سوال کا متن:

"اثقال" (بهاري بوجھ) سے کيا مراد ہے جس کے باہر نکلنے کو قيامت کي علامات ميں شمار کيا گيا ہے؟


وزیٹر کی تعداد: 367    گروپ کاری: قیامت         
جواب:

اس بارے ميں کہ "اثقال" (بهاري بوجھ) سے کيا مراد ہے، مفسرين نے متعدد تفسيريں بيان کي ہيں، بعض نے تو يہ کہا ہے کہ اس سے مراد انسان ہيں جو قيامت کے زلزلہ سے قبروں کے اندر سے باہر اچھل پڑيں گے، جيسا کہ سورہٴ انشقاق کي آيہ۴ ميں آيا ہے:﴿وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ﴾۔ اور بعض نے يہ کہا ہے کہ وہ اپنے اندروني خزانوں کو باہر پھينک دے گي۔ اور بے خبر دنيا پرستوں کے لئے حسرت (پچهتاوے) کا سبب بنے گي۔ يہ احتمال بھي ہے کہ اس سے مراد زمين کے اندر بہنے والے بھاري مواد کو باہر پھينکنا ہے جن کي کچھ مقدار عام طور پر آتش فشاني اور زلزلوں کے وقت باہر نکلتي ہے ۔ عالم کے خاتمہ پر جو کچھ زمين کے اندر ہے وہ اس عظيم زلزلہ کے بعد باہر آ جائے گا ۔ پہلي تفسير زيادہ مناسب نظر آتي ہے، اگر ان تفسيروں کے درميان جمع بھي بعيد نہيں ہے(۱)۔


منابع اور مآخذ:

1) تفسير نمونہ، جلد 27، صفحہ 245. ------------------------------ ماخذ: www.makarem.ir


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے