سوال کا متن:

کیا عصر حاضر میں امام زمانہ عج کی بیعت کرنا واجب ہے اور اگر واجب ہے تو اس کا کیا طریقہ ہے؟!


وزیٹر کی تعداد: 22    گروپ کاری: امام زمانہ (ع) کا انتظار         
جواب:

السلام علیکم

مجمع جہانی اہل بیتؑ پر آپ کے اعتماد کا شکریہ!

اس روایت کی بنا پر جو مسلمانوں کے تمام فرقوں اور مذاہب نے نبی کریمؐ سے روایت کی ہے: ہر زمانے میں امام کی شناخت واجب اور ضروری ہے اور اگر کوئی مسلمان اپنے امام وقت کی شناخت کے بغیر اس دنیا سے چلا جائے تو وہ حالت اسلام میں دنیا سے نہیں گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا: "مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّة"(1)

جو مر جائے اور اپنے امام وقت کی معرفت حاصل نہ کرے تو اس کی موت جاہلیت والی ہے۔

واضح ہے کہ امام کی شناخت؛ مودت، محبت اور اطاعت کے ہمراہ ہے، جیسا کہ آیت شریفہ میں ہے: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُوني...(2)

کہہ دو: اگر خدا سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔۔۔ ۔

بیعت لغت میں بیع سے ہے۔ بیع کا معنی ہے فروخت کرنا اور بیع کے مقابلے میں شرا ہے جس کا معنی ہے خریدنا۔

بیعت سے مراد ہے اطاعت کا عہد کرنا اور اس کیلئے پکا پیمان باندھنا، اس اطاعت کا خاصہ یہ ہے کہ عہد اور بیعت کرنے والا شخص اپنی جان، مال، آبرو اور حیثت کو اپنے امام کی اطاعت اور اس کی رضامندی کو جلب کرنے کے راستے میں (بیچنے یا) پیش کرنے کا اعلان کرتا ہے، جیسا کہ ہم زیارت جامعہ کبیرہ میں امامؑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ...وَقَلْبِي لِقَلْبِكُمْ سِلْمٌ وَأَمْرِي لِأَمْرِكُمْ مُتَّبِعٌ وَنُصْرَتِي لَكُمْ...

میرا دل آپ کے دل کے سامنے تسلیم ہے اور میرا عمل آپ کے عمل کا پیرو ہے اور میں آپ کی نصرت پر آمادہ ہوں۔۔۔ اسی طرح یہ اعلان کرتے ہیں: مُنْتَظِرٌ لِامْرِكُمْ، مُرْتَقِبٌ لِدَوْلَتِكُمْ، آخِذٌ بِقَوْلِكُمْ، عامِلٌ بِامْرِكُمْ ... وَمُقَدِّمُكُمْ امامَ طَلِبَتى‏ وَحَوآئِجى‏ وَارادَتى‏ فى‏ كُلِّ احْوالى‏ وَامُورى...،

یعنی میں آپ کے ظہور اور حاکمیت کا منتظر ہوں، آپ کے فرمان پر سر تسلیم خم کرتا ہوں، آپ کے حکم پر عمل کرتا ہوں۔۔۔ ہر قسم کے حالات اور تمام امور میں اپنی ضروریات، حاجات اور ارادوں پر آپ کو مقدم رکھتا ہوں۔

اس بنا پر امامؑ کی معرفت و شناخت اور اس کی بیعت اور اس کی اطاعت کا عہد ایک واجب امر ہے۔ اس بیعت، اظہار اطاعت اور وفاداری کا اہل تشیع روزانہ نماز فجر کے بعد حضرتؑ کی زیارت اللَّهُمَّ بَلِّغْ مَوْلَايَ صَاحِبَ الزَّمَانِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ... پڑھ کر خدا کے سامنے اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اللَّهُمَّ  إِنِّي أُجَدِّدُ لَهُ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَفِي كُلِّ يَوْمٍ عَهْداً وَعَقْداً وَبَيْعَةً  فِي رَقَبَتِی.. (3)

اے معبود: میں تازہ کرتا ہوں آج کے دن میں اور ہر دن میں یہ پیمان یہ معاہدہ اور بیعت جو میری گردن پر ہے۔۔۔ ۔

 اسی طرح دعائے عہد پڑھ کر روزانہ حضرتؑ کے ساتھ اپنے عہد اور بیعت کی تجدید کرتے ہیں اور اس دعا کے ایک اقتباس میں خدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں: اللَّهُمَّ إِنِّي أُجَدِّدُ لَهُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِی هَذَا وَمَا عِشْتُ مِن أَيَّامِي عَهْداً وَعَقْداً وَبَيْعَةً لَهُ فِي عُنُقِي لَا أَحُولُ عَنْهَا وَلَا أَزُوُل‏ أَبَداً ... .

اے معبود! میں ان کے لیے اس دن اور جتنے دن زندہ رہوں گا؛ کی صبح میں اس عہد، معاہدے اور بیعت کو تازہ کرتا ہوں؛ جو میری گردن پر ہے نہ اس سے مکروں گا اور نہ اسے کبھی ترک کروں گا۔

عملی اور قلبی بیعت

امام زمانہؑ کی صرف لفطی اور زبانی بیعت کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ
اولا: اس کا صدور معرفت و ایمان اور قلب کی گہرائی سے ہو۔

ثانیا: عملی میدان میں اس کے اثرات نمودار ہوں۔ یعنی ہر وہ چیز جو حضرتؑ کی خوشنودی اور رضامندی کے اسباب فراہم کرے؛ اسے انجام دے اور ہر گناہ اور قبیح عمل جو حضرتؑ کی ناراضگی کا موجب بنے؛ اس سے اجتناب کرے۔

امام معصومؑ خدا کی حجت ہے اور خدا کی طرف سے ہر جن و انس پر ولایت رکھتے ہیں۔ اس بنا پر ہر اس چیز کو انجام دینا جسے خدا نے حرام کیا ہے یا ہر اس چیز کو ترک کرنا کہ جسے خدا نے واجب کیا ہے؛ حضرتؑ کی ناراضگی کا موجب ہے؛ دوسرے لفظوں میں محرمات کو ترک کرنا اور واجبات کو انجام دینا؛ حضرتؑ کی خوشنودی کا موجب ہے۔ بنیادی طور پر معصومینؑ کی بیعت کا معنی بھی یہی ہے جیسا کہ حضرتؑ کی ایک زیارت جو نماز فجر کے بعد پڑھی جاتی ہے؛ میں ہم کہتے ہیں:

" وَاجْعَلْنِي مِنْ أَنْصَارِهِ وَأَشْيَاعِهِ وَالذَّابِّينَ عَنْهُ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُسْتَشْهَدِينَ بَيْنَ يَدَيْهِ طَائِعاً غَيْرَ مُكْرَهٍ فِي الصَّفِّ الَّذِي نَعَتَّ أَهْلَهُ فِي كِتَابِكَ فَقُلْتَ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوصٌ عَلَى طَاعَتِكَ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ وَآلِهِ".

خداوندا! مجھے حضرت کے ناصرین، تابعین اور مدافعین میں سے قرار دے اور ان لوگوں میں سے قرار دے جنہوں نے اپنے میل و رغبت کے ساتھ جہاد میں شرکت کی اور ان کے سامنے مقام شہادت پر فائز ہوئے اور مجھے اپنی، اپنے رسول اور ان کے اہل بیتؑ کی اطاعت میں ان مجاہدین کی صف میں قرار دے کہ جن کی توصیف میں قرآن نے فرمایا ہے: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذينَ يُقاتِلُونَ في‏ سَبيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوص(4)

پھر اس زیارت کے اختتام پر امام زمانہؑ کی بیعت کے مفہوم اور اس کی وسعت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: اللَّهُمَّ هَذِهِ بَيْعَةٌ لَهُ فِي عُنُقِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ،

خدایا! امام زمانہؑ کی (ان خصوصیات کے ساتھ) یہ بیعت میری گردن پر تا قیامت باقی ہے۔


منابع اور مآخذ:

1- شیخ حر عاملی ، وسائل الشیعه ، ج 16 ، ص 246 2- آل عمران ، آیه 31۔ 3- یہ زیارت حاج شیخ عباس قمی کی کتاب ’’مفاتیح الجنان‘‘ میں دعائے ندبہ کے بعد ذکر ہوئی ہے اور اس زیارت کے بعد دعائے عہد وارد ہوئی ہے۔ 4- سورہ صف،آیت:4؛ یعنی خدا ان مومنین کہ جو اس کی راہ میں کافروں کے ساتھ جہاد کی صف میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح ثابت قدم رہتے ہیں؛ کو پسند کرتا ہے۔ ------------- www.abp-miftah.com


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے