سوال کا متن:

﴿الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾کے بارے ميں امام حسن عسکري(ع) کي تفسير کيا ہے؟


وزیٹر کی تعداد: 268    گروپ کاری: آیات قرآن کی تفسیر         
جواب:

امام حسن عسکري(ع) کي تفسير، حضرت(ع) سے منسوب تفسير ہے کہ بعض علماء کئي وجوہات کي بنا پر اس انتساب کو قطعي اور حتمي نہيں جانتے ہيں۔ اس تفسير ميں، سورہ "فاتحہ الکتاب" (حمد)، سورہ "بقرہ" کي آيت نمبر282 تک روايي صورت ميں تفسير کي گئي ہے کہ قرآني علوم کي اصطلاح ميں اسے تفسير "ماثور" کہتے ہيں۔ بہرحال، امام حسن عسکري نے ﴿الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ کي تفسير ميں، خدا کي بے شمار نعمتوں کے لحاظ سے اس کي ستائش ،مخلوقات کي حمايت اور امام علي(ع) کي امامت و ولايت کو قبول کرنے کي وجہ سے شيعوں کي برتري کي طرف اشارہ کيا ہے اور فرمايا ہے کہ ان نعمتوں کے پيش نظر خداوندمتعال کي ستائش کرتے ہوئے کہنا چاہئيے: ﴿الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾۔ تفصيلي جواب: امام حسن عسکري(ع) کي تفسير، حضرت(ع) سے منسوب تفسير ہے کہ بعض علماء کئي وجوہات کي بنا پراس انتساب کو قطعي اور حتمي نہيں جانتے ہيں[1]۔ اس تفسير ميں، سورہ "فاتحہ الکتاب" (حمد)، سورہ "بقرہ" کي آيت نمبر282 تک روايي صورت ميں تفسير کي گئي ہے کہ قرآني علوم کي اصطلاح ميں اسے تفسير "ماثور" کہتے ہيں[2]۔ بہرحال ، آيہ ﴿الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ کےبارے ميں امام حسن عسکري (ع) کي تفسير کا خلاصہ حسب ذيل ہے: "الحمد للہ" يعني، خداوندمتعال نے جو نعمتيں اپنے بندوں کو عطا کي ہيں، ان ميں سے بعض کو اجمالي طور پر پہچنوايا ہے، اور يہ اس لحاظ سے ہے کہ خدا کے بندے تفصيلي صورت ميں ان سب نعمتوں کو پہچاننے کي طاقت نہيں رکھتے ہيں، کيونکہ اس کي نعمتيں بے شمار ہيں، اس ليے انہيں پہچانا نہيں جا سکتا ہے؛ اس لحاظ سے ان سے فرمايا ہے کہ کہو: "الحمد للہ"[3] اس کے بعد حضرت(ع) "رب العالمين"کي تفسير و توضيح ميں حسب ذيل نکات کي طرف اشارہ کرتے ہيں: ۱۔ پروردگارعالم، اپني تمام مخلوقات کو رزق عطا کرتا ہے، ان کي حمايت سے رکھوالي کرتا ہے، ان پر مسلط ہے، اپني مصلحت کي بنياد پر تدبير کرتا ہے، اور وہ حقيقت ميں اپنے بندوں کے حق ميں رئوف و رحيم ہے[4]۔ ۲۔ تمام مخلوقات کا رزق معلوم اور تقسيم شدہ ہے، انسان، دنيا ميں جس طريقے اور دين پر عمل کرنا چاہے اور جس حالت ميں بھي ہو، اسے رزق ملتا رہتا ہے۔ انسان اور اس کے رزق کے درميان ايک پردہ اور رکاوٹ ہے، جبکہ رزق اس کا طالب اور ڈھونڈنے والا ہے، يہاں تک کہ اگر کوئي اپنے رزق کي تلاش و کوشش ميں کوتاہي کرے تو خود رزق اس کي تلاش و کوشش کرتا ہے، جس طرح موت ، اس کے پيچھے آتي ہے[5]۔ ۳۔ شيعوں کو ان کو عطا کي گئي برتري اور فضيلت کے ليے خدا کا شکرگزار رہنا چاہئيے[6]۔ اس سلسلہ ميں خداوندمتعال نے حضرت موسيٰ(ع) سے مخاطب ہوکر، پيغمبراسلام(ص) کي دوسرے انبياء(ع) پر برتري اور امت پيغمبر(ص) کي دوسرے انبياء(ع) کي امتوں پر برتري کي توصيف کي ہے اور امت محمدي کي طرف مخاطب ہو کر فرماتا ہے: "اے امت محمد؛ يقين جاننا کہ، آپ پر ميري قضا (و قدر)، يوں ہے کہ ميري رحمت، غضب سے اور ميري عفو و بخشش، ميرے عذاب سے آگے ہے؛ پس،ميں، دعا کرنے سے پہلے تمہاري دعا کو قبول کرتا ہوں اور مجھ سے درخواست کرنے سے پہلے تمہيں عطا کرتا ہوں، اگر تم ميں سے کوئي "لا إله الّا اللَّه وحده لا شريک له و أنّ محمّدا عبده و رسوله‏" کي گواہي دے کر ميري ملاقات کے ليے آئے اور اپنے گفتار و کردار ميں سچا ہو؛ (يعني جو کچھ کہتا ہے اسے جانتا اور اس پر عمل کرتا ہے) اور گواہي دے کہ علي بن ابيطالب، محمد(ص) کے بھائي اور آپ (ص) کے بعد آپ(ص) کے وصي و ولي ہيں[7]، تو ميں اسے بہشت ميں داخل کروں گا۔[8]" ۴۔ پس ان تمام نعمتوں کي وجہ سے شکر و ثنا بجا لاتے ہوئے کہنا چاہيے: ﴿الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [9]


منابع اور مآخذ:

[1]. اس تفسير کي سند کي بحث کے بارے ميں آگاہي حاصل کرنے کے ليے ملاحظہ ہو: علوي مهر، حسين، آشنايي با تاريخ تفسير و مفسران، ص 191 - 198، نشر مرکزجهانى علوم اسلامى‏، قم، طبع اول، 1384ھ ش. [2]. ملاحظہ ہو: مؤدب‏، سيد رضا، روشهاي تفسير قرآن، ص 167 - 169، نشر اشراق، قم، طبع اول، 1380ھ ش. [3]. التفسير المنسوب إلى الإمام الحسن العسکري(ع)، ص 30، نشر مدرسه امام مهدى‏ (عج)، قم،طبع اول، 1409ھ.‏ [4]. ايضاً. [5]. ايضاً، ص 31. [6]. ايضاً. [7]. ضمير «وليّه» در عبارت «مَنْ لَقِيَنِي مِنْکُمْ بِشَهَادَةِ... أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخُوهُ- وَ وَصِيُّهُ مِنْ بَعْدِهِ وَ وَلِيُّه» ميں «مَن» بر کي ضمير «محمّد»؛ کي طرف پلٹتي ہے:اس لحاظ سے اس کے معني يہ ہيں: امام علي(ع) اس کے ولي ہيں جس نے انہيں پيغمبر(ص) کے بھائي اور وصي ہونے کي گواہي دي ہے۔. [8]. ايضاً، ص 33. [9]. ايضاً. ----------------------------- ماخذ: www.islamquest.net


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے