سوال کا متن:

پيغمبر اسلام کا بعض صحابہ کي بري عاقبت کے متعلق خبر دينا کس طرح تھا؟


وزیٹر کی تعداد: 179    گروپ کاری: غیب کا مسئلہ اور انبیاء         
جواب:

ابو ہريرہ نے نقل کيا ہے کہ ہم جنگ خيبر ميں موجود تھے،پيغمبر اسلام (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) نے ايک شخص اور اس کے ساتھيوں سے جو کہ مسلمان ہونے کا دعويٰ کرتے تھے، فرمايا:"وہ اہل دوزخ ميں سے ہيں"۔ جب جنگ شروع ہوئي تو اس شخص نے بڑي شدّت کے ساتھ جنگ کي اور بہت سے زخم کھائے، يہاں تک کہ بعض لوگ شک ميں پڑ گئے۔ اس کے بعد وہ چوٹوں کي وجہ سے بہت زيادہ رو رہا تھا لہذا اس نے اپنے تيردان سے ايک تير نکالا اور اس کے ذريعے خودکشي کرلي، مسلمانوں ميں سے بعض لوگ تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے يا رسول اللہ (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) آپ کا کہنا صحيح ثابت ہوا، فلاں شخص نے خودکشي کر ڈالي۔ پيغمبر اسلام(صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) نے فرمايا : اے فلاں شخص تم جاؤ اور اعلان کرو کہ مؤمن کے علاوہ کوئي بہشت ميں داخل نہيں ہو سکتا، خداوند عالم ہميشہ اپنے دين کي ايک فاجر شخص کے ذريعہ تائيد کرتا ہے(۱)۔(۲)۔


منابع اور مآخذ:

۱) صحيح بخاري : ج ۳ ص ۷۳، نمبر ۴۲۰۳ ۔ ۲) سيماي عقائد شيعہ، ص ۳۴۲ ۔ ------------------------------ ماخذ:www.makarem.ir


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے