کن بیٹیوں کو آپ سے نسبت دی جاتی ہیں؟ تاریخ اسلام کے محدثین اور محققین کی نظر میں جو بات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی  اللہ علیہ آلہ وسلم کی پہلی زوجہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ہیں اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سے اولادیں تھیں اور ابراہیم نامی ایک بیٹا ماریہ قبطیہ سے تھا اور باقی بیویوں سے کوئی اولاد نہ تھی۔ تاہم حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولادوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سات اولادوں کا ذکر کیا ہے، یعنی تین بیٹے جن کے نام عبدمناف، قاسم اور عبداللہ تھے (بعض روایات میں عبداللہ کے  القاب طیب و طاہر ذکر ہوئے ہیں) اور چار بیٹیاں یعنی ام کلثوم، زینب، رقیہ اور حضرت فاطمہ  سلام اللہ علیہا۔ (۱)

تاہم بعض دیگر مورخین نے لکھا ہے کہ: حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے صرف دو بیٹے یعنی قاسم اور عبداللہ (جس کے القاب طیب و طاہر تھے) اور ایک بیٹی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا تھیں۔ رقیہ اور زینب حضرت خدیجہ کی بیٹیاں نہیں تھیں بلکہ ان کی بہن یعنی "ہالہ" کی بیٹیاں تھیں۔ ان مورخین نے کہا ہے: "حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی ایک بہن تھی جس کا نام "ہالہ" تھا۔ ہالہ کا شوہر اور "ہند" نامی ایک بیٹا تھا اور اس کے شوہر کو "ابوہند" کہہ کر بلاتے تھے۔ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں جن کے نام بالترتیب رقیہ اور زینب تھے۔ ہالہ فوت ہوئی تو اس کی بچیاں ابھی چھوٹی تھیں، اس لیے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا انہیں اپنے گھر لائیں اور ان کی پرورش کی۔ ان لڑکیوں کو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سے نسبت دی گئی، کیونکہ عربوں میں رسم تھی کہ بچوں کو ان کے سرپرستوں سے  نسبت دی جاتی تھی۔ ہند کو بھی خدیجہ سے نسبت دی گئی کیونکہ خدیجہ ایک مشہور اور مالدار خاتون تھیں اور ان سے نسبت دینا بچوں کے فائدے میں تھا۔ (۲)

