سوال کا متن:

"آيہ ولايت" کے پيش نظر امامت کے مسئلہ کو کيسے ثابت کيا جا سکتا ہے؟


وزیٹر کی تعداد: 355    گروپ کاری: امامت، قرآن میں         
جواب:

سورہ مائدہ کي آيت نمبر ۵۵ ميں ارشاد ہوا ہے: ﴿إِنَّمَا وَلِيُّکُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ﴾ "ايمان والو بس تمہارا ولي اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ايمان جو نماز قائم کرتے ہيں اور حالت رکوع ميں زکوٰة ديتے ہيں۔" عربي لغت ميں لفظ "إنما" انحصار کے لئے استعمال ہوتا ہے،اس بات کے پيش نظر قرآن مجيد نے مسلمانوں کي قيادت اور ولايت و سرپرستي کو صرف تين اشخاص ميں منحصر فرمايا ہے: "خدا،پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) اور وہ لوگ جو ايمان لاتے ہيں نماز قائم کرتے ہيں اور رکوع کي حالت ميں زکوٰة ديتے ہيں"۔ اس ميں کوئي شک و شبہہ نہيں ہے کہ"ولايت" سے مراد مسلمانوں کي آپس دوستي نہيں ہے کيونکہ مسلمانوں کي عام دوستي کے لئے قيد و شرط کي ضرورت نہيں ہے بلکہ تمام مسمان آپس ميں دوست اور بھائي بھائي ہيں اگر چہ رکوع کي حالت ميں کوئي زکوٰة بھي نہ دے۔ اس لئے يہاں پر "ولايت" وہي مادي و معنوي رہبري اور سرپرستي کے معني ميں ہے، بالاخص جب کہ يہ ولايت، خدا کي ولايت اور پيغمبر کي ولايت کے ساتھ واقع ہوئي ہے۔ يہ نکتہ بھي واضح ہے کہ مذکورہ آيت ميں ذکر شدہ اوصاف ايک مخصوص شخص سے مربوط ہيں، جس نے رکوع کي حالت ميں زکوٰة دي ہے، ورنہ يہ کوئي ضروري امر نہيں ہے کہ انسان نماز کے رکوع کي حالت ميں زکوٰة ادا کرے،حقيقت ميں يہ ايک نشاندہي ہے نہ توصيف۔ ان تمام قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا آيہ شريفہ حضرت علي(ع) کي ايک مشہور داستان کي طرف ايک پر معنيٰ اشارہ ہے کہ حضرت علي(ع) نماز کے رکوع ميں تھے، ايک حاجتمند نے مسجد نبوي ميں مدد کي درخواست کي۔ کسي نے اس کا مثبت جواب نہيں ديا۔ حضرت علي(ع) نے اسي حالت ميں اپنے دائيں ہاتھ کي چھوٹي انگلي سے اشارہ کيا۔ حاجتمند نزديک آ گيا۔ حضرت علي(ع) کے ہاتھ ميں موجود گراں قيمت انگوٹھي کو اتار کر لے گيا ۔ پيغمبر اسلام (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) نے اس واقعہ کا مشاہدہ فرمايا تو نماز کے بعد اپنے سر مبارک کو آسمان کي طرف بلند کر کے يوں دعا کي: "پروردگارا! ميرے بھائي موسي(ع) نے تجھ سے درخواست کي کہ ان کي روح کو کشادہ،کام کو آسان اور ان کي زبان کي لکنت کو دور فرما دے اور ان کے بھائي ہارون کو ان کا وزير اور مددگار بنا دے پروردگارا! ميں محمد، تيرا منتخب پيغمبر ہوں، ميرے سينہ کو کشادہ اور ميرے کام مجھ پر آسان فرما، ميرے خاندان ميں سے علي(ع) کو ميرا وزير قرار دے تاکہ اس کي مدد سے ميري کمر قوي اور مضبوط ہو جائے۔" ابھي پيغمبر اسلام (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) کي دعا ختم نہيں ہوئي تھي کہ مذکورہ بالا آيہ شريفہ کو لے کر جبرئيل امين نازل ہوئے۔ دلچسپ بات يہ ہے کہ اہل سنّت کے بہت سے عظيم مفسرين، مورخين اور محدثين نے اس آيہ شريفہ کي شاٴن نزول کو حضرت علي(ع) کے بارے ميں نقل کيا ہے۔ اس کے علاوہ اصحاب رسول (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) ميں سے ايک گروہ نے،جن کي تعداد دس سے زيادہ ہے،اس حديث کو خود پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) سے براہ راست نقل کيا ہے(1)۔ ولايت کے موضوع پر قرآن مجيد ميں بہت سي آيات ذکر ہوئي ہيں، ہم نے کتاب کے اختصار کے پيش نظر صرف مذکورہ چار آيتوں پر ہي اکتفا کيا۔


منابع اور مآخذ:

1) مزيد توضيح کے لئے قيمتي کتاب"المراجعات" کا مطالعہ فرمايئے،جس کا اردو ترجمہ"دين حق" کے نام سے ہو چکا ہے۔ ------------------------------ ماخذ:نوجوانوں کے لئے اصول عقائد کے پچاس سبق، آية اللہ مکارم شيرازي۔ مترجم: سيد قلبي حسين رضوي


فراہم کردہ جوابات لازمی طور پر عالمی اہل بیت ^ اسمبلی کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔

نام
ایمیل
رائے