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رقیہ، زینب اور ام کلثوم – جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منہ بولی اور دراصل حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی بیٹیاں تھیں – کے علاوہ انہی ناموں سے پیغمبر کی اپنی بیٹیاں بھی تھیں جو حضرت خدیجہ کی اولاد تھیں اور عثمان بن عفان نے جس رقیہ اور جس ام کلثوم سے شادی کی، وہ ہالہ کی بیٹیاں اور پیغمبر کی منہ بولی بیٹیاں تھیں، ان کی سگی بیٹیاں نہیں۔ اسی لیے پیغمبر کی حیات، نیز پہلے اور دوسرے خلیفے کے دور حکومت میں کبھی کسی نے عثمان کو پیغمبر کا داماد نہیں کہا۔ یہ نام بعد میں اموی سیاست بازوں نے  رکھا۔ اس نظریے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو شیعہ اور سنی دونوں نے پیغمبر مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے امیر المومنین علیہ السلام سے فرمایا: خدا نے آپ کو تین امتیازی اور افتخاری خصوصیات ایسی عطا کی ہیں جو کسی اور کو – یہاں تک کہ مجھے بھی – عطا نہیں کی: (يَا عَلِيُّ إِنَّكَ أُعْطِيتَ ثَلَاثاً لَمْ يُعْطَهَا أَحَدٌ مِنْ قَبْلِكَ قُلْتُ فِدَاكَ أَبِي وَ أُمِّي وَ مَا أُعْطِيتُ قَالَ أُعْطِيتَ صِهْراً مِثْلِي...) (۳)۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: یا علی تمہیں تین چیزیں ایسی عطا ہوئی ہیں جو تم سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئیں۔ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، وہ تین چیزیں کیا ہیں جو مجھے عطا ہوئی ہیں اور میرے علاوہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئیں؟ فرمایا: تمہیں مجھ جیسا خسر ملا ہے جو تمہارے علاوہ کسی اور کو نہیں ملا۔۔۔ یہی حدیث ’’ يا علي، أوتيت ثلاثاً لم يؤتهن أحد ولا أنا: أوتيت صهراً مثلي، ولم أوت أنا مثلي‘‘ کی عبارت کے ساتھ اہل سنت کی بہت سی کتابوں میں بھی ملتی ہے (۴) اسی طرح وہ حدیث بھی ہے جو اہل سنت کی کتابوں نے حضرت ابوذر غفاری سے اور انہوں نے رسول اللہ (ص) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: ’’ انّ الله تعالی اطلع الی الارض اطلاعه من عرشه فاختارنی و اختار علیا لی صهرا‘‘ (۵) خداوند عالم نے عرش نے کائنات پر ایک نگاہ ڈالی اور تمام خلائق میں سے مجھے (نبوت اور رسالت کے لیے) چنا اور علی (ع) کو میرا داماد بنایا۔ اسی لیے اگر عثمان بھی رسول اللہ (ص) کا داماد ہوتا تو پھر یہ اور اس جیسی دیگر روایات جو عبداللہ بن عمر اور اسماء بنت عمیس سے روایت کی گئی ہیں، درست نہیں ہونی چاہیے تھیں۔ اسی لیے بعض محققین کہتے ہیں کہ: ’’وہ رقیہ جس کی شادی رسول اللہ (ص) نے عثمان سے کی، آپ (ص) کی اپنی بیٹی نہیں بلکہ آپ کی ’’ربیبہ‘‘ بلکہ’’ہالہ‘‘ کی بیٹی تھی۔ جبکہ پیغمبر (ص) کی اپنی بیٹی رقیہ آپ (ص) کی بعثت کے بعد پیدا ہوئی۔ اسی طرح ام کلثوم بھی پیغمبر (ص) کی اپنی بیٹی نہیں تھی بلکہ آپ کی ربیبہ تھی اور پیغمبر (ص) کی سگی بیٹی ام کلثوم آپ کی نبوت کے بعد پیدا ہوئی۔ (۶)

علامہ سید جعفر مرتضی (رہ) نے اپنی دو کتب یعنی ’’بنات النبی ام ربائبہ‘‘ اور ’’الصحیح من یسرہ النبی‘‘ میں متعدد دلیلوں سے ثابت کیا ہے کہ ’’زینب اور رقیہ ہالہ کی بیٹیاں اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی بھانجیاں تھیں۔‘‘ (۷)

اسی طرح ابن شہر آشوب بھی المناقب میں لکھتے ہیں: ’’احمد بلاذری اور ابوالقاسم کوفی نے اپنی کتب میں اور سید مرتضی نے کتاب شافی میں نیز شیخ ابوجعفر طوسی نے کتاب تلخیص میں روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ (ص) نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سے شادی کی تو یہ محترمہ خاتون باکرہ تھیں۔‘ اس کے بعد لکھتے ہیں: اس بات کی تائید وہ بات ہے جو ’’الانوار و البدع‘‘ جیسی کتب میں روایت ہوئی ہے کہ ’’رقیہ اور زینب دراصل ہالہ کی بیٹیاں، حضرت خدیجہ کی بھانجیاں اور آنحضرت (ص) کی ربیبہ تھیں اور ان کی سگی بیٹیاں نہ تھیں۔‘‘ (۸)

 

تیسرے سوال کا جواب: یہ اختلاف اصل میں وہاں سے شروع ہوا کہ اہل سنت کے مورخین، محدثین اور بزرگان میں سے کئی لوگوں کو یہ گوارا نہیں تھا کہ پیغمبر (ص) کی بیویوں میں کسی کو بھی عائشہ سے افضل اور برتر بتایا جائے۔ اسی لیے انہوں نے خود ہی عائشہ کی فضیلت میں حدیثیں گڑھنا شروع کردیا یا پھر کچھ جعلی روایات اور باطل استدلالات کے ایک حصے سے تمسک کیا تاکہ اس طرح اپنا مدعا ثابت کرسکیں۔ اسی لیے کہا کہ: ’’عائشہ پیغمبر (ص) کی واحد باکرہ بیوی تھی جبکہ خدیجہ چالیس سالہ بیوہ خاتون تھیں جنہوں نے پیغمبر (ص) سے قبل دو بار مشرکوں سے شادی کی تھیں اور ان سے ان کی اولاد بھی تھی۔‘‘ اور کبھی کبھار امیرالمؤمنین علیہ السلام پر وار کرنے کے لیے متناقض باتیں کی ہیں اور کہا ہے: ’’اگر پیغمبر (ص) کا داماد ہونا فضیلت کی بات ہوتی تو علی (ع) ہی پیغمبر (ص) کے داماد نہیں تھے، عثمان کو بھی یہ فضیلت حاصل تھی۔ اگر علی (ع) نے پیغمبر (ص) کی ایک بیٹی (س) سے شادی کی تھی تو پیغمبر (ص) نے  اپنی دو بیٹیاں عثمان سے بیاہی تھیں۔‘‘ پھر اس بات کا لازمہ یہ تھا کہ وہ حضرت خدیجہ (س) کی منہ بولی بیٹیوں کو ان کی اور رسول اللہ (ص) کی سگی بیٹیاں بتائیں۔ اس لیے اس قبیل کی زیادہ تر باتیں، سیاسی منصوبے بنانے والوں نے اپنی طرف سے گڑھی ہیں تاکہ اس طرح اس خاتون کی پاکیزگی اور تقدیس پر سوال اٹھا سکیں، جس کی بچہ دانی کو خداوند عالم نے کوثر قرآن یعنی حضرت فاطمہ (س) کے وجود کا ظرف قرار دیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے درج ذیل کتابوں سے رجوع کریں:

-      الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم (ص)؛

-      و کتاب ’’بنات النبی ام ربائبہ‘‘۔ یہ دونوں کتابیں علامہ سید جعفر مرتضی کی ہیں۔

-      تاریخ تحلیل اسلام، تالیف: حسین علی عربی

ہمسر آفتاب، مصنفین کے ایک گروہ کی تالیف


منابع اور مآخذ:

۱۔ مقدسی (مورخ اور مصنف)، البدء و التاریخ، ناشر: مکتبہ الثقافہ الدینیہ، جلد نمبر ۵، صفحہ نمبر ۱۶؛ اور جلد نمبر ۴، صفحہ نمبر ۱۳۹ ۲۔ ایضاً، اور ابن شہر آشوب، المناقت، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۱۳۸ ۳۔ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا (ع)، ناشر: تہران، نشر جہان، ۱۳۷۸، جلد نمبر ۲، صفحہ نمبر ۴۸ ۴۔ محب الدین طبری، الریاض النضرہ، ناشر: بیروت، دار الکتب العلمیہم جلد نمبر ۳، صفحہ نمبر ۱۷۲؛ شیخ محمد زرندی حنفی، متوفی: ۷۵۹، نظم درر السمطین، پہلا ایڈیشن، ۱۳۷۷ ہجری قمری، صفحہ نمبر ۱۱۳؛ معارج الوصول، صفحہ نمبر ۴۷ ۵۔ قندوزی حنفی، ینابع المودہ، جلد نمبر ۲، صفحہ نمبر ۳۰۴ ۶۔ سید جعفر مرتضی، بنات النبی ام ربائبہ، صفحات نمبر ۹۹ اور ۱۰۰ ۷۔ سید جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرہ النبی الاعظم، ناشر: قم، موسسہ علمی فرہنگی دارالحدیث، جلد نمبر ۲، صفحات نمبر ۲۰۸ سے ۲۱۶ تک؛ و بنات النبی ام ربائبہ، ناشر: مرکز الجواد للصف، پہلا ایڈیشن، ۱۴۱۳ ہجری، الفصل الثانی، النقد فی بدایاتہ،صفحات نمبر ۲۸ سے ۴۰ تک ۸۔ ابن شہر آشوب، المناقب، جلد نمبر ۱، صفحہ نمبر ۱۳۸ ----------------------- www.abp-miftah.com


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے